کچھ "عالمی ادب کے شاہکار افسانے” سیریز کے بارے میں…

کچھ "عالمی ادب کے شاہکار افسانے” سیریز کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مترجم سلیم صدیقی کی زبانی

عالمی ادب کے بہترین افسانوں کو انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرنے اور ابتدائی طور پر تین جلدوں میں شائع کرنے سے میرا مقصد یہی ہے کہ اس عظیم صنف کے جّید تخلیق کاروں اور استادانِ فن کے کارناموں کو اردو ادب کے پڑھنے والوں کے زوق مطالعہ میں اضافہ ہو اور ادیبوں، خاص کر نئے افسانہ نگاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا مل سکے۔ اس کے ساتھ ہی اردو ادب کے افسانوی کینوس کی وسعت اور enrichment کے مسلسل جاری رکھنے کے عمل میں دوسرے معزز ترجمی نگاروں کی طرح میری یہ حقیر کوشش بھی شامل ہوجائے تو اس سے بڑھ کر میرے لیئے کیا اعزاز کی بات ہوگی !

افسانہ ہے کیا؟ یہ ایک نہ سمجھنے والی گھتی ہے۔ جس طرح ادب کی کوئی ایک قابل قبول تعریف ہر قاری کو مطمئن نہیں کرسکتی، اسی طرح افسانے کو بھی کسی ایک تعریف میں محدود کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود افسانے کی کچھ خصوصیات پر عام طور پر سب ہی کو اتفاق ہوتا ہے۔ اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ افسانہ نثری طور پر کسی کہانی کا ایسا بیان یوتا ہے، جس کے واقعات میں انسانی اقدار کا گہرائی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ لیکن بہت سے مستند افسانہ نگار قصداً اس سلسلے میں بھی خود قاری کے لیے ایسے سوالات چھوڑ دیتے ہیں، جن کا اُس کو تجزیہ کرنا ہوتا ہے۔

کسی کو بھی یہ نہیں معلوم کہ داستان گوئی کی بنیاد کس طرح پڑی لیکن یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ یہ انسانی تاریخ کے ابتدائی دور سے ہی شروع ہوئی شاید انسانی خوابوں کے بطن ہی سے یہ پیدا ہوئی، کیوں کہ انسان کو اپنے خوابوں کو دوسروں سے بیان کرنے کی فطری عادت ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ کچھ خوابوں میں بیانہ پلاٹ، کردار، ماحول، ایکشن اور زبان مل جاتی ہے، جو کہانیوں، خاص طور پر مہماتی، سائنسی اور پُر اسرار کہانیوں کے ضروری عناصر ہوتے ہیں۔ فرائڈ نے اسی لیے لٹریچر اور خوابوں کے مابین رشتے کی نشاندہی کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ لٹریچر دراصل sub-conscious (تحت ا لشعور) کی پیداوار ہوتا ہے۔

ایک افسانے کا کینوس بہت وسیع ہوتا ہے۔ کسی منظر، کسی عام یا عجیب و غریب یا پُر اسرار واقعے، کسی تجربے، کسی ملاقات، کسی بات چیت، کسی خیالی صورت گری (fantasy) غرض کیا چیز ہے جس کا وہ احاطہ نہیں کرتا ہے۔ اُس کے کینوس میں حقیقت پسندی، رومانیت، جنگ و جدل، حب الوطنی، علامت پسندی، وجودیت اور مہملیت پر مبنی کہانیوں کے ساتھ horror stories (دہشت خیز کہانیاں) super natural stories (مافوق ا لفطرتی کہانیاں) ghost stories ( گھوسٹ کہانیاں…… جسم سے نکلی ارواح سے متعلق) Ghotic stories ( گاتھی انداز کی خوفناک کہانیاں) Defective stories (جاسوسی کہانیاں) Strange and Mysterious storis (انوکھی اور پُر اسرار کہانیاں) myths (اساطیری کہانیاں) legends (لیجنڈز…… اساطیر کی قسم کی روایات پر مبنی کہانیاں) Tall and tales or Tall stories (مبالغہ آمیزی پر مبنی کہانیاں) Shaggy dog stories (طویل، بے سروپا داستانیں) Parables (سبق اموز حکایتیں تمثیلی کہانیاں) Fables (خیالی توہمات پر مبنی کہانیاں، حیوانی کرداروں سے کام لینے والی سبق آموز حکایتیں) Anecdotes (مختصر روایات دلچسپ قصوں پر مبنی کہانیاں) Sketches ( خاکوں مختصر بیانیوں پر مبنی کہانیاں) Yarns (طویل داستانیں، بے تکے قصے) Folk lores (عوامی داستانیں) وغیرہ شامل ہیں۔ جو افسانے کے نسلی طور پر آباو اجداد میں سے ہیں۔ ان میں سے بہت سی اصناف کی آپ کو میرے موجودہ ان تین جلدوں پر مشتمل ترجمہ کردوہ افسانوں میں نمائندگی ملے گی۔ دنیا کے عظیم تخلیق کاروں اور craftsmen کے شاہکار نمونوں کی صورت میں۔ مجھے احساس ہے کہ ابھی نہ تو پورے طور پر افسانے کی ان اصناف کی اور نہ ہی دنیا کے بہت سے شہرہ آفاق افسانہ نگاروں اور اس حوالے سے دنیا کے کئی ملکوں کی نمائندگی ان تین جلدوں میں ہوسکی ہے۔ اس لیے میرا ارادہ تو ہے کہ اس سلسلے کو جاری رکھا جائے۔ اور پڑھنے والوں سے دعا کا طالب ہوں کہ میں اس ارادے میں کامیاب ہوجاؤں۔

