فیوچر ماڈرنزم،روایت کی نشاۃ الثانیہ

آزاد حسین آز

اردو  ادب  کا ارتقاء وسعت اور تنوع  مختلف ادبی تحریکوں اور رجحانات سے بہت متاثر رہا ہے-ان تحریکوں کا اردو کی پرداخت و نشوونما میں بہت اہم کردار رہا ہے-اور انھی تحریکات کے زیرِ اثر  اردو پر نکھار آیا اور ہمیں  موجودہ  صورت میں خوبصورت شاعری اور نثر میسر آئیں- خاص طور پر علی گڑھ  تحریک اور ترقی پسند تحریک نے اردو  ادب کو بہت متاثر کیا –روماینت ،جدیدیت اور مابعدازجدیدیت  وہ رجحانات ہیں جن کے تحت  اردو کا عمدہ ادب تخلیق ہوا- علی گڑھ کی تحریک سرسید کی تحریک تھی جو خالصتا ایک اصلاحی تحریک تھی جس کے تحت اس وقت بہترین اصلاحی ادب تخلیق ہوا-اور رومانی رجحان دراصل سرسید کی اسی تحریک کا ردِ عمل تھا جس  میں  فکر سے زیادہ تخیل کی اہمیت تھی اور اس کا مدعا یہ تھا کہ تخیل کو فکر کے تابع کیے بنا اسے اس رو میں بہنا دیا جائے جس میں وہ بہہ رہا ہے-اسی دوران جدیدیت اور مابعداز جدیدیت جیسے رجحانات کے تحت بھی  جوادب تخلیق ہونا شروع ہوا وہ اپنی  ہئت اور ڈکشن کے اعتبار سے بالکل مختلف طرز کا تھا- ایک عرصے تک اردو ادب اسی رجحان کے زیرِ اثر رہا مگر پچھلے کچھ عرصے سے ایک الگ طرز کا ادب تخلیق ہورہا ہے جس کی بنیاد سائنسی منطق اور استدلال پر ہے-اور احباب پریشان ہیں کہ اس رجحان کو کیا نام دیا جائےکیونکہ اس رجحان کے تحت تخلیق ہونے والے شاہکار مابعدازجدیدیت کے قائم کردہ پیمانوں سے بالکل الگ اور اوپر کی چیز ہیں-میں بحیثیت ایک ادبی طالبعلم کے اس بارے میں سوچتا رہا ہوں اور میرا یہ مضمون میری انھی سوچوں کا مظہر ہے-میری رائے کے مطابق مابعدازجدیدیت سے بعد کے رجحان کو ہم فیوچر موڈرنزم یا استقبالی جدیدیت کہہ سکتے ہیں-اس کی موٹی سی تعریف یوں ہوسکتی ہےکہ ادب میں سائینسی عقلیت،منطقیت،استدلال اور معنویت کے ساتھ انسانی جذبات کی گھلاوٹ،چیزوں ،رویوں اور ایکشنز کو دیکھنے کی ایک الگ طرز کا نام فیوچرموڈرنزم ہے-جس میں بین السیاراتی روابط،بین السیاراتی تہذیبی بدلاؤ  اور فیوچرسائینس کی جذبات پر اثرپذیری کو موضوع بنایا جا سکتا ہے اور بنایا جائے  گا-یہ رجحان نہایت تیزی سے نوجوان نسل میں پروان چڑھا ہےاسی رجحان کے تحت نوجوان عمدہ ادب تخلیق کر رہا ہیں –میں سمجھتا ہوں کہ استقبالی جدیدیت  دراصل روایت سے انحراف نہیں بلکہ روایت کا تسلسل ہےاسی لیے اس نے غیرمحسوس طریقے سے ادب کو متاثر کیا ہے-ہماری ادبی دنیا میں نئے پنپنے  والے رجحانات  کے خلاف پہلے پہلے ہمیشہ شدت پسندانہ رویہ  اختیار کیا گیا اور ہمیشہ نوجوانوں پر یہ الزام لگا کہ ان کی سوچ باغیانہ ہےجو طرزِ کہن سے موافق نہیں مگر میرا سوچنا الگ ہے میں سمجھتا ہوں کہ روایت سے انحراف بھی دراصل روایت کی رجعت و بازگشت ہے،میرا ماننا ہے کہ تمام ادبی رجحانات و تحریکات  کے رستے روایت سے ہو کر  جاتے ہیں-روایت وہ پہلا پڑاؤ ہے  جو کسی بھی ادیب یا شاعرکے سفر کا ابتدایئہ ہے-انحراف یوں ہو کہ نوجوان مستعمل بحور سے ہٹ کر کوئی نیا پیمانہ بنائے-یا اس کی نظر میں تلازمہ کا مفہوم الگ ہویا وہ تشبیب و تغزل کے معانی ہی الگ نکال لےمگر ایسا نہیں ہے-جتنے بھی نوجوان تازہ کار ادبی پارے تخلیق کر رہے ہیں ان کے خمیر میں روایت اور اس کا اظہار شدت سے موجود ہےادریس آزاد ،ندیم بھابھہ ، اظہر فراغ،افضل خان،شہزاد قیس،علی زریون،نعیم رضا بھٹی،عمیر نجمی،احمد جہاںگیر،تہذیب حافی،سعد ضیغم،کتنے ہی نام ہے جن کے ہاں روایت پسندی موجود ہے مگر اس کے اظہار کا انداز الگ ہے-میں سمجھتا ہوں کہ فیوچر ماڈرنزم نے روایت کو نئی سانسیں دی ہیں اس کو آکسیجن مہیا کیا ہےوگرنہ بیمار روایت پسندانہ سوچ کھنڈرات میں تبدیل ہونے کو تھی-رساء چغتائی صاحب بھی آج کی نسل کے قوتِ متخیلیہ سے خوف زدہ ہیں اور فرماتے ہیں میں میرو غالب اور حسرت و فیض سے خوف نہیں کھاتا کیونکہ ان شعراء کو جو کچھ کہنا تھا اور موضوعات کو جو رخ دینا تھاوہ دے چکےلیکن میں نئے شعراء سے خوف کھاتا ہوں کہ نہ جانے کون کس وقت کیا لکھ دے اور زندگی کو ناجانے کون سے رخ سے دیکھ لے-لہذا میں نئے شعراء کو بہت غور سے پڑھتا اور سنتا ہوں۔

