میرے ارمان اور تم_ازسماءچودھری

ناول  میرے ارمان اور تم
تحریر  سماءچودھری
۔☆☆☆☆۔
زندگی زہر سے شروع ہوئی ی یاد پہ ختم ہوگئی۔۔
سمجھ ہی نہ آیا کہ جو کھویا وہ میرا تھا یا جو ملا وہ میرا ہے آج سب ہے مگر میرے دل کا سکون نہیں بےقراری ہے
کہ ختم ہی نہیں ہوتی اھل احمد چودھری بڑے پرکشش انداز میں اپنی لکھی کہانی کے چند ورق پلٹ رہا تھا
وہ کہانی بس کہانی تھی۔۔ یا زندگی کا کوئی سفر
وہ بس وقت کے گزارے لمحوں میں گم تھا !
سورج کی پہلی کرن کمرے میں صبح کا علان کر چکی تھی ہر طرف روشنی تھی وتر اپنے بستر پہ پر سکون گہرائی نیند میں گم اتنے میں اموں جان کی آوازیں کانوں میں لگ رہی تھی ۔۔
ہائے ہائے خدا کا خوف کرو لڑکی کتنا سوتی ہو ۔۔ آج کی نسل کو کوئی کام ہی نہیں آتا سوائے اس نیند کے
ہائے غضب خدا کا ہمارئے وقت میں اذان کی آواز بعد میں آتی ہماری اماں پہلےہی جاگا دیتی تھی ۔۔
اور آج کل کے نوجوان کان پہ جوں تک نہیں رینگتی ۔۔ غصے سے بھری آنکھیں لیے وتر نے جلدی سے اپنا بستر چھوڑا اور باتھ روم میں گھس گئی ۔۔
۔☆☆☆☆۔
اموں جان نے وتر کو پالا تھا وہ لاڈلی تھی سب کی
وتر ایاز۔۔ ایاز احمد کی اکلوتی اولاد تھی ۔۔۔
نہایت خوش مزاج لڑکی جس کو زندگی میں کوئی غم نہیں کبھی دکھ کا نام و نشان نہ پایا ۔۔۔
ہر ایک کی فکر کرنے والی پورے گھر کی رونق تھی۔۔
مگر وقت کب کسی کا ہوا ہے جو وتر ایاز کا ہوتا ۔۔!
۔☆☆☆☆۔
اھل یونیورسٹی میں اپنی گلاس کے باہر سیڑھی پر پاؤں رکھے کھڑا تھا حسن بھاک کر آیا ۔۔ بوکھلاہٹ میں بولا
یار تُو نے آج بھی کلا س نہیں لی ۔۔ مس تمنا ثانی تیرا ہی پوچھ رہی تھی کہ اھل کیوں کلاس نہیں لیتا۔۔
کیا مسئلہ ہے کیوں ہر وقت گم رہتے ہو۔۔
پہلے تو ایسے نہ تھے کوئی بات ہے مجھے بتاو ۔۔
(حسن اھل کا بہترین دوست تھا دونوں سکول کے وقت سے ایک ساتھ تھے )
کچھ نہیں حسن بس سکون نہیں ملتا ۔۔ بےقراری سی رہتی ہے کچھ ہے جو پورا نہیں ہوتا۔۔۔
(جب دل زرد رنگوں میں ہو تو چہرے پہ گلاب نہیں کھلتے اھل نے مدھم آواز میں کہا ) تم نے کچھ کہا اھل نہیں حسن کچھ نہیں اور مسکراتے ہوئے دونوں اگلی کلاس کے لیے چل پڑئے ۔۔۔۔۔
۔☆☆☆☆۔
وتر نئی یونی ہے بیٹا اپنا خیال رکھنا ۔۔
لوگوں کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا کب کیا کہہ اور کر جائیں ۔۔ جب ایک باپ اپنی جوان اولاد کو باہر کے موسم میں بدلتا دیکھتا ہے ۔۔۔ تو وہ سکوں میں نہیں رہتا ۔۔ وتر زندگی مسلسل چلنے کا نام ہے۔۔۔
جب روکتی ہے تو بہت کچھ روکتا ہے۔۔۔ اور اس سے آپ کے اپنے آس پاس کے رشتے متاثر ہوتے ہیں۔۔
تم سمجھ رہی ہو نا؟؟
ایاز احمد بڑی شفقت سے اپنی بیٹی کو سمجھا رہے تھے۔۔۔۔