قارئین بجا طور پر سوال کرسکتے ہیں کہ میں نے کس کسوٹی یا اصول کو سامنے رکھ کر غیر ملکی افسانوں کا چناؤ اور ترجمہ کرکے اُن کو موجودہ تین تراجماتی جلدوں میں جگہ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں میری وضاحت یہ ہے کہ میں نے افسانہ نگاروں کے بڑے ناموں سے مرعوب ہوئے بغیر سب سے پہلے یہ دیکھا ہے کہ مصنف کے افسانے کا پلاٹ، تھیم اور اسٹائل اور اُس کے بیان کرنے کا اسٹراکچر کتنا جاندار ہے۔ پھر اس کے ساتھ یہ دیکھا ہے کہ افسانے کی زبان کے انداز کا چناؤ اور فنی تکنیک کیسی ہے، اُس کے ماحول اور اس ماحول سے پیدا شدہ جزبات کا بیان اور کرداروں کی جسمانی اور نفسیاتی بنت کیسی ہے۔ مصنف کرداروں اور اُن کی حثیت کے بارے میں کیا جزبات اور رویہ رکھتا ہے۔ کیا وہ اُن کے بارے میں ہمدردانہ احساسات رکھتا ہے، یا غیر ہمدردانہ۔ یا اس معاملے میں وہ غیر جانبدار رہ کر اُن کی کردار نگاری کرنا چاھتا ہے۔ عالمی طور پر مستند سمجھے جانے والے تنقید نگاروں کی جانب سے افسانے کے لیے وضع کردہ ان چند بنیادی عناصر کو رہنما بنانے کے بعد جب میں نے کسی افسانے کا انتخاب کیا تو پھر یہ نہیں دیکھا کہ وہ کتنا طویل یا مختصر ہے۔

یہاں یہ بات ویسے بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اس بحث کا کہ کتنی طوالت ہو تو افسانہ کہلایا جاسکتا ورنہ کچھ اور بن جاتا ہے، کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔ ڈی ایچ لارنس کا افسانہ The Fox 1923 تقریباً تیس ہزار الفاظ پر مشتمل ہے۔ جبکہ Kleist کا افسانہ Das Betlelweib von Locarno نامی گھوسٹ سٹوری صرف آٹھ سو الفاظ میں لکھی ملتی ہے۔ سمرسیٹ ماہم کا کہنا ہے کہ افسانہ کم سے کم سولہ سو الفاظ اور زیادہ سے زیادہ تقریباً بیس ہزار الفاظ پر مشتمل ہو تو افسانے کی تعریف میں آتا ہے۔ غرض کہ اب تک مختلف لوگوں کے افسانے کی طوالت کے سلسلے میں مختلف خیالات اب تک چلے آرہے ہیں۔

سمرسیٹ ماہم کے ذکر سے مجھے یاد آیا کہ وہ اور اُن کے ساتھ او ہنری، موپاساں، چیخوف، ایسے نام ہیں جن کے افسانے کثرت سے تراجم کی صورت میں اردو کے ادبی رسائل، کتابوں، اخباری ادبی صفحوں میں ہی نہیں بلکہ کمرشل ڈائجسٹوں میں بھی (ان میں اکثر مسخ شدہ صورت میں) برسوں سے چھپتے آئے ہیں۔ لیکن مجھے بھی اپنی موجودہ تین Anthologies کے اندر اُن کو نظر انداز کرنے کی ہمت یوں نہیں ہوئی کہ چیخوف اور موپاساں تو جدید افسانے کے بادشاہ ہی ہیں، جن کے بغیر پوری افسانوی سلطنت ہی اُجڑی اُجڑی سی محسوس ہوگی۔ جبکہ سمرسیٹ ماہم نے موپاساں کی روایات کی تکنک، اسٹائل اور تھیم کو برتنے کی اعلیٰ درجے کی craftsmanship حاصل کی۔ اُدھر اوہنری نے نہ صرف کثرت سے افسانے لکھے بلکہ انتہائی چست، ہنر مندانہ اور طرحدار انداز میں لکھے۔ افسانے کو حیران کُن طریقے سے ختم کرنے کی تکنیک میں انہوں نے تو کمال حاصل کرلیا تھا، جس کو twist in the tail یا surprise ending کہا جاتا ہے۔ بھلا میں ان دونوں کو بھی کس طرح اپنے ترجموں کے مجموعات میں سے خارج کرسکتا تھا۔

