قبیلے والو . قبیلے والو تمہاری آنکھوں میں جب کبھی …

قبیلے والو
.
قبیلے والو
تمہاری آنکھوں میں جب کبھی آفتاب ابھرے
تو دیکھہ لینا
تمہاری بستی کی کچی پگڈنڈیوں کو
پتھر نگل چکے ہیں
تمھارے چوپال
سنگ بستہ حویلیوں میں بدل چکے ہیں
تمھارے اجلے مکان
آہن مزاج زنداں میں ڈھل چکے ہیں
تمھارے کھلیان
تیل پی کر اگل رہے ہیں دھوئیں کی فصلیں
جہاں پہ اگتے تھے پھول، کھلتی تھیں نکہتوں کی رتیں ہمیشہ
وہاں پہ بارود ناچتا ہے
لہو کی برسات ہو رہی ہے
سحر کی چادر بچھا کے منحوس رات
پنجے پسارتی رات سو رہی ہے
.
قبیلے والو
تمھاری مہماں نوازیوں کی کہانیاں اب
فقط کتابوں میں رہ گئی ہیں
محبتوں کے تمام جذبے
گہن لگے چاند کی طرح ماند پڑ چکے ہیں
تھکے ہوۓ رہروؤں کی آنکھوں میں
نیند کا نور بانٹتے پیڑ جھڑ چکے ہیں
رتوں کے میلے اجڑ چکے ہیں
کسی کی بارات میں ستارے
نہ مرنے والوں کے سوگ میں
آنکھہ نم کسی کی
نہ دل دھڑکتے ہیں آہٹوں پر
نہ انتظار وصال جاناں
جاگتی ہیں اداس آنکھیں
نہ اضطراب شکست پیماں
نہ موسم چاک جیب و داماں
کسی دریچے پہ اب ٹھرتی نہیں ہے
موج صبا کی دستک
کوئی جلاتا نہیں اندھیروں کی صف میں
اپنی انا کی مشعل
کسی کے ماتھے پہ اب ابھرتی نہیں ہے
اجلے دنوں ، نئے دنوں موسموں کی
رخشندہ تر نگارش
.
قدم قدم سج گئے ہیں مقتل
قدم قدم ہے لہو کی بارش
تمھارے رشتوں کی —
آب زر سے لکھی ہوئی مستقل عبارت
تمہاری تنہائیوں کی دیمک نے چاٹ لی ہے
قبیلے والو
تمھاری بستی کے اس طرف
شہد کی ندی سے پرے
بہت دور — دودھ کی نہر کے کناروں پہ
موت منڈلا کے اپنے سوداگروں کے خیمے لگا رہی ہے
قبیلے والو
مجھے نہ جھٹلاؤ
میں نے بے دست و پا ہوا سے یہی سنا ہے
کہ آنے والا ہر موسم قضاء کا موسم
کہ آنے والی ہر ایک ساعت
فنا بہ لب ہے
کہ آنے والا ہر ایک لمحہ
اجل بہ پا ہے
مجھے نہ جھٹلاؤ
اب کے تازہ عذاب اترے تو دیکھہ لینا
قبیلے والو
تمھاری آنکھوں میں جب کبھی آفتاب اترے
"تو دیکھہ لینا ”
.
محسن نقوی

جواب چھوڑیں