خواب تو میری جستجو کے جنگل میں محو تقریب آبلہ پائ…

خواب

تو میری جستجو کے جنگل میں
محو تقریب آبلہ پائی
اوڑھ کر خال و خد پہ تنہائی
اپنی آنکھوں میں دوپہر گھولے
انگلیوں پر لپیٹ کر لمحے
ڈھلتی چھاؤں میں کاکلیں کھولے
سرخ آنچل میں باندھ کر ..خوشبو
بند ہاتھوں میں شام کی مہندی
درم سانسوں میں ہانپتے گھنگھرو
نرم ہونٹوں پہ رت کی رعنائی
ہمراہ موجہ شناسائی
گھر سے بے آسرا نکل آئی
تو نے شاخوں سے چھین کر جگنو
پتے پتے پہ خواہشوں کا دھواں
چھیل کر چھال سبز پیڑوں کی
اپنے اشکوں کی روشنائی سے
چوب شفاف پر بصد حسرت
مدتوں میرا نام لکھا ہے

ہجر کے بے کنار صحرا میں
تیرے ہونٹوں کی پیاس نے اکثر
میری خاطر سراب دیکھے ہیں

” میں نے ایسے بھی خواب دیکھے ہیں ”

محسن نقوی

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…