بیاں جب کلیم اپنی حالت کرے ہے غزل کیا پڑھے ہے قیام…

بیاں جب کلیم اپنی حالت کرے ہے
غزل کیا پڑھے ہے قیامت کرے ہے

بھلا آدمی تھا پہ نادان نکلا
سناہے کسی سے محبت کرے ہے

کبھی شاعری اس کو کرنی نہ آتی
اسی بے وفا کی بدولت کرے ہے

چھری پہ چھری کھائے جاہے ہے کب سے
اوراب تک جیے ہے، کرامت کرے ہے

کرے ہے عداوت بھی وہ اس ادا سے
لگے ہے کہ جیسے محبت کرے ہے

یہ فتنے جو ہراک طرف اٹھ رہے ہیں
وہی بیٹھا بیٹھا شرارت کرے ہے

قباایک دن چاک اس کی بھی ہوگی
جنوں کب کسی کی رعایت کرے ہے​

(کلیم عاجز)

جواب چھوڑیں