"جہاں کھیتوں میں گرمی ناچتی ہے”محمد ارتضیٰ حیدر کا انٹرویو

"جہاں کھیتوں میں گرمی ناچتی ہے”محمد ارتضیٰ حیدر کا انٹرویو

تفکر – آپ کا پورا نام؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔محمد ارتضیٰ حیدر

تفکر – قلمی نام؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔حیدر بطورِ تخلص استعمال کرتا ہوں

تفکر – کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔26 جون 1989 کو شہرِ راولپنڈی میں آنکھ کھولی

تفکر – تعلیمی قابلیت؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔الیکٹرونکس اینڈ ٹیلیکمیونیکیشن انجینئرنگ

تفکر – ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔پرائمری تک گرین ہڈ پبلک اسکول حاجی چوک راولپنڈی سے پڑھا،پھر کے-آر-ایل ماڈل کالج کہوٹہ کے اساتذہ نے مجھ حقیر کو اس قابل بنایا کہ انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کر سکوں۔

تفکر – اعلی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔یونیورسٹی آف لاہور سے انجینئرنگ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی

تفکر – پیشہ؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔ایک پرائیویٹ ٹیلیکام کنٹرکٹر کے ساتھ منسلک ہوں

تفکر –ادبی سفر کاآغاز کب ہوا؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔ادب کا آغاز تو اسی دن ہو گیا تھا جب والد صاحب نے کان میں اذان و اقامت کہی تھی۔شعر کہنا قریباً سال 2011 کے اواخر میں شروع کیا

تفکر – آپ نظم یا غزل میں کس سے متاثر ہوئے؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔ہوش سنبھالا تو گھر میں شہید سید محسن نقوی کی کتب میسر تھیں۔ اقبال، فیض، شکیب جلالی، محسن نقوی شہید، اور ناصر کاظمی کو پڑھا ہے۔ آج کل سرکارِ جون ایلیاء کی شاعری پڑھ رہا ہوں۔

تفکر -کسی شاعر کا تلمذ اختیار کیا؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔ابتداء میں کسی حد تک شہید محسنّ نقوی کی جانب میلان زیادہ تھا۔وگرنہ کوشش کی ہے کہ اپنے انداز میں شعر کہا جائے۔

تفکر – ادب کی کون سی صنف زیادہ پسند ہے؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔شعر و نثر دونوں ہی۔

تفکر – ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔نثر میں گنتی کے 5 یا 6 افسانے لکھے،یا پھر احباب کےلیے تقاریر۔شاعری میں غزل،منقبت،سلام زیادہ کہا ہے۔

تفکر – اب تک کتنی تصانیف شائع ہو چکی ہیں؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔کوئی نہیں

تفکر -نثری تصانیف کی تعداد اور نام؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔کوئی نہیں

تفکر – اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔الحمدللہ ضلع سرگودھا کے ایک عزدار گھرانے سے تعلق ہے۔

تفکر – ازدواجی حیثیت؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔غیر شادی شدہ

تفکر – فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔والد صاحب قبلہ سرکاری ملازم ہیں چھوٹا بھائی چارٹرڈ اکاونٹنسی کا طالبعلم ہے۔

تفکر – آج کل کہاں رہائش پذیر ہیں؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔ہماری ملازمت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہوائی روزی ہے۔تو بس فکرِ معاش کے سلسلے میں جس علاقے میں پراجیکٹ چل رہا ہوتا ہے وہاں موجود ہوتا ہوں لیکن میرا گھر اسلام آباد میں ہے۔

تفکر – بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔خوبصورت یادوں سے مزین ایک حسین گلدستے کا نام بچپن ہے اور اس گلدستے میں سے کسی ایک پھول کا چننا، کارِ محال ہے

تفکر – ادبی سفر کے دوران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔ادبی سفر کے دوران سب سے خوبصورت واقعہ 2 جنوری 2016 کو پیش آیا۔ جب بزمِ مودّت راولپنڈی/اسلام آباد کی جانب سے منعقدہ ایک محفلِ مسالمہ میں جانے کا اعزاز حاصل ہوا اور دعبلِ عصر جناب قبلہ حسنین اکبرؔ صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ یقیناً ایک ناقابلِ فراموش لمحہ تھا۔

تفکر – ادب میں کن سے متاثر ہیں؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔شاعری میں اقبالؔ، فیضؔ، محسنؔ نقوی شہید، شکیب جلالی، اور قبلہ حسنین اکبرؔ۔ جبکہ نثر میں، منشی پریم چند، سعادت حسن منٹو، اشفاق احمد، ممتاز مفتی اور عمیرہ احمد۔

تفکر – ادبی رسائل سے وابستگی؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔چند برس قبل ادبیکا، ادبی جریدے کے مدیرین نے حقیر کی 2 غزلیں چھاپی تھیں۔اس کے بعد نہیں۔

تفکر – ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔ان دونوں چیزوں کے لیے کسی گروپ سے منسلک ہونا ضروری ہے اور میں کسی بھی گروپ کا حصہ نہیں ہوں۔

تفکر – ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔حکومتوں کے پاس ادب کے حوالے سے پالیسی بنانے کا وقت ہی کہاں ہوتا ہے۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ ادباء نے کبھی اپنے لیے کوئی پالیسی نہیں بنائی۔

تفکر – اردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لئیے کوئی پیغام؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔اردو ادب سے وابسطہ لوگوں میں ادب کا ہونا بہت ضروری ہے۔

تفکر – ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔اس مادیت پرستی کے دور میں علم و ادب کی ترویج اور سب سے بڑھ کر مجھ جیسے نئے اور چھپے ہوئے لکھاریوں کا تعارف پیش کر دینا ایک قابلِ تحسین امر ہے جس کےلیے میں آپ کی مکمل ٹیم کا ممنون ہوں۔ مالکِ زمانہؑ آپ کی توفیقاتِ خیر میں اضافہ فرمائیں۔ آمین

تفکر – پہچان شعر یا تحریر؟

محمد ارتضیٰ حیدر۔۔

جہاں کھیتوں میں گرمی ناچتی ہے
وہیں دہقاں کی روزی ناچتی ہے

وہ روتا ہے، ہوا کا لمس لے کر
جو گندم اس کی اپنی ناچتی ہے

جو گڑیا ناچتی تھی گھر کے اندر
وہ اب کوٹھے پہ بیٹھی ناچتی ہے

امیرِ شہر کے گھر ناچیں خوشیاں
مرے گھر بھوک ننگی ناچتی ہے

ہوں جس کے بچے شب بھر بھوکے، اس کی
نگاہوں میں تو روٹی ناچتی ہے

فقیہِ شہر تم فتویٰ لگاؤ
وہ بھوکی ہے، جو لڑکی ناچتی ہے

بڑے صاحب کی بوتل میں اے حیدرؔ
مری پانی کی عرضی، ناچتی ہے

جواب چھوڑیں