عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ ) افسانہ ن…

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ )
افسانہ نمبر 92 : چوہے دان
تحریر: سیلمہ لاغرلوف (سوئیڈن)
مترجم: سلیم صدیقی (کراچی، پاکستان)
**************************************

اگلے وقتوں کی بات ہے کہ ایک آدمی تار سے بنے ہوئے چوہےدان بازاروں، گلیوں میں گھوم پھر کر بیچا کرتا تھا۔ یہ چوہے دان وہ دکانوں اور بڑے فارم ہاؤسوں سے خیرات میں حاصل کیے ہوئے سامان سے رات گئے تک بناتا رہتا تھا، لیکن اس کے باوجود اُس کو اس کام میں کوئی منافع نہیں ملتا تھا۔ چنانچہ وہ بھیک مانگنے کے علاوہ چھوٹی مُوٹی چوریاں بھی کر لیتا تھا اور اس طرح وہ اپنی جسمانی اور روحانی قوت کو ایک ساتھ صحیح سلامت رکھنے میں کامیاب تھا۔ لیکن پھر بھی اپنے پھٹے پرانے کپڑوں پچکے ہوئے گالوں اور اندر کو دھنسی ہوئی آنکھوں سے ہمیشہ اس کی غربت اور مفلوک الحالی ٹپکتی رہتی۔
کسی کو بھی اس خانہ بدوش آدمی کی غمگین، اداس اور بے کیف زندگی کی کلفتوں کا صحیح اندازہ نہیں ہوسکتا تھا۔ جو ہمیشہ کسی سوچ میں گم سڑکیں ناپا کرتا تھا۔ لیکن ایک دن اس آدمی کو ایک ایسا خیال سوجھا کہ جو اس کے لیے کچھ طمانیت کا سبب بن گیا۔ بات یہ تھی کہ وہ معمول کی طرح اپنے چوہے دانوں کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں یہ تصور اُبھرا کہ اس کے گرد جو پوری دنیا ہے، جس میں اتنی وسیع و عریض زمین ، ٹھاٹھیں مارتے سمندر، سیکڑوں، ہزاروں شہر اور گاؤں شامل ہیں۔ یہ پوری دنیا ایک بڑا چوہے دان ہی ہے اور یہ دنیا صرف اور صرف اس مقصد کے لیے قائم ہے کہ لوگوں کو کسی طرح دھوکے سے اپنے اندر پھنسالے۔ اس مقصد کے لیے وہ دولت اور عیش و عشرت پیش کرتی ہے۔ بہترین رہائش گاہوں کی آسائشوں اور انواع و اقسام کے کھانوں کی لذتوں سے ہمکنار کرتی ہے۔ گرمی اور ٹھنڈک کا انتظام کرتی ہے اور آرائشِ بدن کے لیے قسم قسم کے لباس ایجاد کرتی ہے۔ یہ سب کچھ چیزیں بالکل چوہے دان کے فریبی چاروں یعنی پنیر، گوشت وغیرہ کی طرح ہوتی ہیں۔ کوئی بھی شخص دھوکہ کھاکر ان جیسے چاروں پر منہ مارتا ہے تو پنجرے میں بند ہوجاتا ہے اور یوں وہ ہمیشہ کے لیے قیدی بن جاتا ہے۔
دنیا مفلس آدمی پر کبھی بھی مہربان نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے دنیا کے بارے میں اِس بُرے تصور کے ذریعے ہی اس نے اپنے دل میں ایک قسم کی مسرت حاصل کرلی۔ اس کے بعد تو اس کا یہ معمول ہوگیا کہ سڑکوں، گلیوں میں چلنے کے دوران اس کی نظریں جب اپنی جان پہچان کے صاحبِ حیثیت لوگوں پر پڑتیں تو وہ دل ہی دل میں ان کے لیے ہمدردی کے جذبات لے آتا اور افسوس کرتا کہ بے چارے اس خطرناک چوہےدان میں پھنس گئے ہیں۔ وہ ان لوگوں کے لیے بھی دعائے خیر کرتا جو ابھی پنجرے یا چوہےدان میں بند تو نہیں ہوئے لیکن چارے کی خوشبو میں مست ہوکر بُری طرح ان کے گرد منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ایک دن وہ اسی طرح سڑکوں پر گھوم رہا تھا کہ رات تاریک ہوگئی۔ اتنے میں اس کو سڑک کے کنارے بنی ایک کٹیا نظر آئی۔ اس نے سوچا کہ رات یہیں گزار لینی چاہیئے۔ چنانچہ اس نے دروازے پر دستک دی۔ خوش قسمتی سے اس کٹیا میں رہنے والا ایک بوڑھا آدمی اکثر دوسرے رہاہشیوں، مالکوں کے برعکس بدتمیز یا خرانٹ قسم کا نہیں نکلا۔ بلکہ اس نے اس کی آمد پر بڑی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیوں کہ نہ تو اس کی کوئی بیوی ہے، نہ کوئی اولاد، اس لیے قسمت سے رات کی تنہائی کے کچھ لمحات اس کے ساتھ کٹ جائیں گے تو اس سے اچھی کیا بات ہوگی۔ ان خیر مقدمی کلمات کے ساتھ ہی بوڑھے آدمی نے دلیہ تیار کرنے کی غرض سے آگ روشن کردی اور اس طرح مہمان کی پیٹ پوجا کرائی۔ اس کے بعد اس نے تمباکو کا بڑا سا پتا نکالا، جو دونوں لوگوں کے پائپوں کے لیے کافی تھا۔ پھر اس نے ایک بوسیدہ تاش کے پتوں کا پیکٹ نکالا اور دونوں "ماجوس” نامی کھیل سے سونے کے تک لطف اندوز ہوتے رہے۔
اس دوران بوڑھا آدمی اپنے دلیے اور تمباکو کی دعوت میں فراخدلی دکھانے کے ساتھ ساتھ اپنی ذات کے گوشوں کو بھی بڑی فراوانی سے آشکار کررہا تھا۔ اس نے مہمان کو بتایا کہ ماضی میں وہ کافی خوشحال تھا، کیونکہ وہ رامسجو آئرن ورکس سے وابستہ تھا، جہاں وہ اس ادارے کی زمینیں ٹھیکے پر کاشت کرتا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اب جب کہ وہ مزدوری کرنے کے قابل نہیں تو صرف اپنی گائے کے سہارے اپنی زندگی کے دن گزار رہا ہے۔ اس گائے کو اس نے محبت سے اپنی مالکن بنا کر اس کی غیر معمولی خوبیوں کا ذکر کیا۔ جس میں اس کی وافر مقدار میں دودھ دینے کی صلاحیت بھی شامل تھی، جس سے اس کے کہنے کے مطابق اتنا کریم نکلتا تھا کہ اس کی مدد سے ہی اس کا خرچہ پانی آرام سے نکلتا تھا۔ اس نے اس سلسلے میں فخر سے مثال دی کہ پچھلے مہینے ہی اس کی فروخت سے اس کو تیس کرونز ملے تھے۔ جو اب تک اس کے پاس محفوظ ہیں۔
میزبان کو محسوس ہوا کہ شاید اس کا اجنبی مہمان اس کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ لہٰذااس نے کھڑکی کی جانب بڑھ کر اس کے فریم میں ٹھکی ہوئی چرمی پوٹلی اتاری اور اس کے اندر سے دس دس کرونز کے تین مڑے تڑے نوٹ نکال کر وہ اپنے مہمان کی آنکھوں کے سامنے لہرانے لگا، تاکہ اس کو اس کی بات پر اعتبار آجائے۔ پھر اس نے یہ نوٹ دوبارہ اسی پوٹلی میں ڈال دیے۔
نئی صبح تڑکے وہ بیدار ہوئے تو موسم بڑا خوشگوار تھا۔ میزبان اپنی گائے کا دودھ دہونے کے کام کی وجہ سے کٹیا سے باہر نکلنے کی عجلت میں تھا، جبکہ مہمان بھی سوچ رہا تھا کہ جب کٹیا کا مالک ہی باہر جارہا ہے تو اجنبی کی حیثیت میں اس کے لیے بھی بستر پر پڑے رہنا کچھ مناسب بات نہیں۔ چنانچہ دونوں ایک ساتھ کٹیا کو خالی کرکے باہر نکل آئے۔ میزبان نے کٹیا کے دروازے پر تالا لگادیا اور اس کی چابی اپنی جیب میں رکھ لی۔ چوہے دان والے مہمان نے اس کی مہمان نوازی کا بہت بہت شکریہ ادا کیا اور پھر دونوں اپنی اپنی راہ چل دیے۔
