مذہب، خدا، محبت اور اقبال – انیتا یعقوب

مذہب خدا اور اس کے بنائے ہوئے فن پاروں سے محبت کا نام ہے۔ مجھے نفرتوں کی باڑ پھلانگنے دو، مجھے تقسیم مت کرو۔ مجھے تو اس پردے سے باہر بھی اس خالق کی دور تک پھیلی ہوئی بارگاہ دکھائی دیتی ہے۔ میرا دل بار بار مجھ سے مخاطب تھا۔پریشانی اور گھٹن کااحساس مجھے ہو رہا تھا۔ حالات اور واقعات دیکھ کر دل اور بھی گھبرا رہا تھاکہ اچانک میری نظر علامہ اقبال کہ اس شعر پر پڑی

راز معنی مرشد رومی کشود

فکر من پر آستانش در سجود

مجھ پر ہر معنوی اسرار مرشد رومی نے کھولے ہیں اور میری فکر ان کے آستان پر سجدہ ریز ہے۔یہ پڑھنے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ آخر مولانا رومی کہ اسرارو رموز کیا ہیں آخر وہ سوچ اور فکر کیا تھی کہ جس نے لاکھوں لوگوں کو ایک کردیا؟ یہ بات کہنا غلط نہ ہوگی کہ اگر رومی نے اقبال کی فکر کو چار جاند لگا دیئے تو اقبال نے بھی رومی کی تعلیمات کوبڑی عقیدت سے دنیا میں متعارف کروایا ۔جس سے ان کے رتبے کو پہلے سے زیادہ سربلندی نصیب ہوئی۔

علامہ اقبال نے اپنی تمام زندگی مولانا رومی کو اپنا رہنما مانا اور ہم مولانا رومی کے چند اشعار کے علاوہ اور جانتے ہی کیا ہیں۔ مولانا رومی کو اپنا رہنما بنانے سے اقبال کی شاعری میں ہمیں وسعت، گہرائی ، سچائی اور ایمان کی پاکیزگی نظر آتی ہے۔ علامہ اقبال نے یورپ سے بھی تعلیم حاصل کی تھی ان کی شاعری میں کئی خیالات Nietsche, Kant ,Hegal ,Goethe کے بھی ہیں۔ اسی لیئے علامہ اقبال نہ صرف شاعر مشرق تھے بلکہ شاعر مغرب بھی تھے۔ہمارے اسکول کالجوں میں جس طرح علامہ اقبال کی شاعری پڑھائی جاتی ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ہمیں اگر معلوم ہو جائے کہ بر صغیر پاک وہند میں کتنے عظیم اولیاء گزرے ہیں کہ جن کی زندگی پر نظر ڈالنے کے بعد مسلمان پھر سے متحد ہوسکتے ہیں۔

یہ جو ہم شکوہ کرتے ہیں کہ آج کل مسلمانوں میں وہ بات نہیں تو جناب اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے عظیم ہستیوں کو بھی غلاف پہنا کر اپنے سے بہہت دور کر دیا ہے۔وقت آگیا ہے کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم جسے اپنا امام بنا رہے چاہے اس کا تعلق مذہب سےہو یا سیاست سے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ اس میں وہ وصف ہیں بھی کہ وہ ہمارہ رہبر یا امام بنیں۔ اور اگر ایسا نہیں تو تاریخ میں کئی ایسے لوگ گزرے ہیں جن کو ہم اپنارہنما بنا سکتے ہیں۔ بقول علامہ اقبال کہ مسلمان کی فطرت محبت ہی کہ بل پر غلبہ پا سکتی ہے اگر مسلمان عاشق نہیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ کافر ہے۔ ایک اور بات جو مجھے یاد آئی کہ علامہ اقبال کی منفرد سوچ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیاتھالیکن مضبوط اور آفاقی سوچ کو آگے بڑھنے سے کوئی نہ روک پایا۔ جناب ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم صاحب ایم اے، پی ایچ ڈی نے ایک رسالہ "اقبال اور ملّا” کے نام سے لکھ کر "بزم اقبال” لاہور کی طرف سے شائع کیا،اقبال نے بے شک ” ملّا ” پر نکتہ چینی کی ہے لیکن ملّا سے ہمیشہ ان کی مراد ” کٹھ ملّا” سے ہے۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح اقبال ایک خاص طبقے کو دین کے لئے خطرہ سمجھتے تھے۔ دو قومی نظریہ بھی مدیان دین اور حامیان شرح کو نہ سمجھ آسکا اور انہوں نے اس تحریک کی شدید مخالفت کی۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں آج کہ دور سچا اور مخلص رہنما تاریخ کی بند کتابوں میں ہی ملے گا کیونکہ جب دین کی حقیقت دلوں میں اور سیرتوں میں باقی نہیں رہتی تو دین فقط چند افسانوں پر مشتمل رہ جاتا ہے۔چلیں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں اک ایسا رہنما ملے جس میں افکار کی بلندی ہو اور جو بلند مقصد میں قربانی دینے میں پیچھے نہ ہٹے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…