تجھ کو معلوم ہی نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم تیرے چہ…

تجھ کو معلوم ہی نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم
تیرے چہرے کے یہ سادہ سے اچھوتے سے نقوش
میرے تخیل کو کیا رنگ عطا کرتے ہیں
تیری زلفیں تیری آنکھیں تیرے عارض تیرے ہونٹ
کیسی انجانی سی معصوم خطا کرتے ہیں

خلوتِ بزم ہو یا جلوتِ تنہائی ہو
تیرا پیکر میری نظروں میں اُتر آتا ہے
کوئی ساعت ہو کوئی فکر ہو کوئی ماحول
مجھ کو ہر سمت تیرا حُسن نظر آتا ہے

چلتے چلتے جو قدم آپ ٹھٹھک جاتے ہیں
سوچتا ہوں کہیں تو نے پکارا تو نہیں
گم سی ہو جاتی ہیں نظریں تو خیال آتا ہے
اِس میں پنہاں تیری آنکھوں کا اشارہ تو نہیں

دھوپ میں سایہ بھی ہوتا ہے گریزاں جس دم
تیری زلفیں میرے شانوں پر بکھر جاتی ہیں
تھک کہ جب سر کسی پتھر پی ٹکا دیتا ہوں
تیری بانہیں میری گردن میں اُتر آتی ہیں

سرِ بالیں کوئی بیٹھا ہے بڑے پیار کے ساتھ
میرے بکھرے ہوئے اُلجھے ہوئے بالوں میں کوئی
انگلیاں پھیرتا جاتا ہے بڑے پیار کے ساتھ

کس کو معلوم ہے میرے خوابوں کی تعبیر ہے کیا
کون جانے میرے غم کی حقیقت کیا ہے
میں سمجھ لوں بھی اگر اِس کو محبت کا جنوں
مجھ کو اِس عشقِ جنوں خیز سے نسبت کیا ہے

حمایت علی شاعر

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں
1 تبصرہ
  1. Ahsan Hanif کہتے ہیں

    واہ !! بہت عمدہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…