چلو . مجھے جنگل پسند آتے ہیں جانِ من گھنے جنگل مِر…

چلو
.
مجھے جنگل پسند آتے ہیں
جانِ من
گھنے جنگل
مِری اِن بستیوں، شہروں سے دُور
گُھپ گھنیرے
راز میں ڈوبے ہوئے جنگل
گھنے جنگل
مجھے جنگل پسند آتے ہیں جانِ من گھنے جنگل
کہ جنگل میں فقط طاقت کا ہی قانون چلتا ہے
جو طاقتور ہے حاوی ہے
ہر اِک شے پر اُسی کا فیصلہ ہے جو بھی تگڑا ہے
یہ میرے شہر اور یہ بستیاں میری
یہاں طاقت تو چلتی ہی ہے پر
طاقت سے بڑھ کر سازشوں کا حکم چلتا ہے
مجھے جنگل پسند آتے ہیں جانِ من گھنے جنگل
کہ طاقت کا تو اپنا خاص اِک انداز ہوتا ہے
زُباں ہوتی ہے اور کچھ ضابطے
اور کچھ اصولوں میں بندھی ہوتی ہے طاقت بھی
مگر سازش
مِرے شہروں مِری ان بستیوں پر زور ہے جس کا
کہ جس کا سکہ چلتا ہے
وہ سازش ہے
تو اس سازش کا کوئی ضابطہ، آئین یا قانون
اس کا کچھ نہیں ہوتا
کہ سازش اصل میں طاقت سے بھی
بَد تر ہے
کَمتر ہے
یہی افسوس ہے مُجھ کو
مِری اِن بستیوں پر سازشوں کا حکم چلتا ہے
تبھی تو بستیوں شہروں سے دل بیزار رہتا ہے
مجھے جنگل پسند آتے ہیں
جانِ من
گھنے جنگل…
چلو جنگل کو چلتے ہیں
.
وصی شاہ

جواب چھوڑیں