ٹھیک ہے بابا میں آپ کا مان کبھی نہیں ٹورتی ۔۔
مجھے یقین ہے میری جان ۔۔ اب جاو ورنہ پہلا دن یونی میں لیٹ ہو گئی تو اچھا نہیں ۔۔۔
وتر بھاگتے بھاگتے ناشتہ برائے نام کر کے چلتی بنی
اموں جان آوازیں ہی دیتی رہ گئی۔۔۔
۔☆☆☆☆۔
وتر یار آو چائے پی کے آتے ہیں آج موسم دیکھو کتنا پیارا پیارا ہے ۔۔ فاطمہ موسم کو دیکھے منہ سوار رہی تھی (فاطمہ وتر کی بچپن کی دوست اور گھر بھی پاس پاس تھے )
وتر ہنسنے لگ گئی ۔۔ یار آج کلاس لے لیتے ہیں ۔
بعد میں جاتے ہیں ۔۔ سُنا ہے نفسیات کی مم بہت سخت مزاج ہیں اور مجھے آج نہیں کروانی وتر منہ بگاڑتے ہوئے فاطمہ کو کہہ کر اپنی پہلی نفسیات کی کلاس کے لیے جا رہی تھی ۔۔ ابھی وہ کلاس میں داخل ہونے ہی والی تھی دو لڑکے ٹکر مار کر گزارئے وتر نے اچانک دروازے کو پکڑنے کے لیے ہاتھ کیا تو ہاتھ اھل کے بازو پہ ایسے تھا اس کی قمیض پھٹ گئی۔۔۔
اھل عجیب نظروں سے وتر کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اور وتر کی آنکھوں میں آنسو لمبی لائن لگائے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے ۔
۔☆☆☆☆۔
۔☆☆☆☆۔
وتر نے جلدی سے خود کو سنبھالا اور اپنی آنکھیں صاف کی اور سوری کہنے ہی والی تھی اھل نے بہت سخت لہجے میں کہا محترمہ دھیان سے چلا کریں ورنہ منہ کے بل بھی گرسکتی ہو ۔۔۔
وتر کو اب جتنا غصہ اھل کی اس بات پہ تھا (میری کیا غلطی اس میں جو اتنی باتیں سنا کے گیا ہے پاگل انسان) منہ میں ہی برا بھلا کہتی اپنی جگہ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
کلاس میں شور برپا تھا مم آگئی مم آگئی ۔۔
سب اپنی اپنی جگہ کی طرف بھاگے ون کلاس کے بچوں کی طرح۔۔
وتر بھی پاس ہی ایک کرسی پہ بیٹھ گئی۔۔
حسن جا یار جگہ خالی کروا وہ میڈم صاحبہ ہماری جگہ پہ بیٹھ گئی ہے۔۔۔
مم تمنا ثانی کلاس میں داخل ہو چکی تھی اور مجبورن
اھل کو وتر کے پاس والی کرسی پہ بیٹھنا پڑا ۔۔
دونوں منہ میں بڑبڑا رہے تھے ۔۔۔
۔☆☆☆☆۔
ایاز احمد نے وتر کی پرورش بہت لاڈ پیار سے کی کیوں کہ وتر کی والدہ کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا تھا اموں جان نے پالا بڑا کیا۔۔ وہ سب کچھ تھی وتر کی ماں،دادی دوست
سب کچھ اور ایاز احمد کا کوئی تھا نہیں تو اموں جان کو وہ اپنی ماں ہی سمجھتا تھا۔۔۔
وقت سے بحث نہیں کی جاتی ۔۔ اس کا مقدر کا گزارنا سو کسی کا نہیں ۔۔
ایاز احمد کی ایک ہی پریشانی تھی وہ اکثر اموں جان خو کہتے اماں میری حیات میں ہی میری بیٹی کا رشتہ ہو جائے اپنے گھر کی ہو جائے تو سکوں سے مر جاوں گا ورنہ بےسکونی رہے گی ۔۔۔
۔☆☆☆☆۔
فاطمہ باہر بہت بےصبری سے وتر کی کلاس ختم ہونے کا انتظار کر رہی تھی دور سے اسے جب وتر آتی ہوئی نظر آئی تو ہاتھ ہلانے لگی وتر لال پیلی ہو رہی تھی ۔۔
