آئو کہ سر اُٹھا کے چلیں

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

قرضوں میںجکڑی ہوئی، جاگیرداروں کے چُنگل میں پھنسی ہوئی ، حکمرانوں سے بُری طرح لٹی ہوئی قوم کی مظلومیت پر قلم اٹھائوں یا ا س نظام کی تبدیلی کی بات کروں، روشن و تابناک دور میں کتنی بُری طرح ہم لُٹ رہے ہیں اور رہزن کو دعائیں دے رہے ہیں یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ ہم معاشرے میں سر اٹھا کر کب چل سکیں گے۔ یہ بالکل ہوسکتا ہے اگر 20کروڑ پاکستانی عوام اپنے دل میں یکساں آرزو پیدا کر لیں کہ ہمیں اس نظام میں زندگی نہیں کرنی ہے کیونکہ اس میں انسان شرف انسانیت سے بھی محروم ہوجاتا ہے اور حیوانوں جیسی زندگی بسر کر نے کے لئے تو یہ نظام بالکل ٹھیک ہے جس میں لوگوں کو ہانکا جارہا ہو۔

ہماری غیرت و حمیت ختم کی جارہی ہے اور ہمیں بیرونی قوتوں نے ذہنی غلام کی زنجیروں میں بری طرح جکڑ دیا ہے اور ان زنجیروں کو توڑنے والا نسخہئِ کیمیا ہمارے پاس موجود ہونے کے باوجود ہم غیروں کے نظریات اور انگریز کے قانون کو حرزِ جاں بنائے ہوئے ہیں ۔ اگر ہم نے عزت اور تکریم کی زندگی بسر کرنی ہے تو اس کا ہمارے پاس بڑا ہی شافی علاج موجود ہے ۔ دنیا بھر کے غموں سے نجات دینے والا صرف اور صرف قرآنی نظام ہے جس میں کوئی بھی جاندار خواہ وہ بکری کا بچہ ہو یا کتے کا بچہ وہ بھی بھوکا نہیں رہ سکتا۔ ہمارے ماہرین معاشیات کی عقلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے جو ہمیں اس بات کی تبلیغ کرتے ہیں کہ دنیا میں کوئی بھی ایسا مثالی معاشرہ نہیں ہے جو سود سے نجات حاصل کر سکے اس لئے ہمیں موجودہ نظام کی خرابیوں کے باوجود اس کے ساتھ چمٹا رہنا چاہیے۔ اس لیے کہ پوری دنیا کا نظام اسی طرح چل رہا ہے۔ اس لئے یہ لوگ اپنی مشاورتی تجاویز سے اس نظام کو طول دے رہے ہیں اور وہ وقت اب بالکل قریب آگیا ہے اور یہ نام نہاد ماہرین معاشیات اس کو شرمندہ تعبیر ہوتے ہوئے دیکھ کراُن کو سبکی ہورہی ہے اوروہ رسوا ہورہے ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہم سب لوگوں نے اپنی قیادت کا چنائو کرتے وقت بے شمار غلطیاں کی ہیں او رآج اس کا ہم خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ مری میں گورنر ہائوس کے ٹائلٹ میں سونا لگاہوا ہے اور عام شہری کے لئے رہنے کو گھر نہیں ہے اور سامان پرورش سے محروم فاقوں میں زندگی بسر کر رہا ہے ۔ حضرت عمر ؓ کے دور میں تودریائے نیل کے ساحل پر اگر کوئی کتا بھی بھوکا مرتا تو اُن کی باز پرس ہوتی مگر یہاں آپ دیکھیں انسان خود کشیاں کر رہا ہے اور اس کے لئے حکومت کچھ بھی نہیں کر رہی ہے اور عوام سے ٹیکس بھی لیا جارہا ہے اور زکوٰۃ بھی ۔ اپنی عیاشیوں کے لیے یہ پیسہ صرف ہورہا ہے اس کی باز پرس دنیا میں اگر نہ ہوئی تو آخرت میں ظالم و جابر یہ لوگ بچ نہ پائیں گے۔ میاں نواز شریف سابق وزیر اعظم نے عام آدمی کو سہولت اور ضرورت کے لئے کچھ نہیں کیا اور آج اُن کو جن مصائب و آلام کا سامنا ہے یہ مکافاتِ عمل ہے اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا گیا اس کا جواب اُن کے مشیروں ، وزیروں اور قریبی دوستوں کے پاس موجودہے مگر وہ انہیں نہیں بتا رہے ۔ اُن کو صرف سب اچھا کی تصویر دکھا رہے ہیں۔ اگر ہماری عوام اپنے لیڈر کا درست اور صالح انتخاب کرلیں تو ساری بیماریاں دور ہوسکتی ہیں ہمیں سر اٹھا کر چلنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس نظام کی طرف رجوع کریں جن میں سہولت اور ضرورت کے اسباب سب کے لئے یکساں ہوں ۔ ہمارے سیاستدانوں نے ہمیشہ غلطیاں کی ہیں اور جمہوریت کی پاسداری کی آڑ میں اپنی جائیدادیں بڑھانے میں لگ جاتے ہیں اور اس وقت ہماری معاشی صورتِ حال جتنی مخدوش ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی اور ہمارے معاشی ماہرین بہت جلد عوام کے سامنے ننگے ہوجائیں گے کیونکہ اُنہیں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پر بھروسہ ہے مگر میں سمجھتی ہو کہ یہ وقت ہمارے لیے بہت سنہری ہے کہ ہم بیرونی قرضہ جات سے نجات حاصل کرکے اپنی آزادی اور خود مختاری کی دولت سے فراز ہوکر سر اُٹھا کر چل سکیں

جواب چھوڑیں