بہرحال موپاساں، چیخوف، اوہنری اور سمرسیٹ ماہم جیسے شہرہ آفاق افسانہ نگاروں کے علاوہ میں نے دنیا بھر کے تسلیم شدہ عظیم شدہ عظیم ادیبوں مثلاً لیئو ٹالسٹائی، میکسم گورکی، لوئی آدمک، کلمان، مکس زاتھ، اوہنری، فیرینس مولنار، ڈینو بذاٹی، ڈئیلن تھامس، وی ایس پریچیٹ، جیمز تھربر، مارتی لارنی، ڈیمون رنیون، ول کیپی، اے جی میکڈونیل، پی جی وڈ ہاؤس، اینٹن چیخوف، فرانسوئز کوپی، الفونسے دادے، ہرمان ہیئر مانز، چنواچی بے، ڈبلیوسمرسیٹ ماہم، ماتیوایل مان، ساکی، آرنلڈ بینٹ، ای بی وائٹ، ملک راج آنند، پال میکنمار، ڈی ایچ لارنس، ہرمان سندر مان، جان نیرودا، رولڈ ڈاہل، شرلے جیکسن، اسٹیفن لی کاک، رڈیارڈ کپلنگ، لوئیگی پیرن ڈیل، وسی وولوڈگارشن، سیزار پیٹریسکو، ریکارڈ فرنینڈز گارسیا، کارل چاپیک، لارڈ نسانے، سیلمہ لاغرلووف، جینز پیٹر جیکبیسین، آلڈس ہکسلے، سلیمہ لاغروف، کرٹ وونی گٹ، رنگ لارڈنز، جارن اسٹرین جارنسین، لوہسون، پرموئیدیا اننتا تور، ساکی، رابرٹ ایم کوٹس اور وغیرہ کو جگہ دی ہے۔ وی ایس پریچیٹ (برطانیہ) اور ڈینو بذاتی (اٹلی) جیسے ادیب اردو ادبی رسائل اور تنقید نگاروں کے لیے نہ معلوم کیوں اب تک اوجھل رہے ہیں۔
حالانکہ اول الذکروی ایس پریچیٹ کے The Saint (اللہ کا ولی) جیسے افسانے لکھنے پر دورِ حاضر کا چیخوف کہا گیا ہے۔ اسی طرح موخرالذکر ڈینو بذاتی اٹلی میں وجودیت کی تحریک کے ایک بڑے متحرک علمبردار تھے اور اُن کے نمائندہ افسانے Seven floors (سات منزلیں) کو تو ڈرامائی شکل دے کر اٹلی کے Theatre of the absurd کا حصہ بنایا گیا ہے۔ میں نے دونوں کے مندرجہ بالا افسانے اپنی اس مرتب کردہ مجموعات میں اسی لیے خاص طور پر شامل کیے ہیں۔
ایک بار پھر گوش گزار ہوں کہ میں نے موجودہ تین جلدوں میں غیر ملکی افسانوں Grand master کی تخلیقات کے ترجموں کے زریعے اردو افسانوی ادب کے دامن کو وسعت دینے اور اُس میں خیال اور تکنیک وغیرہ کے رنگا رنگ پھول شامل کرنے کی بہترین روایات کے جاری و ساری عمل میں اپنا بہت ہی جھوٹا، موٹا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ امید ہے اس کی پڑھنے والوں کی جانب سے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ موجودہ تین جلدوں میں شامل میرے ترجمہ کردہ بیشتر غیر ملکی افسانے اردو کے موقر ادبی رسائل مثلاً قومی زبان، اجرا، دنیازاد، سیپ، الفاظ، ارتقا، زیست وغیرہ میں چھپ چکے ہیں۔ اور پہلے ہی سے اردو ادب پڑھنے والوں، لکھاریوں اور ناقدین کی جانب سے دادِ ستائش حاصل کرچکے ہیں۔

***
(انگریزی سے ترجمہ)
عالمی ادب کے شاہکار افسانے
پہلا ایڈیشن
تین جلدوں میں الگ الگ
صفحات ایک جلد / 272
قیمت ایک جلد 500
تینوں جلدیں 1500

اور
دوسرا ایڈیشن
(حصہ اول، دوم، سوم ” مکمل ایک جلد میں ” )
صفحات: 584 + ( 58 تصویری و تعارفی صفحات )
قیمت: 1500 روپے

گھر بیٹھے منگوانے کیلئے رابطہ کیجیے: رنگِ ادب پبلی کیشنز،
آفس نمبر 5- کتاب مارکیٹ، اُردو بازار، کراچی

0345-2610434
0301-2749909
0336-2085325
0345-2610434
0336-2054154
Rangeadab@yahoo.com


بشکریہ

کچھ "عالمی ادب کے شاہکار افسانے" سیریز کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مترجم سلیم صدیقی کی زبانیعالمی ادب کے بہترین افسانوں کو…

Posted by Faheem Akbar on Sunday, January 14, 2018

جواب چھوڑیں