( غیــر مطبـوعـہ ) سال ِ نَو پر چھوڑیے ضِدّ ۔۔۔ ا…

( غیــر مطبـوعـہ )

سال ِ نَو پر چھوڑیے ضِدّ ۔۔۔ اُس پرانی بات کی
اب کوئی صورت نکالیں درمیانی بات کی

آسماں والے نے مٹّی سے بنایا تھا مجھے
مَیں نے مٹّی کے قلم سے آسمانی بات کی

وہ تو چُپ ہو جائے گا دو چار جملے بول کر
سات سُر کرتے رہیں گے ترجمانی بات کی

آٹھ رنگوں سے بنائی میں نے رنگوں کی دھنک
زرد چُپ کو مَیں بتاتا ہوں نشانی بات کی

لوگ فیصَــلؔ ! پھر بھی اُس کو نا خدا کہتے رہے
جس نے سیلابی رُتوں میں بادبانی بات کی

( عــزیــز فیـصـــل ؔ )

جواب چھوڑیں