فاطمہ چائے چائے کر رہی تھی وتر بائے بائے ۔۔ فاطمہ تم اب بات کا مزہ لے لو جو میرے ساتھ ہوا کوئی افسوس نہیں نا تم کو وتر معصوم سا منہ بنا کر پوچھ رہی تھی ۔۔ وتر یارا کیا منظر ہوگا نا وہ ۔۔۔ فاطمہ موڈ میں تھی
اور وتر جلدی میں ۔۔۔۔
مجھے ایک دو کتابیں لینی ہیں فاطمہ یار لائبریری کہاں پہ ہے؟ چلو دونوں خوش گپے مارتی جا رہی تھی ۔۔۔
وہی دو لڑکے وہاں موجود تھے پہلے تو دیکھ رہے تھے پھر آوازیں مارنے لگ گئے ۔۔
وتر کوئی جواب نہ دینا چلو ان کا کام کی لوفر بازی ہے
مگر وہ کہاں باز آنے والے تھے ۔۔ وتر نے ایک زور دار تھپڑ رسید کیا ایک کے منہ پہ دوسرا دیکھ کر بھاگ گیا۔۔۔
یہ منظر حسن دیکھ رہا تھا ۔۔ وہ لپکا اھل کی طرف اور ماحول اور گرم ہوگیا جب وہاں دو کی جگہ پانچ چھ لڑکے جمع ہوگئے وتر اور فاطمہ پریشانی میں ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اتنے میں اھل نے اچھی خاصی طبیعت صاف کی ان سب لڑکوں کی سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے
وتر نے مڑ کر دیکھا تو منہ دوسری طرف کر لیا۔۔
فاطمہ نے شکریہ ادا کیا۔۔۔۔۔
۔☆☆☆☆۔
واصف احمد چودھری کے دو ہی بچے تھے ایک بیٹی اور بیٹا ۔۔ واصف احمد چوں کہ یو کے رہتا تھا وہاں ہی دوست کے ہاں اپنی بیٹی کا رشتہ پکا کر چکا تھا۔۔
اھل کی اپنے والدین سے کبھی نا بنی الگ الگ رہنے والا انسان بہت خوبصورت لمبا چوڑا طاقتور جسم کا مالک چمکتے بال ۔۔ بڑی سی آنکھیں ۔۔ گوری اور صاف رنگت
سب تھا اھل احمد چودھری کے پاس ۔۔۔ بس یہ بےسکونی تھی جو در با در لے کے پھر رہی تھی ۔۔ وہ پاکستان میں ہی رہنا چاہتا تھا ۔۔ جبکہ کے والدین کے لاکھ اصرار پہ وہ اب بات ہی نہیں کرتا تھا ۔۔۔
۔☆☆☆☆۔
فاطمہ بڑے غصے بھری آواز لیے وتر کو باتیں سنا رہی تھی کیا تھا جو تم بھی شکریہ کہہ دیتی وہ بندہ ہماری مدد کو آیا تھا وتر تم بھی نا بسس۔۔۔
ہاں ہاں آیا تھا مدد کو ۔۔ آیا بڑا ۔۔ پہلے بھی میری پوری کلاس کے سامنے کی اس نے میں کیوں شکریہ کہوں۔
اچھا اچھا تو یہ وہ تھا ۔۔۔ فاطمہ آنکھ مار کر بول رہی تھی اور دونوں ہنس پڑی ۔۔
۔☆☆☆☆۔
زندگی بہت تلخ ہے خواب دیتی ہے اور کہتی ہے بھاگو مل جائے تو تمہارا ورنہ میرا۔۔۔ اور اکثر انسان بھاگتے بھاگتے اس جگہ پہ آجاتا ہے جہاں سے واپسی ہی ممکن نہ ہو۔۔
محبت بھی کچھ ایسے ہے دور سے خوبصورت پاس سے سفاک تلخ اور بے رحم ۔۔۔۔
اھل یہ کہہ کہ ابھی نیچے اُترنے لگا تھا کہ ایک فرمائش آگئی یار دو شعر کہہ دو تو مزہ آجائے گا ۔۔اھل نے اپنی پرکشش آواز میں ایک نظم کے دو اشعار پڑھے اور تالیوں کی گونج پورے ہال میں شور برپا تھا ۔۔

