Warning: Use of undefined constant ‘ALLOW_UNFILTERED_UPLOADS’ - assumed '‘ALLOW_UNFILTERED_UPLOADS’' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /home/moazam/public_html/wp-config.php on line 74
چلو . مجھے جنگل پسند آتے ہیں جانِ من گھنے جنگل مِر... - تفکر ڈاٹ کام

چلو . مجھے جنگل پسند آتے ہیں جانِ من گھنے جنگل مِر…

چلو
.
مجھے جنگل پسند آتے ہیں
جانِ من
گھنے جنگل
مِری اِن بستیوں، شہروں سے دُور
گُھپ گھنیرے
راز میں ڈوبے ہوئے جنگل
گھنے جنگل
مجھے جنگل پسند آتے ہیں جانِ من گھنے جنگل
کہ جنگل میں فقط طاقت کا ہی قانون چلتا ہے
جو طاقتور ہے حاوی ہے
ہر اِک شے پر اُسی کا فیصلہ ہے جو بھی تگڑا ہے
یہ میرے شہر اور یہ بستیاں میری
یہاں طاقت تو چلتی ہی ہے پر
طاقت سے بڑھ کر سازشوں کا حکم چلتا ہے
مجھے جنگل پسند آتے ہیں جانِ من گھنے جنگل
کہ طاقت کا تو اپنا خاص اِک انداز ہوتا ہے
زُباں ہوتی ہے اور کچھ ضابطے
اور کچھ اصولوں میں بندھی ہوتی ہے طاقت بھی
مگر سازش
مِرے شہروں مِری ان بستیوں پر زور ہے جس کا
کہ جس کا سکہ چلتا ہے
وہ سازش ہے
تو اس سازش کا کوئی ضابطہ، آئین یا قانون
اس کا کچھ نہیں ہوتا
کہ سازش اصل میں طاقت سے بھی
بَد تر ہے
کَمتر ہے
یہی افسوس ہے مُجھ کو
مِری اِن بستیوں پر سازشوں کا حکم چلتا ہے
تبھی تو بستیوں شہروں سے دل بیزار رہتا ہے
مجھے جنگل پسند آتے ہیں
جانِ من
گھنے جنگل…
چلو جنگل کو چلتے ہیں
.
وصی شاہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں
1 تبصرہ
  1. منزل کی طلاش کہتے ہیں

    بچھڑ گیا وہ جدائی کے موڑ سے پہلے
    کہ اس کے بعد محبت میں صرف خواری تھی

    اور اب تمہیں بھی ہر اک شخص اچھا لگتا ہے
    گئے دنوں میں یہی کیفیت ہماری تھی

    ہمارے چہرے دمِ صبح دیکھتے آ کر
    کہ ہم نے رات نہیں زندگی گزاری تھی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…