اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے تو …

اگر وہ اپنے حسین چہرے کو بھول کر بے نقاب کر دے
تو ذرے کو ماہتاب اور ماہتاب کو آفتاب کر دے

تری محبت کی وادیوں میں مری جوانی سے دور کیا ہے
جو سادہ پانی کو اک نشیلی نظر میں رنگیں شراب کر دے

حریمِ عشرت میں سونے والے شمیم گیسو کی مستیوں سے
مری جوانی کی سادہ راتوں کو اب تو سرشارِ خواب کر دے

مزے وہ پائے ہیں آرزو میں کہ دل کی یہ آرزو ہے یا رب
تمام دنیا کی آرزوئیں مرے لیے انتخاب کر دے

نظر نا آنے پہ ہے یہ حالت کہ جنگ ہے شیخ و برہمن میں
خبر نہیں کیا سے کیا ہو دنیا جو خود کو وہ بے نقاب کر دے

مرے گناہوں کی شورشیں اس لیے زیادہ رہی ہیں یا رب
کہ ان کی گستاخیوں سے تو اپنے عفو کو بے حساب کر دے

خدا نہ لائے وہ دن کہ تیری سنہری نیندوں میں فرق آئے
مجھے تو یوں اپنے ہجر میں عمر بھر کو بیزار خواب کر دے

میں جان و دل سے تصورِ حسنِ دوست کی مستیوں کے قرباں
جو اک نظر میں کسی کے بے کیف آنسوؤں کو شراب کر دے

عروسِ فطرت کا ایک کھویا ہوا تبسم ہے جس کو اخترؔ
کہیں وہ چاہے شراب کر دے کہیں وہ چاہے شباب کر دے

اخترؔ شیرانی

المرسل: فیصل خورشید


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…