میاں صاحب نادان دوستوں کے در میاں

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف ابھی تک نادان دوستوں، خود غرض وزیروں اور مفاد پرست ٹولے کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں اور یہ لوگ اپنے قائد کو اس منزل پرپہنچا کر دم لیں گے جہاں سے لوگوں نے واپسی ہوتے نہیں دیکھی خود غرضی کی بیماری میں مبتلا شفا یابی ممکن نہیں ہے وہ حر ص و آز میں رہ کر ہی خوش رہتے ہیں۔ خوشامدی ٹولے سے نجات پائے بغیر میاں صاحب کا قبلہ درست نہیں ہوسکتا اور اس وقت جو انہوں نے دل میں ٹھان رکھی ہے اس کے نتائج بھی بہتر نہیں ہوں گے۔ سینیٹر مشاہد اللہ جن پر میاں صاحب کی نوازشات و الطافات کا ابرِ رحمت مسلسل برس رہا ہے وہ اپنے محسن کے سامنے حق بات بھلا کیسے کہہ سکتے ہیں۔ واقعی مشاہد اللہ اگر میاں صاحب کے پائوں دھو دھو کر پیتے رہیں تب بھی وہ اُن کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتے مگر وہ پوری قوم کو میاں صاحب کے پائو ں دھو دھوکر پینے پر زور نہ دیں۔ اس وقت تو میاں صاحب کا معاملہ بہت ہی خطر ناک ہے اور خوشامدی ٹولہ اُن کو حوصلہ دے رہا ہے کہ میاں صاحب قدم بڑھائو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور وہ اس وقت تک ساتھ ہیں جب تک میاں نواز شریف کی وفاق اور صوبہ پنجاب میں حکومت قائم ہے اور یہ حکومتیں تو آنی جانی ہوتی ہیں اصل لیڈر شپ تو عوام کے دلوں میں زندہ رہتی ہے۔ پروٹوکول بھی ایک ایسا نشہ ہے یہ اگر موت کے منہ میں بھی لے جائے تو ایسے لیڈر جانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ حکومت کا سایہ اس وقت میاں صاحب کے ساتھ ساتھ ہے اور انتظامیہ اپنی ہے ۔ پولیس اپنی ہے اس لئے کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ مریم نواز انصاف کو مظلوم قرار دے رہی ہے اور اپوزیشن پارٹی کے راہنمائوں کی طرف سے میاں نواز شریف کو آگاہ کیا جارہا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کو بھی اسی طرح نکالا گیا تھا اور آپ نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ سڑکوں پر نہ آئیں بلکہ عدالتوں سے انصاف کے حصول کی جد و جہد کریں مگر آج وہ خود اس پر عمل نہیں کررہے ۔ عدالتوں کے تقدس کو پامال کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہوئی۔ اصل وزیر اعظم تو اس وقت میاں نواز شریف ہیں جن کو عباسی صاحب سے زیادہ پروٹوکول مل رہا ہے ۔ میاں نواز شریف کے نادان دوستوں کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اگر وہ انہیں ایسی تحریک نہ دیں تو اُن کا کام بھی ٹھپ ہوجاتا ہے۔ اگر یہ حکومت نہ رہی تو پھر کیا ہوگا بقول غالب یہی ہوگا کہ

بھرم کھل جائے ظالم تیری قامت کی درازی کا
اگر  اس   طرۂ  پر  پیچ  کا  پیچ  و  خم   نکلے

لیڈر کی خصوصیات تو یہ ہیں کہ وہ سچ بولے، دیانت دار ہو عدالت نے آپ کو جھوٹا اور بددیانت قرار دے دیا ہے۔ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ آپ پر جب وزارت عظمیٰ میں ہوتے ہوئے الزامات لگے تو آپ مستعفی ہوجاتے اور آج یہ ذلت و رسوائی نہ دیکھنی پڑتی۔ کاش میاں نواز شریف نپولین بونا پارٹ کا یہ قول پڑھ لیتے اور عبرت حاصل کر تے کہ نادان دوستوں کی وجہ سے کتنی اذیت ایک دانا کو ملتی ہے ۔ بونا پارٹ نے کہا تھا کہ میں کسی دانا دشمن کے ساتھ پوری زندگی جیل رہ سکتا ہوں مگر کسی نادان دوست کے ساتھ پندرہ منٹ جنت میں نہیں رہ سکتا۔ اس وقت میاں نواز شریف نادانوں کے درمیان گھر گئے ہیں اور دوستوں کے مشورے اور حکمت عملی کے جال میں پھنستے جارہے ہیں۔ اب انہیں اس سوال کا جواب مل گیا ہے کہ مجھے کیوں نکالا ۔ عدلیہ کا جواب آگیا ہے اس لئے مجھے اس کی وضاحت کی زیادہ ضرورت نہیں ہے ۔ تاریخ عبرتوں سے بھری پڑی ہے جن سے ہم سبق حاصل نہیں کرتے اور وہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں جو عقل و دانش رکھتے ہوں۔ ہمیں اللہ کے عذاب کا ادراک ہی نہیں ہے ۔ ہم خوف و حزن میں مبتلا کیوں نہیں ہوتے ابھی میں فیس بک پر سورہ المعارج کی 70 کی آیت نمبر 28 پڑھ رہی تھی اور میرے رونگھٹے کھڑے ہوگئے ہیں کہ ’’ہم نے اللہ کے عذاب کو سمجھا ہی نہیں بلا شبہ اُ ن کے رب کا عذاب ایسا نہیں کہ اُس سے بے خوف ہوا جائے ۔

جواب چھوڑیں