لیکن تقریباً آدھے گھنٹے بعد چوہےدان بیچنے والے پھر واپس اسی کٹیا کے سامنے آکھڑا تھا۔ مگر اندر داخل ہونے کی نیت سے نہیں۔ اس نے کٹیا کی کھڑکی کی طرف جاکر اس کے ایک جانب کے شیشے کو توڑ دیا اور کھڑکی کے فریم کی کیل پر لٹکی ہوئی تیس کرونز والی چرمی پوٹلی کو اپنے بڑھے ہوئے ہاتھ میں قابو میں کرلیا۔ اس پوٹلی میں سے اس نے پوری رقم نکال کر اپنی جیب میں ٹھونسی اور خالی پوٹلی کو پھر بڑے احتیاط سے اپنی جگہ لٹکا دیا۔ اس کے بعد وہ وہاں سے ڈگ بھرتا ہوا چل دیا۔
جب وہ اپنی جیب میں رقم لیے چل رہا تھا تو اپنی ذہانت اور چالاکی پر اترا بھی رہا تھا۔ اس کو احساس تھا کہ اس وقت کسی عوامی سڑک پر چلنا اس کے لیے خطرے سے خالی نہیں۔ اس لیے اس کے لیے بہتر ہے کہ جنگل کی طرف مڑ جائے۔ شروع کے چند گھنٹوں میں تو اس کو پریشانی محسوس نہیں ہوئی۔ لیکن دن چڑھنے کے ساتھ ساتھ اس پر خوف سا طاری ہونے لگا، کیونکہ وہ بے خیالی میں ایک ایسے جنگل کے بیچ داخل ہوگیا تھا، جو نہایت گھنا اور پیچیدہ تھا۔ اب وہ اپنی دانست میں جس درست راہ پر بھی چلنے کی کوشش کرتا تو وہ آگے چل کر حیرت انگیز طور پر کئی سمتوں میں منقسم ہوجاتی۔ وہ اس طرح مسلسل چلتا رہا۔ لیکن جنگل کا سرا تھا کہ ملنے کو ہی نہیں دے رہا تھا اور آخر میں اس کو احساس ہوا کہ وہ بار بار گزرے ہوئے راستوں پر ہی جنگل میں گھوم رہا ہے۔ اسی لمحے اس کو دنیا اور چوہے دان کا خود اپنا تصور یاد آگیا۔ یعنی بے وقوف بننے کی اس کی باری آگئی تھی اور پُر فریب چارے کی لالچ میں وہ خود چوہے دان میں پھنس گیا ہے۔ یہ چوہے دان ایک مہیب جنگل ہے، جو گھنے درختوں کے خوفناک تنوں، شاخوں، جھاڑیوں اور زمین پر گرے ہوئے قوی ہیکل لٹھوں پر مشتمل ہے اور یہ جنگل نامی قید خانہ یا چوہے دان اپنے دروازے بند کرچکا ہے اور اس کے لیے اب اس میں سے راہِ فرار کی کوئی بھی صورت نہیں۔
یہ دسمبر کے اواخر کے دن تھے، اس لیے تاریکی بھی کچھ تیزی سے جنگل کو گھیرے میں لے رہی تھی۔ اس کی وجہ سے اس آدمی کے دل میں خطرے کی گھنٹیاں بھی برق رفتاری سے بج رہی تھیں اور اس رفتار سے اس کی بے کلی اور مایوسی میں بھی اضافہ ہورہا تھا۔ آخر میں تو اس کی امیدوں نے مطقاًا دم توڑ دیا اور وہ اپنی موت کے انتظار میں زمین پردراز ہوگیا لیکن جیسے ہی اس کے سرنے زمین کو چھوا تو اس کو ایک آواز سنائی دی۔ ایک قسم کی مسلسل گونج دار آواز۔ اس کو کوئی شبہ نہیں تھا کہ یہ کس چیز کی آواز ہے اور اس کو سن کر وہ اپنے ہوش و حواس میں آگیا۔ "یہ تو لوہا فیکٹری سے اٹھنے والی ہتھوڑے جیسی چیز کی آواز ہے۔” اس نے سوچا۔ "اس کا مطلب ہے کہ یہاں قریب ہی لوگ موجود ہیں۔” یہ خیال آتے ہی وہ اپنی قوت کو مجتمع کرکے اٹھ کھڑا ہوا اور لڑکھڑاتے قدموں سے آواز کی سمت روانہ ہوا۔
رامسجو آئرن ورکس اب اپنا کاروبار سمیٹ چکا ہے، لیکن کچھ عرصے ہی پہلے یہاں اس کی فیکٹری کا بہت بڑا پلانٹ تھا، جس میں کچا لوہا پگھلانے کا رولنگ مل اور اس میں سلگتی بھٹی تھی۔ موسمِ گرما میں سامان سے لدی چپٹے پیندے کی بڑی اور چھوٹی بار بردار کشتیوں کی اس آبی گزرگاہ پر قطاریں لگی رہتی تھیں، جو زمینی جھیل کے لیے راستہ بناتی تھی۔ موسمِ سرما میں البتہ یہ حال ہوتا تھا کہ مل کے قریب کے تمام راستے کوئلے کی بڑی پیٹیوں سے اُڑنے والے کلونچ سے سیاہی میں ڈھک جاتے تھے۔
