محبت ”ماں مجھے اب یقین ہو گیا ہے“، وہ لڑکی آنسوؤں…

محبت

”ماں مجھے اب یقین ہو گیا ہے“، وہ لڑکی آنسوؤں کیساتھ روتے ہوئے بولی ”خدا ہے اور وہ محبت سے بھرا ہوا ہے“۔
”تمھیں یہ یقین کیسے ہوا؟“
”میں نے اسے دیکھا اور اس نے افلاک کی ان بلندیوں سے مجھ سے بات کی جو دنیا کی خوبصورت ترین جگہ ہے“۔ لڑکی نے اتنے تیقن اور عقیدت سے یہ بات کی کہ اسکی ماں نے وہ چھری جس سے وہ پیاز چھیل رہی تھی اس لڑکی کو ہلکے سے اسے چبھو دی۔
یہ لڑکی ابھی بہت کم عمر ہے، معصوم اور بے گناہ ۔ لیکن اسکی اتنی بری حالت ہے کہ یہ چند سکّوں کے لئے گلیوں میں بھیک مانگتی ہے۔ کچھ عرصہ میں یقیناً اسکو اپنا تن بیچنا پڑے گا۔ تب اسکا یہ پرشکوہ اور محبت سے بھرا خدا اسے اپنا تسلیم بھی نہیں کرے گا۔ یہ اپنے حصہ میں آئے اس کردار کی وجہ سے جہنم میں جائے گی، اسکی ماں نے دسویں بار چھری اسے چبھوتے ہوئے سوچا۔

Story: Love
Writer: Edgar Omar Aviles
Translated in English: Toshiya Kamei
Country: Mexico
Book: Flash Fiction International
Page No. 67


بشکریہ

محبت”ماں مجھے اب یقین ہو گیا ہے“، وہ لڑکی آنسوؤں کیساتھ روتے ہوئے بولی ”خدا ہے اور وہ محبت سے بھرا ہوا ہے“۔”تمھیں یہ …

Posted by Zubair Faisal Abbasi on Wednesday, January 10, 2018

جواب چھوڑیں