کراچی الیکشن ہار کی اصل وجوہات – سکندر حیات بابا

جس طرف بھی دیکھیں ایک طوفان بدتمیزی برپا دکھائی دیتا ہے ، انقلاب ، تبدیلی ، فرسودہ نظام کا خاتمہ ، غربت مہنگائی کرپشن امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے بلند و بالا دعوے جس کسی کا بیان سنیں وہ فرشتہ معلوم ہوتا ہے اور ہر ایک فرشتہ پورے جی جان سے یہ ثابت کرنے میں جٹا ہوا ہے کہ اسکے علاوہ باقی سب شیطان ہیں

بات اس حد تک ہوتی تو چلیں پھر بھی کچھ گزارہ تھا مسلہ تو یہ کہ ان فرشتوں کے چاہنے والے کم عقل انسانوں کی جذباتیت اور سطحی سوچ سے ماحول خراب تر ہوتا چلا جارہا ہے

اب اس سے پہلے کہ میں بھی ان فرشتوں کی مانند جذباتی تقریر کرکے آپ کا موڈ اور دن خراب کردوں چلیں کراچی کے حالیہ بلدیاتی انتخابات کے تناظر میں کچھ زمینی حقائق اور معروضی حالات کا جائزہ لیتے ہوۓ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم کس درجہ احمق قوم ہیں ، احمق بھی ہر دوطرح کے ، کیا انپڑھ جاہل گنوار جو تھڑوں چوپاروں پر بیٹھے سیاسی بحث مباحثہ میں باہم دست و گریباں ہوتے ہیں اور کیا ہی پڑھے لکھے سوٹڈ بوٹڈ جدید ” دانشور ” جو ٹی وی سکرینوں پر سر شام ہر روز کسی بھی معاملے میں منجن فروشی کرتے ہوۓ مبالغہ طرازی کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہیں

کیا واقعی آپ کراچی میں ایم کیو ایم کی جیت پر حیران ہیں ؟

اگر جواب ہے نہیں !

آپ حیران نہیں اور اس حیران نہ ہونے کی وجہ اگر آپ اپنے ”فرشتہ صفت ” لیڈران کے ان الزمات کو قرار دیتے ہیں جو وہ ایم کیو ایم پر دھاندلی کے حوالے سے عائد کرتے رہے ہیں تو زبیدہ آپا کے ٹوٹکوں کی سوگند(خاص کر ان ٹوٹکوں کی جو وہ ہمیشہ جوان رہنے کے حوالے سے بتاتی ہیں ) آپ ان سے زیادہ چول ہیں جو فیس بک پر لڑکیوں کی ڈی پیز والی آئی ڈیوں میں سچی محبت تلاش کرتے ہیں اور اس سچی محبت کے حصول کی خاطر ان کی فرمائشوں پر وقتا فوقتا’ انہیں ایزی لوڈ بھی کرواتے رہتے ہیں

اور اگر آپ کا جواب ہے ہاں آپ حیران ہیں ……. تو میرا سوال ہے کہ یہ حیرت کیوں ؟

آپ ایم کیو ایم کے بارے میں کیا جانتے ہیں ؟

یہ بھتہ خور جماعت ہے ؟ یہ قبضہ گروپ ہے ؟ یہ ٹارگٹ کلرز کی فورس رکھنے والی سیاسی قوت ہے ؟ یہ بوریوں میں لاشیں پھینکے والے لوگ ہیں ؟ یہ ملک دشمن عزائم رکھنے والے غیر ملکی جاسوسوں کا ٹولہ ہے ؟ یہ پاگل جنونی لوگ ہیں جو پاکستان کو اپنا وطن ہی تسلیم نہیں کرتے ؟ وغیرہ وغیرہ وغیرہ

یہ تمام باتیں تو اکثر و بیشتر آپ سنتے ہی رہے ہونگے اور آپ کو یقینا’ اچھی طرح ازبر ہونگی

لیکن اگر پانچ منٹ کیلئے دل بڑا کرکے آنکھیں کھول کر اور دماغ کے بند دریچے وا کرتے ہوۓ اپنے قید ذہن کو آزاد رکھہ کر میری یہ تحریر پڑھنے کا وعدہ کریں تو میں آپ کو تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھاؤں

پورے ملک کی سیاسی جماعتوں کے رجسٹرڈ ورکرز کا ڈیٹا اپنی مرضی کے ادارے سے جمع کرواکر دیکھئے آپ کو سب سے زیادہ پڑھے لکھے لوگ مہاجروں میں اور ایم کیو ایم میں ملیں گے

اپنی مرضی کے کسی بھی غیر ملکی و غیر جانب دار ادارے کو بلوا کر چیک کروالیجئے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں میں سب سے مظبوط تنظیمی ڈھانچہ آپ ایم کیو ایم کا پائنگے

ملک کی تمام سیاسی جماعتوں میں الیکشن کے حوالے جو بھی چیزیں ہوتی ہیں وہ تمام اقدامات اور ضروریات سے ایم کیو ایم کا ایک عام کارکن بھی اچھی طرح باخبر ہے اور ہر ایک کارکن باقاعدہ اسکیلئے ٹرینڈ ہے کہ الیکشن سے تین ماہ پہلے سے لیکر الیکشن کے دن پولنگ سٹیشن اپنے ووٹرز کو پہنچانے اور ان سے درست ووٹ پر دلوانے کیلئے اسے کیا کچھ کرنا ہے

آپ تمام سیاسی جماعتوں کے وصول کیے گئے ووٹ کا ایم کیو ایم کے ووٹ سے موازنہ کیجئے تو جاننیگے کہ سب سے زیادہ خواتین ووٹرز ایم کیو ایم کی ہیں اسی طرح بزرگ ووٹر حضرات کا تناسب بھی ایم کیو ایم کا آپ سب سے اچھا پائں گے

الیکشن سے پہلے باقاعدہ منظم انداز سے خود کمپیوٹرائز ڈ لسٹیں ترتیب دی جاتی ہیں اپنے یقینی ووٹرز کے شناختی کارڈ تک جنگی بنیادوں پر ارجنٹ فارم فل کرتے ہوۓ انہیں بنا کر دیئے جاتے ہیں

الیکشن کے دن سے پہلے پہلے ایس ایم ایس ہو کہ حکومتی ریکارڈ یا پھر معلوم کرنے کا کوئی بھی اور طریقہ ہر ایک ووٹر کے پولنگ سٹیشنز سے متعلق معلومات اور معاملات کو یقینی طور پر کنفرم کرلیا جاتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں آپ کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کا ریکارڈ دیکھ لیں الیکشن والے دن آپ کو ووٹر پریشان حال پھرتے ہوۓ نظر آئینگے انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا انہیں ووٹ کہاں کاسٹ کرنا ہے

ایم کیو ایم علاقہ وائز تنظیمی معاملات کو ڈیل کرتی ہے ہر ایک علاقے میں یہ باقاعدہ ایک دفتر رکھتے ہیں جہاں اہل علاقہ سے جڑے رہتے ہوۓ ان کی شکایات کو سنا جاتا ہے اور ان کی ضروریات کو قریب سے سمجھتے ہوۓ معاملات کو اس کے مطابق چلانے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ آپ کراچی کا کوئی بھی علاقہ بتادیں جہاں تحریک انصاف یا پھر مسلم لیگ نون کا اس طرز پر ایک بھی دفتر قائم ہو ؟ یا پھر عوام سے مسلسل جڑے رہنے کی اور کوئی صورت اختیار کی گئی ہو ؟ ویسے میں زیادہ بدگمانی سے کام نہیں لونگا عین ممکن ہے آپ اڑھائی کروڑ کی آبادی میں مجھے ایک آدھ ایسی جگہ دیکھا کر شرمندہ کرنے کی کوشش کر بھی لیں

لسانی تعصب ،دائیں بازو بائیں بازو کی سیاست ، روشن خیالی ،قدامت پرستی کی وجوہات ،کرپشن ،ٹارگٹ کلنگ امن و امان کی باتیں سب چھوڑ کر اپنے دل پر ہاتھ رکھہ کر ذرا ایمانداری سے بتائیں کیا یہ سب حالات جو اوپر بیان ہوۓ اسکے بعد الیکشن جیتنے کیلئے واقعی ایم کیو ایم کو دھاندلی کی ضرورت تھی ؟

