کچھ شعر ایسے ہوتے ہیں جو مرور ایام کے ساتھ دماغ سے…

کچھ شعر ایسے ہوتے ہیں جو مرور ایام کے ساتھ دماغ سے محو تو ہو جاتے ہیں لیکن حافظہ کے کسی کونے میں ہمیشہ چھپے رہتے ہیں اور کسی دن اچانک یاد آ کر لمحہ بھر کے لیے سوچ کے زاویوں کو منتشر کر جاتے ہیں، ایسا ہی ایک شعر ابھی ابھی حافظہ کے کونے سے نکلا ہے،، آپ احباب کی نذر کرتا ہوں

غموں کی دھوپ کا مارا مسافر
مسرت سے بھرا گھر مانگتا ہے

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی(بھٹکلی)

جواب چھوڑیں