کبھی جو بےوجہ تم یاد آو سنُو
کبھی تو تم بھی میرے پاس آو
کبھی تو آس بن جاو۔۔۔ سُنو
تم میری پیاس بن جاو
کبھی تو پاس تم آو ۔۔ کبھی تو (ازسماءچودھری)

یہ لائن وتر کا دھیان اپنی طرف کھینچ رہی تھی وہ ان میں گم سی ہو رہی تھی۔۔۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی کون ہے ۔۔
جو اتنا پیارا کہہ رہا ہے ۔۔ مگر ایاز احمد کی کال پہ وہ باہر کی طرف بھاگی ۔۔۔ سوری بابا تھوڑا وقت لگ گیا
کوئی بات نہیں میرے بچے کیسا رہا آج کا دن ۔۔
وتر کار سیٹ سے سر لگے آنکھیں بند کیے بابا بہت تھکان ہوگی۔۔۔۔۔۔
۔☆☆☆☆۔
۔☆☆☆☆۔
اموں جان کھانا تیار رکھے کب سے انتظار کر رہی تھی کہ کب ایاز اور وتر آئیں اتنے میں گاڑی کی آواز پہ اموں جان نے دروازہ کھلا ۔۔۔
۔☆☆☆☆۔
اھل بیٹا کب تک تم یوں ہی زندگی کے ہر رنگ سے بےخبر رہو گے؟ سب کچھ تم کو حاصل ہے اچھا کھانا پینا ہر سہولت ۔۔
تم نماز پڑھنا شروع کرو مسجد جایا کرو ۔۔ اللہ سے دوستی کرو کیوں کہ وہ بڑی ایمانداری سے انسانوں کی دوستی نبھاتا ہے وہ ہر برائی سے پاک ہے وہ کہتا ہے میرا بندہ ایک بار میرا ذکر کرتا ہے میں سو بار کرتا ہوں ۔۔
تم میں بےچینی ہے بےصبری نہیں ۔۔ تم میں حسرت ہے ناامیدی نہیں میرے بچے ۔۔۔ تم کو بچپن سے دیکھا ہے سنبھالا ہے کریم بابا ایک آپ ہی ہو جو مجھے سمجھتے ہو میں کوشش تو کرتا ہوں نا۔۔۔
اھل بچے کیا تمہیں کوئی پسند ہے؟ کریم بابا نے بڑے گہرائے لہجے سے پوچھا ۔۔
نہیں تو میں ۔۔ اور میں کسی کو کر بھی نہیں سکتا محبت
پسند یہ کیا ہے ؟ کریم بابا مجھے الجھن ہوتی ہے ایک انسان کے ساتھ لوگ کیسے رہ لیتے ہیں؟ وہ چائے کے سپ لیتے حیرانی سے پوچھ رہا تھا یا اس بات پہ ہنس ۔۔۔۔۔۔
بچے پیار عام ہے چہرے سے ہو جاتا ہے ، محبت ذرا چہرے سے آگے خوبصورت ہے خوب سیرت پسند کرتی ہے۔۔۔ اور عشق جنون ہے مل جائے تو دل کی لہروں کو سنبھال لیتا ہے ورنہ طوفاں مقابل ہو تو لہرے ابھار دیتی ہے ہر جذبہ ہر درد ہر کرب بڑی ظالم چیز ہے ہجر کا روگ بھی وصل کی بہار بھی ۔۔۔ ہائے زندگی تیرے رنگوں میں کیا کیا ہے کریم بابا نے لمبی سانس لی اور چپ ہوگے
واہ بابا آپ کو تو سب پتہ ہے ۔۔ اھل ہنس رہا تھا
لگتا ہے بڑی گہرا مشاہدہ ہے آپکا۔۔۔
کریم نے اب آنکھیں صاف کی اور مسکرا کر کہا جب تم جیسے بندے کو یہ ہوگا ۔۔۔ تو دیکھ لینا شدت کی آخری حد بھی پار کر جاو گے میرے بچے ۔۔۔
محبت کی فطرت ہے ہونا اور انسان اسی فطرت کا مارا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
سو جاو رات بہت ہوگئی ہے اتنا کہہ کہ کریم تو چلا گیا اھل کے دل دماغ میں نا چاہتے بھی یہ ہی باتیں گھوم رہی تھی
اھل نے تکیہ منہ پہ رکھ کے آنکھیں بند کر لی ۔۔۔۔
