(داغ دہلوی) 1831- 1905 سب لوگ جدھر وہ ہیں اُدھر دی…

(داغ دہلوی)
1831- 1905
سب لوگ جدھر وہ ہیں اُدھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
کیوں کفر ہے دیدارِ صنم حضرتِ واعظ
اللہ دکھاتا ہے، بشر دیکھ رہے ہیں
خط غیر کا پڑھتے تھے، جو ٹوکا تو وہ بولے
اخبار کا پرچہ ہے، خبر دیکھ رہے ہیں
کچھ دیکھ رہے ہیں دل بسمل کا تڑپنا
کچھ غور سے قاتل کا ہنر دیکھ رہے ہیں
تیور ترے اے رشکِ قمر دیکھ رہے ہیں
ہم شام سے آثارِ سحر دیکھ رہے ہیں
پہلے تو سنا کرتے تھے عاشق کی مصیبت
اب آنکھ سے وہ آٹھ پہر دیکھ رہے ہیں
میرا دلِ گم گشتہ جو ڈھونڈا نہیں ملتا
وہ اپنا دہن، اپنی کمر دیکھ رہے ہیں
کوئی تو نکل آئے گا سر بازِ محبت
دل دیکھ رہے ہیں وہ، جگر دیکھ رہے ہیں
ہے مجمعِ اغیار، کہ ہنگامۂ محشر
کیا سیر مرے دیدۂ تر دیکھ رہے ہیں
اب اے نگہِ شوق نہ رہ جائے تمنا
اس وقت اُدھر سے وہ اِدھر دیکھ رہے ہیں
ہر چند کہ ہر روز کی رنجش ہے قیامت
ہم کوئی دن اس کو بھی مگر دیکھ رہے ہیں
نیرنگ ہے ایک ایک ترا دید کے قابل
ہم اے فلکِ شعبدہ گر، دیکھ رہے ہیں
کب تک ہے تمہارا سخنِ تلخ گوارا
اس زہر میں کتنا ہے اثر دیکھ رہے ہیں
پڑھ پڑھ کے وہ دم کرتے ہیں کچھ ہاتھ پر اپنے
ہنس ہنس کے مرے زخمِ جگر دیکھ رہے ہیں
میں داغؔ ہوں مرتا ہوں ادھر دیکھیے مجھ کو
منہ پھیر کے یہ آپ کدھر دیکھ رہے ہیں


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…