سیرتِ طیبہ اور آج کے مسائل

عنوان: سیرتِ طیبہ اور آج کے مسائل

مضمون نگار :آمنہ ولید

حق و باطل کا ٹکراؤ اٹل ہے۔خیر و شر کا چولی دامن کا ساتھ ہے،لیکن دینِ اسلام کے پیروکاروں پر خیر کا غلبہ ہمشہ حاوی رہتا ہے کیونکہ اسلام اعتدال کا دین ہے۔زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے اسلام اپنا واضح اندازِ فکر رکھتا ہے۔لیکن آج ہم لوگوں نے افراط و تفریط کا شکار ہو کر دینِ اسلام کی شکل کچھ سے کچھ بنا دی ہے۔دنیا کی محبت دِلوں میں بسا لی ہے اور اپنی تعلیمات اسلامی بُھلا دی ہیں۔
امتِ مسلمہ کا اصل سرچشمہ اسلامی تہذیب،بہترین اخلاق و اقدار،باہمی ہمدردی،ایثار و قربانی،ہمت و شجاعت،صبر و استقامت اور عفو و درگزر ایسے اوصاف ہیں،جو امتِ مسلمہ کی قوت ہیں اور ان کو کمزور کر کے غیر مسلم اقوام فکری اور نظریاتی یلغار سے امتِ مسلمہ پر غلبہ حاصل کر رہی ہیں۔ہمیں اپنی اقدار کو بچانا ہے۔حق و باطل کی اس جنگ میں جیت صرف جنگی سازو سامان،بہترین افواج سے ممکن نہیں،بلکہ اہلِ باطل کی شکست،انہیں اعلی اوصاف و اقدار کی قوت سے ممکن ہے۔
آج امتِ مسلمہ عقائد و عبادات تک محدود ہو کر اپنے نظریات و افکار،اخلاق و کردار اور عمدہ تہذیب و اطوار کو سمیٹ کر،56 آزاد ممالک کی شکل میں ہر طرح کے وسائل اور طاقت کے باوجود اُسی مقام پر کھڑی ہے،جہاں آج سے سو سال پہلے کھڑی تھی۔آج امتِ مسلمہ پست حوصلہ اور ملغوب قوم کے طور پر دنیا کے سامنے کھڑی ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
"عنقریب ایک وقت آئے گا جب دوسری قومیں اکٹھی ہو کر تم پر ٹوٹ پڑیں گی،جس طرح کھانے والے دسترخوان پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔کسی نے پوچھا : کیا ہم اس وقت قلیل تعداد میں ہوں گے؟آپ نے فرمایا:نہیں تمہاری تعداد تو بہت زیادہ ہو گی۔لیکن تم سیلاب جے اوپر بہنے والے خس و خاشاک کی مانند ہوں گے،اللہ تمہارے دشمنوں کے سینوں سے تمہارا رعب چھین لے گا اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا۔پوچھا گیا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ‘وہن’ کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:دُنیا کی محبت اور موت ( یعنی شہادت) سے نفرت”
ہم یہ بھول گئے ہیں کہ،اسلام کی روشنی،ظلمت کے اندھیروں کو نگلنے کی طاقت رکھتی ہے اور اس طاقت کی بِنا پر پوری دُنیا کے کسی بھی نسل کے باشندے،محض ایک عقیدے کی بنیاد پر ایک ملت کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔لیکن تفرقہ بازی نے مسلمانوں کو تباہ کر دیا ہے،تفرفہ بازی سے اجتتاب بے حد ضروری ہو گیا ہے.
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور پھوٹ نہ ڈالو”
آج امتِ مسلمہ اسلام کے اعلیٰ و ارفع اصولوں و قوانین کو بھول کر بے شمار مسائل سے دوچار ہے۔گھریلو ناچاقیاں،طلاق کی بڑھتی شرح، خواتین کی بڑھتی ہوئی معاشی آزادی،تعلیمی بحران،عالمی میڈیا کی ثقافتی یلغار،قوم پرستی،نا انصافی،مادہ پرستی اور مغرب کی اندھی تقلید غرض سماجی،ثقافتی،سیاسی اور تہذیبی مسائل کی یلغار ہے،جس کے گرداب میں ملتِ اسلامیہ پھنس گئی ہے۔ان درپیش مسائل میں تمام امتِ مسلمہ کو فکری یک جہتی کے ذریعے،اپنی راہیں ایک کرنا ہوں گی۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے:
"اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمانبرداری کرتے رہو،آپس میں اختلاف نہ کرو،ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرتے رہا کرو۔یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے” (الانفال:42)
اتحاد و اتفاق کی بِنا پر،تمام امتِ مسلمہ غیر مسلم طاقتوں کا مقابلہ کر سکتی ہے،کیونکہ کسی بھی ملت کی کامیابی کا راز اتحاد میں ہے۔ہمیں اکیسویں صدی کی دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا،لیکن اپنے سماجی،مذہبی اور ثقافتی ڈھانچے کی حفاظت کرتے ہوئے،اس دوڑ میں شامل رہنا ہے۔
