ہمارا کتا، کتا۔۔۔آپ کا کتا، ٹومی!

معظم علی اعوان

پیرس کے سٹیڈیم میں دہشت گرد حملوں میں دیڑھ سو سے زائد لوگ جاں بحق ہوئےاور زخمیوں کی ایک کثیر تعداد نے ہسپتال بھر دیئے۔ پوری دنیا میں غم و غصہ کی شدید لہر اٹھی ہے۔ ہر کوئی لعن طعن اور کفِ افسوس مل رہا ہے۔اس قبیح واقعے کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔

واقعے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے اور پیرس کے بعد امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں بھی اسی طرز کے حملوں کی دھمکی دی ہے۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ یہ حملہ فرانس پر حملہ نہیں، انسانیت پر حملہ ہے۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے ملک میں کچھ مساجد پر پابندی لگانے کی بات کی۔ حملوں کا نزلہ مسلمانوں پہ گرانے کے لئے کڑیاں ہل رہی ہیں۔ فیس بک نے ہنگامی بنیادوں پہ فرانس کے پرچم کی ڈی پی والی ایپلیکیشن بنائی اور فرانس کے حملے کی بازگشت پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ حملے میں ملوث چار دہشت گردوں کا تعلق فرانس سے ہی ہے۔

فیس بک کی طرح پارٹی بننے سے پہلے کچھ حقائق کا جاننا ضروری ہے تا کہ مارک زیبرگ کی طرح تاویلیں نہ دینی پڑیں۔ ہماری دعائیں،ہمدردیاں اور  نیک جذبات ان بے گناہ انسانوں کے ساتھ ہیں جو ان حملوں میں مارے گئے مگر دہشت گردانہ حملوں میں مرنے والے وہ تنہا نہیں تھے۔ دسمبر 2014 میں اسی طرز کا واقعہ پاکستان کے شہر پشاور میں ہوتا ہے۔ عالمی میڈیا خبر ضرور دیتا ہے مگر چیختا نہیں۔ جس دن فرانس پہ حملے ہوئے ٹھیک اسی دن ایک حملہ ترکی میں ہوتا ہے۔ خبر آتی ہے مگر چیخ و پکار نہیں۔ کینیا میں ایک حملے میں درجنوں افراد کے سینے گولیوں سے چھلنی کر دیئے جاتے ہیں مگر میڈیا میں خاموشی۔

ایسی صورت میں ایک سمجھ بوجھ اور دردِ دل رکھنے والا انسان سوچنےپہ مجبور ہو جاتا ہے کہ اگر یہ حملہ انسانیت پہ ہے تو باقی حملے کس پہ تھے؟ الجزائر میں فرانس کے ظلم و ستم کی یادگاریں تک منوں مٹی تلے دبی ہیں۔ عراق،12227226_949345648458794_3338143865484207847_n 12227816_949344885125537_4929755406936780112_n 12246740_949345731792119_236733873643672099_n 12247084_949345618458797_6928658246503395875_n شام، لیبیا، فلسطین، افغانستان میں اتحادیوں بشمول فرانس کے ظلم و ستم اور بر بریت کیا دنیا کے سامنے نہیں؟

داعش کی پیدائش سے عشروں پہلے انسانوں کے سر کاٹ کر اُن کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو بنانے کا دھندا فرانسیسیوں نے شروع کیا تھا۔ یہ کام کسی وقتی انتقامی جذبے کے تحت نہیں بلکہ ایک سرکاری پالیسی کے تحت کیا جاتا رہا ہے۔ جس کا واحد مقصد اپنے غصب شدہ حقوق کے حصول کی جدوجہد کرنے والوں میں خوف اور دہشت پیدا کرنا تھا۔ فرانس والے بدترین مظالم ڈھانے کی عکس بندی کرتے اور پھر محکوم خطوں میں اُس کی نمائش کی جاتی تھی۔ اسی طرح فرانس والے خواتین کی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر ایجاد کرنے کے موجد بھی ہیں۔ پھر اس درندگی کی تصاویر اور ویڈیو بنا کر اُن کی سرکاری سطع پر نمائش بھی کی جاتی رہی ہے۔ یہ کوئی صدیوں پرانی نہیں ہے، یہ عمل 1960 کے عشرے تک جاری رہا ہے۔

قانون ہے کہ ہر عمل کا ردِ عمل ہوتا ہے۔ یہ حملہ داعش نے واقعی انسانیت پہ کیا ہے، کاش انسانیت چھلنی ہو اور انسانیت جاگ جائے، مکروہ کھیل کھیلنے سے باز آ جائے اور دنیا امن کی طرف اپنا قدم بڑھائے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…