ڈاکٹر بشیر بدر ناریل کے درختوں کی پاگل ہوا، کھل گ…

ڈاکٹر بشیر بدر
ناریل کے درختوں کی پاگل ہوا، کھل گئے بادباں لوٹ جا لوٹ جا
سانولی سرزمیں پر میں اگلے برس، پھول کھلنے سے پہلے آ جاؤں گا
گرم کپڑوں کا صندوق مت کھولنا، ورنہ یادوں کی کافور جیسی مہک
خون میں آگ بن کر اتر جائیگی، صبح تک یہ مکاں خاک ہوجائیگا
بید کے زرد مونڈھے پر بیٹھی ہوئی شام نے اٹھ کے بتی جلائی نہیں
روشنی کا فرشتہ بڑی دیر تک دستکیں دے کے واپس چلا بھی گیا
میرے بچپن کے مندر کی وہ مورتی، دھوپ کے آسماں پہ کھڑی تھی مگر
ایک دن جب مرا قد مکمل ہوا اس کا سارا بدن برف میں دھنس گیا
جیسے یہ جانتا ہو طلسمی ہوا اس پرندے کو واپس نہیں لائے گی
خشک ڈنٹھل نے اک فاختہ کی گھنی بند پلکوں کا اس طرح بوسہ لیا
ان گنت کالے کالے پرندوں کے پَر ٹوٹ کر زرد پانی کو ڈھکنے لگے
فاختہ دھوپ کے پُل پہ بیٹھی رہی، رات کا ہاتھ چپ چاپ بڑھتا گیا
آسماں کے سنہرے پھلوں کی طرح شہد سے تھر تھراتا تھا اپنا بدن
ایک دن برف زاروں سے دریا چلے، آنسوؤں کا نمک خون میں گھل گیا
لان میں ایک بھی بیل ایسی نہیں جو دیہاتی پرندے کے پَر باندھ لے
جنگلی آم کی جان لیوا مہک جب بلائے گی واپس چلا جائے گا


جواب چھوڑیں