آج کا نوجوان مسلمان اسلام کے اصل رنگ سے ناواقف ہے۔اسلام کی اخلاقی،تہذیبی تعلمات و اقدار کو قدامت پرستی گردانتا ہے۔یہاں مفکر،دانش ور،علماء،صحافی اور مصنف کی ذمہ داری بنتی ہے،کہ وہ اپنی بھرپور کوششوں سے اپنی تحریروں،بیانات میں اسلام کا روشن چہرہ نوجوانوں کو دیکھائیں۔
وہ چہرہ جو زمانے کی گرد نے دھندلا دیا ہے اور اب نوجوان مسلمان کو اسلام کے اصل رنگ سے اجنبیت محسوس ہوتی ہے۔
یہاں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیش گوئی صادق آتی ہے۔
"اسلام جب آیا تو اجنبی تھا،ایک وقت آئے گا،جب یہ پھر سے اجنبی بن جائے گا”
اخلاقیات سے بھرپور تحاریر،ٹی وی پروگراموں میں دینی تعلیم و تربیت،اسوہ حسنہ کو فروغ دیا جائے۔تعلیمی پروگراموں میں ایسی تبدیلی کی جائے،کہ جدید علوم کے ساتھ قرآن و حدیث،سیرتِ طیبہ کو تعلیمی نظام کا لازمی جُز بنایا جائے اور اس کے ساتھ ایسے اساتذہ کا انتخاب کیا جائے،جو طلبہ کو جدید علوم سے آراستہ تو کریں،لیکن ان کے دِلوں میں ایمان کی شمع بھی روشن کریں،تاکہ دنیا کے ساتھ دین بھی شاملِ حال رہے اور طلبہ علم و ہنر کے ساتھ دین و دنیا کی کامیابیاں بھی حاصل کریں۔
 ہم سب پہ لازم ہے کہ اپنے تمام اعلیٰ اوصاف،اسلامی،تہذبی اور اخلاقی اقدار کو اجاگر کر کے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں،جس کی مثال نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دُنیا کے سامنے پیش کی تھی۔
ان مقاصد کے لیے سیرتِ طیبہ ہمارے لیے ایسا روشن راستہ ہے،جس پہ چل کے اپنی اندھیری راہوں کو روشن کر کے،اپنے تمام مسائل کو احسن طریقے سے حل کر سکتے ہیں۔
وہ راستہ جو ہمارے  پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دِکھایا۔آج سے سو سال پہلے کائناتِ عالم کے لیے رحمت و نعمت،ہادی و داعی،مبشر و بشیر،سرکارِ دو جہان نے پیغامِ الٰہی کو دُنیا کے چپے چپے میں پھیلایا۔جن کی صدائے حق آج بھی کائنات کے ذرے ذرے میں گونج رہی ہے اور رہتی دُنیا تک گونجے گی۔جن کا رُخِ انور کائنات پہ روشن ہوا،تو عرب و عجم کے تاریک ایوانوں کو منور کر دیا۔روشنیوں کے سیلاب اُمڈ پڑے اور کائنات کے رخسار دلکشی سے تمتمانے لگے۔
رحمتِ کون و مکان کی منتظم شخصیت نے ہر اُلجھی ڈور کو احسن طریقے سے سلجھایا تو،ہر خاص و عام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گرویدہ ہو گیا۔
 آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دلوں سے جہالت کے اندھیرے مٹا کر علم کی شمعیں روشن کیں۔ثقافتی،سماجی اور تہذیبی اصلاح سے معاشرے کا بگاڑ درست کیا۔انفرادی و اجتماعی طور پر،افراد کی ذہنی اور اخلاقی بہترین تربیت کر کے،ان کو روشن راہوں کا راہی بنایا۔
 مادہ پرستی سے متنفر اور ایمانی دولت سے مالا مال کیا۔حسنِ اخلاق کے زیور سے آراستہ کر کے عفو درگزر کی طرف راغب کیا۔فرقہ پرستی سے نکال کر تمام افراد کو اتحاد و محبت کا، درس دے کر  امامِ کائنات نے ایک مثالی معاشرہ تشکیل کیا۔
 ہمارے تمام معاشی،سیاسی،سماجی،تعلیمی،ثقافتی اور تہذیبی مسائل کا حل سیرتِ طیبہ میں ہے۔سیرتِ طیبہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے امن و امان،اخوت و محبت،عدل و انصاف،افہام و تفہیم کی روشن تصویر ہے۔ بس ضرورت اس امر کی ہے،کہ ہم تزکیہ نفس کے ذریعے اس جھلملاتی تصویر کا بہترین عکس بن کر عالم گیر اور روشن خیال معاشرہ قائم کر سکیں۔
منہ زور مسائل کی یلغار کے سامنے بند باندھنے کی کوئی حکمتِ عملی،اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی،جب تک ہر مسلمان انفرادی طور اپنے گھر سے شمع روشن کرے اور میدان میں اتر آئے۔سیرتِ بنی کو اپنا کے،اپنے خالق کا سچا بندہ بن کے قربِ خداوندی حاصل کرنے والا،اپنے ماں باپ کا نیک اور فرمانبرادر بیٹا،صلہ رحمی کرنے والا،عفو درگزر کرنے والا،راست گو،امانت دار،برائی سے نفرت کرنے والا،امن کا راہی اور اپنے دین کا سچا داعی بن جائے تو ان شاءاللہ!آہستہ آہستہ یہ انفرادی خصوصیات اجتماعی شکل اختیار کر جائیں گی۔سیرتِ طیبہ کو حرزِ جاں بنا لیا جائے،اسی میں امتِ مسملہ کی نجات ہے.

جواب چھوڑیں