افسانے اور اعمال نامے – ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

افسانے اور اعمال نامے

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
آج کل پانامہ کے حوالے سے سیاستدانوں کے منہ میں جو بات آتی ہے وہ کہے جارہے ہیں اسے کبھی تو پاجامہ بنا دیتے ہیں اور کبھی افسانہ اور اب تو ایسے ایسے نامے سوشل میڈیا پر آرہے ہیں کہ جن کے بارے میں پہلے زمانے میں عشاق لوگ نامہ بروں سے دوستی کر لیتے تھے کہ اُن کے محبوب کا کوئی خط آیا ہے تو جلدی وصول ہوجاتا تھا اور اگر تاخیر ہے تو نامہ بر سے تکرار بھی ہوتی تھی۔
نامہ بر تو ہی بتا تونے تو دیکھے ہوں گے
وہ کیسے ہوتے ہیں نامے جن کے جواب آتے ہیں
پانامہ کے حوالے سے نامے تو روز مل رہے ہیں کبھی کیپٹن صفدر کے حوالے سے اور کبھی مریم نواز کے حوالے سے، میاں نواز شریف کے خاندان کا کوئی فرد اگر رہ گیا ہے تو وہ مریم نواز کی دادی صاحبہ ہیں جن کو ابھی کوئی جے آئی ٹی سے نامہ وصول نہیں ہوا باقی سب کو مل چکا ہے اور وہ اس کوچہ سے ہو آئے ہیں مگر ان سے کچھ بھی نہیں مل رہا۔ میاں نواز شریف کے دونوں بیٹے اور بیٹی مریم نواز کی بات میں وزن ہے کہ ہم پر الزام لگا یا ہی نہیں گیا اور ہمارا احتساب پہلے کیا جارہا ہے۔ یہ الٹی چال ہماری سمجھ سے بالا تر ہے کہ ہم نے کون سا جرم کیا ہے۔ ہمیں پہلے جرم تو بتایا جائے ہمیں ملزم کی بجائے مجرم بنادیا ہے اور ہمارے خاندان کا یہ احتساب کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ ہم اس نوعیت کے امتحانات سے پہلے بھی سرخرو ہو کر نکلے تھے اور آج بھی پوری ملت پاکستانیہ ہماری پشت پر ہے اگر کہیں سے سازش ہورہی ہے تو وہ پاکستان کو کمزور کرنے والے دھرنے دینے والے ہی ہوسکتے ہیں۔ میرے خیال میں ایسے لگ رہا ہے کہ یہ خاندان بالکل شفاف ہو کر اس آزمائش سے نکلے گا اور اگلے دس سال بھی حکمرانی کے مزے لے گا۔ میاں نواز شریف اگر وزیر اعظم آئندہ نہ بھی ہوئے تو ایک کرشمانی راہنما کا ظہور ہوچکا ہے اور اس کی تربیت بھی شروع ہوچکی ہے اس نے جس اعتماد سے جے آئی ٹی والوں کے سوالوں کا جواب دیا ہے اس پر دنیا انگشت بدانداں ہے ۔ ایک ایس پی خاتون نے بھی بھانپ لیا ہے کہ اس ملک کی مستقبل کی وزیر اعظم کو ہی تو میں نے سلوٹ کیا ہے ۔ جس کی بہادری اور جرأت پر وہ فخر کرتی ہے۔ اسے اب ہر طرف سے ہدف تنقید بنایا جارہا ہے مگر میں تو اسے ایس پی سے آگے کسی اور مقام پر دیکھ رہی ہوں۔ کیوں کہ حکمرانی کے اسلوب جو اس نظام میں وضع ہوچکے ہیں اس سے ابن الوقت لوگوں کے سوا اور کوئی فیض یاب نہیں ہوسکتا ارسلہ پر نظر کرم پڑ چکی ہے اور اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہوگا۔ سابق پولیس آفیسر طاہر عالم نے ارسلہ کے بارے میں اس کی کارکردگی کی بے پناہ تعریف کی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ ایسے ہی کردار کی مالک ہے۔ ملازمت کے آداب سے آگاہ ہے اور حفظ مراتب تو اس کی سرشت میں موجود ہے ۔ اس لئے اب یہ کھیل پانامہ والا ختم ہونے والا ہے اور مخالفین کسی اور کھیل کے میدان میں آرہے ہیں اور وہ میدان ہے انتخابات کا جس میں کامیابی کے امکانات موجود ہ نظام ہی اسے تقویت دیتا ہے وہ کامران ہوں گے جن کی جیبیں بھاری اور دل فراخ ہوگا۔ ناکامی پر انہی کو پچھتانا ہوگا جو اس کا بندوبست کر کے نہیں نکلے تھے اور اُن کے دانا مشیر انہیں یہی کہیں گے ۔ بقول میر
زور و زر کچھ نہ تھا تو بارِ میر
کس بھروسے پر آشنائی کی
میرا آج دیارِ حبیب میں آخری روز ہے انشاء اللہ میں بہت جلد پاکستان کی فضائوں میں سانس لوں گی پھر سے ادبی سرگرمیوں اور ثقاتی مصروفیات میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں گی۔ تب تک کے لئے اجازت اللہ حافظ

 

 

جواب چھوڑیں