۔☆☆☆☆۔
ایاز ۔۔ جی اموں جان کچھ بات ہے آپ پریشان سی لگ رہی ہو آپ ۔۔ ہاں بیٹا بس وہ کوثر کی بیٹی ہے نا فاطمہ ۔۔ ارئے ہمارے اشرف کی بیٹی ۔ جی جی اموں جان ہمارے ہمسائے اشرف صاحب کیا ہوا ان کی بیٹی کو ؟؟
ایاز پوری طرح متوجہ تھا اموں جان کی طرف۔ اس کا رشتہ آیا ہے کوثر کہہ رہی تھی ایاز بھائی کو کہنا ذرا بندوں کا پتہ تو کریں۔۔ اشرف کی تو اتنی جان پہچان نہیں ۔۔
آج کے حالات تم جانتے ہو لوگ اوپر سے کچھ اندر سے کچھ ۔۔ بیٹی کا معاملہ ہے۔۔ ایاز تم پتہ کرو نا بیٹا کسی کا بھلا ہو ۔۔ کل ہم نے بھی اپنی بچی کا کرنا ہے۔۔
جی اموں جان آپ پریشان نہ ہوں میں کل ہی پتہ کرتا ہوں
بہت رات ہو گئی آپ کو سو جانا چاہیے اب ۔۔
دوا لی آپ نے؟ اموں جان نے آنکھیں پھیر لی ۔۔
اموں جان ۔۔۔ آپ وتر سے زیادہ ضدی ہیں ایاز ہنس رہاتھا
چلیں دوا لیں ورنہ کل ڈاکڑ گھر آئے گا ۔۔ نا نا تو یہ ڈاک ٹر
نام کی بلا گھر نہ بلانا ۔۔ میں لے لوںگی دوا ۔۔۔
تم بھی سو جاو صبح جلدی جانا ہے نا ۔۔
جی اموں جان میں بس سونے لگا ہوں اب شب خیر ۔۔
شب خیر بیٹے ۔۔۔۔
۔☆☆☆☆۔
باہر بادل گرج رہے تھے وتر اپنے بستر پہ بیٹھی وہی لائن یاد کر کہ لکھ رہی تھی ۔۔۔ کہ اچانک بارش شروع ہوگئی تیز ۔۔۔۔ بارش
رات کے وقت کی بارش بھی کمال ہوتی ہے نا۔۔۔
نہ نظر آتی ہے نہ گرتی ہوئے نہ روتے ہوئے ۔۔۔ بسس محسوس ہوتی ہے وتر خود سے کہہ رہی تھی ۔۔
بارش کیوں برستی ہے ؟ کیا کوئی یوں بھی اپنا آپ کسی کو دیتا ہے ۔۔۔ بہت سے سوال وتر کے ذہین میں گھوم رہے تھے۔۔۔
موبائل بج رہا تھا ۔۔ اس وقت کون ہے ۔۔
فاطمہ اس وقت ۔۔۔
ہیلو وتر ۔۔ وتر مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنا ہے۔۔ ہاں کہو کیا ہوا رو کیوں رہی ہو تم ۔۔
فاطمہ کیا ہوا ہے ؟؟ وتر بھی پریشان ہوگئی۔۔۔
ابھی امی آگئی ہیں مجھے کل یونی آتے ہی ملنا تم وتر مجھے بات کرنا ہے ۔۔۔ اتنا کہہ کہ فون بند کر دیا اور وتر مسلسل سوچ رہی تھی کہ صبح کب ہوگی۔
۔☆☆☆☆۔
مس تمنا آپ کے کہنے پہ ہم نے یونی کا ٹرپ بھیجنے کا سوچا ہے کافی طالب علم نئے ہیں ایک اچھا موقع ہے سیر و تفریح کا ایک دوسرے کے ساتھ اچھی دوستی کا ۔۔ بشرطیکہ آپ اس بات کا خیال رکھیں موسم ایسا ہے کہ کبھی بھی بارش ہوجائے ۔۔
آپ نے کسی طالب علم کو اکیلے باہر نہیں جانے دینا وہ لڑکا ہو یا لڑکی ۔ جی پرنسپل صاحب ایسا ہی ہوگا۔۔!(جاری ہے)

میرے ارمان اور تم _تحریر سماءچودھری

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 2

Upvotes: 1

Upvotes percentage: 50.000000%

Downvotes: 1

Downvotes percentage: 50.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…