ہم بھی پئیں تمہیں بھی پلائیں تمام رات جاگیں تمام ر…


ہم بھی پئیں تمہیں بھی پلائیں تمام رات
جاگیں تمام رات، جگائیں تمام رات

زاہد جو اپنے روزے سے تھوڑا ثواب دے
مے کش اسے شراب پلائیں تمام رات

تا صبح مے کدے سے رہی بوتلوں کی مانگ
برسیں کہاں یہ کالی گھٹائیں تمام رات

شب بھر رہے کسی سے ہم آغوشیوں کے لطف
ہوتی رہیں قبول دعائیں تمام رات

کاٹا ہے سانپ نے ہمیں سونے بھی دو ریاضؔ
ان گیسوؤں کی لی ہیں بلائیں تمام رات

کلام: ریاضؔ خیر آبادی
گلوکارہ: ملکہ پکھراج

جواب چھوڑیں