ایک پکی رات . گھر کی دیواروں پر دیکھوں چھینٹیں لا…

ایک پکی رات
.
گھر کی دیواروں پر دیکھوں چھینٹیں لال پھوار کی ہیں
آدھی رات کو در بجتے ہیں ڈائینیں چیخیں مارتی ہیں
.
سانپ کی شوکر گونجے جیسے باتیں گہرے پیار کی ہیں
ادھر ادھر چھپ چھپ کر ہنستیں شکلیں شہر سے پار کی ہیں
.
روحیں جیسے پاس سے گزریں ، مہکیں باسی ہار کی ہیں
گورستان کی راہ دکھاتی، کوکیں پہرے دار کی ہیں
.
منیر نیازی

جواب چھوڑیں