غلام بھیک نیرنگؔ کا یومِ پیدائش September 26, 1876…

غلام بھیک نیرنگؔ کا یومِ پیدائش
September 26, 1876
آج تحریک پاکستان کے رہنما، ادیب، مشہور وکیل،شاعر، سیاست دان اور علامہ اقبالؒ کے دوست سید غلام بھیک نیرنگؔ کا یومِ پیدائش ہے۔
تحریک پاکستان کے رہنما، ادیب، مشہور وکیل،شاعر اور سیاست دان سید غلام بھیک نیرنگ کی تاریخ پیدائش 26 ستمبر 1876ء ہے۔
سید غلام بھیک نیرنگ( میر نارنگ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں ) دورانہ ضلع انبالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کیا ۔اس کے بعد 1899ء میں قانون کی ڈگری حاصل کی اور امبالا واپس چلے گۓ وہاں انھوں نے وکالت کی پریکٹس کی۔اور ممتاز وکیل بن کے ابھرے۔۔اس کے بعد وہ امبالا کے میونسپل کمشنر 1901ء تا 1920ء تک رہے۔ انہوں نے تحریک خلافت، تحریک موالات اور آل انڈیا مسلم لیگ میں فعال کردار ادا کیا بعد میں مرکزی مجلس قانون ساز کے رکن منتخب ہوئے اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ قیام پاکستان کے بعد جھنگ میں کافی عرصہ مقیم رہے ۔1949ء میں وہ لاہور منتقل ہو گۓ۔۔وہ ایک معروف ادیب بھی تھے اور اردو کے ادبی ماہنامے مخزن کے ادارتی امور میںشیخ عبدالقادر کی معاونت کیا کرتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔
تصانیف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"غبار افق”
۔۔۔۔۔۔۔۔
"کلام نارنگ” 1980 پہلا ایڈیشن 1907ء میں اس کے بعد نظر ثانی کر کے دوسرا ایڈیشن 1917ء میں اور تیسرا ایڈیشن 1983ء کراچی سے شائع ہوا تھا۔
16 اکتوبر 1952ء کو سید غلام بھیک نیرنگ لاہور میں وفات پاگئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی
ہم کو اگر میسر جاناں کی دید ہوتی
قیمت میں دید رخ کی ہم نقد جاں لگاتے
بازار ناز لگتا دل کی خرید ہوتی
کچھ اپنی بات کہتے کچھ میرا حال سنتے
ناز و نیاز کی یوں گفت و شنید ہوتی
جلوے دکھاتے جاتے وہ طرز دلبری کے
اور دل میں یاں ہوائے ناز مزید ہوتی
تیغ نظر سے دل پر وہ وار کرتے جاتے
اور لب پہ یاں صدائے ھل من مزید ہوتی
ابرو سے ان کے غمزہ تیر ادا لگاتا
یہ دل قتیل ہوتا یہ جاں شہید ہوتی
کچھ حوصلہ بڑھاتا انداز لطف جاناں
کچھ دغدغہ سا ہوتا کچھ کچھ امید ہوتی
……
آہ! کل تک وہ نوازش! آج اتنی بے رخی
کچھ تو نسبت چاہئے انجام کو آغاز سے
…….
دانہ و دام سنبھالا مرے صیاد نے پھر
اپنی گردن ہے وہی عشق کا پھندا ہے وہی
…….
درد الفت کا نہ ہو تو زندگی کا کیا مزا
آہ و زاری زندگی ہے بے قراری زندگی
……
محو دید چمن شوق ہے پھر دیدۂ شوق
گل شاداب وہی بلبل شیدا ہے وہی
……
میرے پہلو میں تم آؤ یہ کہاں میرے نصیب
یہ بھی کیا کم ہے تصور میں تو آ جاتے ہو
……..
ناز نے پھر کیا آغاز وہ انداز نیاز
حسن جاں سوز کو پھر سوز کا دعویٰ ہے وہی


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…