ہم کبھی موت سے غافل نہیں ہوسکتے۔ وہ ہر دم ہمارے سا…

ہم کبھی موت سے غافل نہیں ہوسکتے۔ وہ ہر دم ہمارے ساتھ رہتی ہے۔
"موت سے بھاگنے والا موت کی طرف ہی بھاگتا ہے۔”
یہ ہمدم دیرینہ ہے۔ اس سے نجات محال ہے۔ البتہ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہمیشہ اس سے خائف رہیں یا اسے اپنی بہتری اور فائدے کے لیے استعمال کریں۔
موت سے ہمیں زندگی کے بنیادی مسائل کے روبرو لاکھڑا کرتی ہے۔۔۔ "کیا مجھے من مانی کرنی چاہیئے؟” یا "دوسروں کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا چاہیئے؟”
کیا زندگی میں کوئی شے اہم بھی ہے؟ ایسے بے شمار سوالات موت کے تصور کے ساتھ ہی ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ ممکن ہے آپ کا جواب یہ ہو کہ جیو، موج اڑاؤ، محبت کرو کہ یہی زندگی ہے۔
موت دو طریقوں سے ہم پر اثر انداز ہوتی ہے۔ وہ ہمیں خوف زدہ کرسکتی ہے۔ زندگی سے بے زار کرسکتی ہے۔ ترک دنیا کا درس دے سکتی ہے۔ یا پھر وہ ہمیں زندگی کے ہر لمحے کو قیمتی تصور کرنے اور بھرپور انداز میں زندہ رہنے کا حوصلہ بھی فراہم کر سکتی ہے۔

لیو ٹالسٹائی نے "ایوان ایلچ کی موت” کے عنوان سے ایک بہت ہی خوبصورت کہانی لکھی ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار ‘ایوان ایلیچ’ ہے۔ وہ پوری زندگی اپنے آپ کو دوسروں کی پسند کے مطابق ڈھالتا رہا۔ اس سلسلے میں اس نے اپنے جزبات و احساسات بری طرح کچل دیے۔ اپنی حقیقی شخصیت پر نقاب ڈالے رکھی۔ اس کی زندگی کے آخری ایام ایک شفاخانے میں بسر ہوئے۔ وہاں تنہا بیٹھ کر وہ اپنے ماضی کا جائزہ لیتا ہے اور اب اسے حقیقت اور فریب میں فرق محسوس ہوتا ہے؛

"ہوسکتا ہے میری ساری زندگی ہی فضول بسر ہوئی ہو۔” ایوان ایلیچ نے سوچا۔ اسے خیال آیا کہ شاید اس نے ساری زندگی خود سے جنگ کی ہے۔ اس کے احساسات، اس کے جذبات ، جسے اس نے بے دردی سے کچل رکھا تھا، اب اپنی اہمیت آشکارہ کرنے لگے تھے۔ باقی سب کچھ اسے فریب نظر آنے لگا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کے پیشہ ورانہ فرائض، اس کا سارا نظامِ حیات، خاندان، سماجی و ریاستی مفادات سب کے سب فضول تھے۔ اس نے ان تمام جیزوں کا دفاع کرنے کی کوشش کی، مگر فوراً ہی اپنی حماقت کا احساس ہوگیا۔ یہ سب باتیں تو واقعی فضول تھیں۔۔۔ ”

بے بس ایوان ایلچ کے حسرت ناک انجام میں ہمارے لیے کئی سبق پوشیدہ ہیں۔ اپنے احساس و جذبات کی قدر کیجیئے۔ اپنی حقیقی ذات کی نشونما کیجیئے۔ زندگی فانی ہے۔ جند روزہ ہے تو پھر ہمیں اسے بھرپور انداز میں بسر کرنا ہوگا۔ اس کے ایک ایک لمحے کی قدر کرنی ہوگی۔ تاکہ ہم اس احساس کے ساتھ موت کا سامنا کرسکیں کہ ہم نے زندگی ضائع نہیں کی۔ ہم نے اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ استعمال کیا ہے۔ اور یہ کہ ہماری زندگی مایوسی، نامرادی، اور ناکامی سے عبارت نہیں تھی۔
-Wayne. W. Dyer


بشکریہ

ہم کبھی موت سے غافل نہیں ہوسکتے۔ وہ ہر دم ہمارے ساتھ رہتی ہے۔ "موت سے بھاگنے والا موت کی طرف ہی بھاگتا ہے۔"یہ ہمدم دیر…

Posted by Yasir Habib on Wednesday, March 29, 2017

جواب چھوڑیں