کرسمسس سے کچھ ذرا ہی پہلے ایک لمبی ٹھنڈی شاموں میں سے ایک شام کو ماسٹر اسمتھ اور اس کا مددگار پگھلے ہوئے کچے لوہے کے نکلنے کے انتظار میں بھٹی کے پاس بیٹھے تھے۔ گاہے بگاہے دونوں میں سے ایک لوہے کے کرچھے کی مدد سے دہکتے ہوئے لوہے کی ڈھیریوں کو ہلاتا جلاتا اور پھر پسینے میں شرابور ہوکر واپس اپنی جگہ بیٹھ جاتا۔ یہاں کی روایت یہ تھی کہ اس خطرناک عمل میں بھی صرف ایک لمبی سی قمیص کے ساتھ لکڑی کے جوتے پہنو، جس پر دونوں عمل پیرا تھے۔ بھٹےسے ہر لمحے مخصوص آوازیں نکل رہی تھی۔ ادھر بوائلر بوائے بھی فرنینس کے پیٹ میں کوئلہ چھونکنے کے عمل سے کھٹر پٹر کی مسلسل آواز پیدا کررہا تھا۔ یہ آواز بھی ماحول میں اپنی موجودگی کا زبردست احساس دلاتی۔ اس کے علاوہ باہر ایک آبشار سے پانی گرنے کا شور تھا۔ پھر شمالی ہوا کے جھونکے تھے، جو بارش کی بوندوں کو اینٹوں سے بنی چھت سے ٹکرارہے تھے۔
شاید یہی زبردست قسم کا شور شرابا تھا کہ جس کی وجہ سے لوہار استاد کو خبر ہی نہیں ہوئی کہ کوئی آدمی گیٹ کھول کر بھٹی کے احاطے میں داخل ہوکر فرنینس کے بالکل قریب آکھڑا ہوا ہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں تھی کہ ٹھور، ٹھکانے سے محروم ، آوارہ گرد قسم کے لوگ رات گزارنے کی نیت سے یہاں آنکلتے تھے۔ کیونکہ یہاں روشنی کے علاوہ اس غضب کی سردی میں ان کے بدن کو گرم رکھنے کے لیے آگ کی تپش بھی مل جاتی تھی۔ چنانچہ لوہار استاد نے اس بن بلائے مہمان پر بھی سرسری سی اور بےتوجہی کی نظر دوڑائی۔ اس لمبی داڑھی، میلے کچیلے، پھٹے پرانے لباس میں ملبوس اور اپنے سینے پر چوہےدان لٹکائے ہوئے شخص کے بارے میں اس کا اندازہ یہی تھا کہ وہ اسی قسم کے حلیے والے دوسرے مفلوک الحال لوگوں سے کسی طرح بھی الگ نہیں۔
بہرحال اس مفلس آدمی نے اس سے یہاں رات کو ٹہرنے کی درخواست کی، جو لوہار استاد نے بڑے شاہانہ انداز میں بغیر ایک لفظ بولے صرف اشاروں میں ہی منظور کرلی۔ بھک منگے آدمی نے بھی اس کے بعد اس سے کوئی بات نہیں کی۔ ویسے بھی وہ یہاں کسی سے گفتگو کرنے تو نہیں، بلکہ جنگل کی بھول بھلیوں سے نکل کر اپنے بدن کو گرم کرنے اور سونے آیا تھا۔
ان دنوں رامسجو آئرن مل لوہے کے ایک بہت مشہور تاجر کی ملکیت میں تھا۔ جس کی زندگی کی سب سے بڑی تمنا یہ تھی کہ اعلٰی سے اعلٰی معیار کے لوہے کو باہر کی مارکیٹوں میں جہازوں کے ذریعے پھیلایا جائے۔ اس غرض سے وہ فیکٹری میں دن رات چکر لگاتا رہتا تھا، یہ دیکھنے کے لیے کہ یہاں لوہے کی ڈھلائی کا کام اس کے معیار کے حساب سے ہورہا ہے یا نہیں۔ اتفاق سے وہ رات کے اس وقت بھی معائنے کو آنکلا۔
