یہ ہے میکدہ یہاں رِند ہيں یہاں سب کا ساقی اِمام ہے…

یہ ہے میکدہ یہاں رِند ہيں یہاں سب کا ساقی اِمام ہے
یہ حرم نہیں ہے اے شيخ جی یہاں پارسائی حرام ہے

جو ذرا سی پی کے بہک گیا اُسے میکدے سے نِکال دو
یہاں تنگ نظر کا گُزر نہیں یہاں اہلِ ظرف کا کام ہے

کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے
مگر اِس پہ کوئی کرے بھی کیا یہ تو میکدے کا نظام ہے

یہ جنابِ شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے
جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے

اِس کائنات میں اے جگرؔ کوئی اِنقلاب اُٹھے گا پِھر
کہ بلند ہو کے آدمی ابھی خواہشوں کا غُلام ہے

جگرؔ مرادآبادی

المرسل: فیصل خورشید


جواب چھوڑیں