اسی حوالے سے منظر ایوبی صاحب ایک نجی محفل میں فرما رہے تھےکہ مجھے عجیب حیرت ہے کہ آج کے نوجوان کی شاعری سے بزرگ متاثر ہورہے ہیں-اور نوجوانوں جیسا لکھنے کی کوشش میں ہیں-اسی طرح اور بہت سارے بزرگ شعراء اپنی نوجوان نسل کی قوتِ متخیلہ کے قائل ہوچکے ہیں- یہی وجہ ہے کہ میں کہتا ہون نوجوانوں نے ادب کو نشاۃ الثانیہ عطا کی ہےکیونکہ ادب کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاتااور موجودہ دور کا نوجوان یہی کر رہا ہےموجودہ دور یوں بھی سائنس کا دور ہےلہذا تشبیب و تغزل ، تلازمہ و استعارہ کو محدود پیمانے سے نکال کر نئی جہت عطا کرنا ضروری ہے-صد شکر کے اس کا شعور ہمارے  نوجوان میں شدت سے موجود ہے-اور پھر ٹیکنالوجی نے سوچ کو وسعت دی ہے آج کا نوجوان ہر چیز کو الگ نظر سے دیکھنے لگا  ہے-اس کے تھرل،سسپنس  اور کیوسٹ نے اس کی شاعری کو بھی ٹوسٹی بنا دیا ہے-اس پر مستزاد کچی پینسل اور ربر نے اس کے اندر سے کاٹا پیٹی کا خوف ختم کر دیا ہےاب وہ ایک سوچ کو مختلف رنگ سے لکھتا ہے مٹاتا ہےپھر لکھتا ہے پھر مٹاتا ہےجب تک کہ وہ خود مطمئن نہیں ہوتا –جہاں سائنس نے اس کی سوچ کو نئی جہتیں عطاکی ہیں – وہیں معاشرے کو مادیت پرست بھی بنا دیا ہے- لہذا آج کے نوجوان کو رویوں کی رنگا رنگی پرکھنے کا بھی خوب موقع مل رہا ہے- پچھلے ادوار میں رویے اسقدر خشک نہیں تھےایکدوسرے کا احساس تھاپہچان تھی بلا غرض محبت تھی-لہذا رویوں کی ست رنگی پرکھنے کے مواقع بھی کم تھے اور آج ہر موڑ پر ایک نیا رویہ امتحان لے رہا ہوتا ہےاور شعور کی جس سطح پر آج کا نوجوان ہےوہ یہ رویے نہ صرف  محسوس کرتا ہے بلکہ پرکھنے کے بعد رویے کی تبدیلی کے منطقی انجام تک پہنچتا ہےاور اس کا تدارک کرنے کی سعی کرتا ہےلہذا وہ فردِ واحد کو الزام دینے کے بجائےمعاشرے میں پنپتے اجتماعی رویے کی بات کرتا ہےاور یہی انداز جب اس کی تحاریر میں در آتا ہے تو روایت سے بلکل الگ دکھتا ہےکیونکہ روایت کہتی ہے تھپڑ مارنے والے کو تھپڑ مارو اور آج کا نوجوان سوچتا ہے کہ سامنے والے نے تپھڑ کیوں مارا وہ اس نہج تک کیسے پہنچا کہ اسے تپھڑ مارنا پڑا-کیا محرکات تھے جو اسے اس قدر اشتعال دلا گئے۔

سوچنے کا یہی لگ انداز اس کی شاعری کا بھی خاصہ ہےمیں سمجھتا ہوں کہ ہمارے بزرگوں کو ہم سے خوف زدہ ہونے کے بجائے یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ اب قدیم روایت کی پاسداری ممکن نہیں-لہذا زندہ رہنے کے لیے عصری تقاضوں کی ادب  میں ترویج ناگزیر ہے- کائنات تخلیق ہوئے صدیاں گزر گئیں ہیں، کتنی ہی تہذیبوں کہانی بن گیئں ہیں- کتنی زبانیں تاریخ کے اوراق سے بھی مٹ چکی ہیں- ارتقاء کا سفر جاری ہے-زبانیں تہذیبیں  مٹیں گی تخلیق ہونگی، جس میں جتنی جذب کی طاقت ہوگی وہ اس قدر زندہ رہے گی-سو  منحرفین سے خائف صاحبان کو میرا کہنا یہ ہےکہ انحراف روایت کا تسلسل ہی ہےاور روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش بھی- نوجوان نا صرف روایت کا محافظ ہے بلکہ اس کے لیے غذاکنندہ بھی ہے-تہذیب اس کی ذمہ داری  ہےاور اسے شعور ہے اس ذمہ داری کااس کی تازہ کاری اور جدت عصری تقاضے ہیں یہ وہ لچک ہےجو زبان کے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے- میری بزرگوں سےاستدعا ہے کہ مطمئن رہیں روایت کی باگ ڈور باشعور ہاتھوں میں ہےجو ناصرف اسے زرخیز کر رہے ہیں بلکہ اس کی دائمی حیات کا سبب بھی بن رہے ہیں

 

آزاد حسین آز

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…