کیا میں آدھا مہاجر ہوں کا نعرہ ہی آپ کا وہ گھوڑا ہے جس پر سوار ہوکر آپ جیت کا جھنڈا لہراتے ہوۓ دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک بڑے شہر کو فتح کرلینگے ؟ کیا سال کے بارہ مہینے ملک کے سب سے بڑے شہر کو نظر انداز کرتے رہنے کے بعد الیکشن سے چند دن پہلے اس شہر میں قدم رنجہ فرما ہوکر وہ بھی اس طرح کے سڑکیں بلاک کرکے شہریوں کو باور کرادیا جائے کہ ” ہم بھی کسی سے کم نہیں ” آپ لوگوں کے دل جیت لینگے ؟

کچھ تنظیمی و انتظامی وجوہات تو یہ تھی جو آپ نے پڑھیں ، لیکن ایم کیو ایم سے ہار نے کی ایک وجہ اور بھی ہے ایک ایسی وجہ جسے سمجھے بغیر آپ ہمیشہ ہارتے ہی رہینگے

کیا آپ سال کے کسی اور مہینے جب مچھر کالونی کی خواتین بالٹیاں اٹھائے سڑکوں پر پانی کی تلاش میں نکلی ہوئی تھیں ان کے ساتھ غم گساری کرنے آئے ؟

جب آگرہ تاج کالونی کی سڑکیں خوف سے ایک ایک ہفتہ ویران رہیں، بہار کالونی کے سکول بند رہے ،گلستان کالونی کے بازار اجڑ گئے ، جوڑیا بازار کے تاجر ملک چھوڑ کر جانے لگے ، سولجر بازار کے دوکاندار اپنی دوکانوں کو بڑے بڑے تالے لگاکر گھر بیٹھ گئے ، صدر کی نا ختم ہونے والی طویل ترین مارکیٹوں میں تھر کے کسی دور دراز گاؤں کی طرح خاک اڑنے لگی ، جب لوگ سر شام گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے ، جب دن دھاڑے لوگ گھروں کے دروازے لاک رکھنے لگے اور بچوں کو کھیلنے واسطے بھی گلی میں جانے سے روک دیا گیا تو آپ اسلام آباد کی گلیوں میں ڈھولک کی تھاپ پر نیا پاکستان بنانے میں مصروف تھے آپ ان کے ساتھ نہیں تھے

معذرت چاہتا ہوں محترم انصاف کے ترازو کو میرے دروازے پر لا رکھنے والے بھائی ، آپ کو فلسطین کے مظلومین نظر آتے ہیں کشمیر کا غم بھی ستاتا ہے بوسنیا کے حالات بھی آپ کو غمگین رکھتے ہیں مجھے ان سب باتوں پر کوئی اعتراض بھی نہیں، میں آپ کے جذبہ ایمانی کی قدر کرتا ہوں لیکن میرے دوست یہ ترازو میرے گھر کی چوکھٹ سے اٹھا لے جاؤ ، جس دن تم کسی ایک بے گناہ کے قتل پر بھی کراچی میں دھرنا دیکر بیٹھ جاؤگے اور انصاف کے حصول کے بغیر اٹھنے سے انکار کردوگے صرف سیاسی بیانات پر مجھے نہیں ٹرخاؤگے میں خود اپنی ماؤں بہنوں کے ساتھ چل کر تمھارے ترازو کے پلڑے میں اپنے ووٹ کا وزن ڈال آؤنگا

الیکشن کے ہفتے میں لیاری کی سڑکوں پر آکر آپ نے میرا دل نہیں جیتا میرے زخموں پر نمک پاشی کی ہے مجھے عام دنوں میں بھی اپنے علاقے میں آپ کی ضرورت ہے اگر آپ میری اس ضرورت کو سمجھ گئے تو کسی کا خوف مجھے میرے ووٹ کے حق کو حق طور پر استعمال کرنے سے نہیں روک سکےگا اب آپ کی مرضی یا تو میری بات کو سمجھ لیں یا پھر ہمیشہ کی طرح دھاندلی کا ورد جاری رکھیں امید کرتا ہوں یہ تکرار آپ اکیلے ہی نہیں کرینگے ہمیشہ کی طرح آپ کے چاہنے والے جذباتی لوگ بھی اس وظیفے کا ورد جاری رکھینگے

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…