قدرتی بات تھی کہ اس معائنے کے دوران اس کی پہلی نظر اسی لمبے قد کے آدمی پر پڑی ، جو فرنیس کے اتنے قریب آکھڑا ہوا تھا کہ اس کے بھیگے ہوئے پھٹے پرانے کپڑوں سے بھاپ نکل رہی تھی۔ لوہار استاد نے اجنبی آدمی کو ٹہرنے کی اجازت دیتے وقت اس کا اچھی طرح جائزہ لینے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی تھی۔ لیکن فیکٹری مالک نے اس کے برعکس اس آدمی کو پہلے تو بڑے غور سے دیکھا۔ پھر اپنا شبہ دور کرنے کے لیے وہ اس کے انتہائی قریب ہوگیا، جہاں پہنچ کر اس نےاس آدمی کا چوڑا ہیٹ اتار دیا تاکہ اس کا چہرہ اور زیادہ صاف طریقے سے دیکھ سکے۔ پھر اس کے منہ سے چیخ نکلی:
"ارے یہ تو تم نِلزاولوف ہو! اور تم نے یہ حلیہ کیا بنا رکھا ہے؟”
چوہے دان والے شخص نے رامسجو کے مقام پر اس آدمی کو زندگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ اس کے نام سے اس کو واقفیت تھی۔ لیکن اس کے ذہن میں اچانک یہ خیال آیا کہ یہ آدمی اگر دھوکے میں اس کو اپنا کوئی پرانا واقف کار سمجھ رہا ہے تو یہ اس کے لیے فائدے کی بات ہی لگتی ہے، کیونکہ اس طرح شاید اس کی طرف سے کچھ کرونز ہی مل جائیں۔ اسی لیے اس نے اس کو غلط فہمی میں ہی مبتلا رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔
"درست ہے۔ میرا حلیہ خراب ہے۔ خدا جانے میرے حالات اتنے خراب کیوں ہوگئے ہیں۔” اس نے اپنے اس فیصلے کے مطابق جواب دیا۔
"تمھیں اپنی ریجمنٹ سے استعفٰی نہیں دینا تھا۔” فیکٹری مالک نے کہنا شروع کیا۔ "یہ تمھاری غلطی تھی۔ اگر میں بھی بدستور سروس میں ہوتا تو تمھیں ایسا نہیں کرنے دیتا۔ بہرحال اب تمھیں میرے ساتھ میرے گھر چلنا پڑے گا۔”
فیکٹری مالک کے ساتھ اس کے ممکنہ عالیشان محل میں داخل ہونا اور اس کی ریجمنٹ کے پرانے فرضی ساتھی کی حیثیت میں اس کی مہمان نوازی کے مزے لینا کچھ ایسی بات تھی کہ جو آوارہ گرد آدمی کے دل کو نہیں لگ رہی تھی۔ اس لیے وہ بولا:
"معاف کیجیئے صاحب! اس وقت میرا یہاں سے جانے کو دل نہیں چاہ رہا ہے۔”
بھک منگا آدمی دراصل یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اس کے پاس چرائے تیس کرونز رکھے ہیں اور ان کے ساتھ فیکٹری مالک کے محل نما مکان میں جانے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ خود ہی شیر کے غار میں داخل ہورہے ہیں۔ اس کا ارادہ تو یہی تھا کہ اس بھٹی کے قریب رات گزارنے اور پھر چپ چاپ یہاں سے صبح ہی صبح رخصت ہولے۔ لیکن فیکٹری مالک کو گمان ہورہا تھا کہ اس کا ریجمنٹ کا ساتھی اپنے پرانے پھٹے پرانے کپڑوں اور وحشت ناک حلیے کی وجہ سے اس کے مکان میں جانے سے شرما رہا ہے۔ اسی لیے اس کو تسلی دے کر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔
"مہربانی کرکے اپنے دل سے یہ خیال نکال دو کہ میرا مکان کوئی اتنا عالیشان ہے کہ تم کو اس میں داخل ہونے میں ججھک محسوس ہو۔ تم نے سن ہی لیا ہوگا کہ میری بیوی ایلزبتھ کا انتقال ہوچکا ہے۔ میرے لڑکے باہر ملکوں میں گئے ہوئے ہیں اور اس وقت میرے علاوہ صرف میری سب سے بڑی لڑکی رہتی ہے۔ ہم دونوں ابھی کچھ دیر پہلے ہی ذکر کررہے تھے کہ کرسمس آگیا ہے لیکن کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ اس کو بہتر طور پر منانے کے لیے ہمارے ساتھ کوئی تیسرا شخص بھی نہیں۔ اس لیے میرے دوست میرے ساتھ میرے گھر چلو اور کرسمس کے لیے جو ہم نے بہت سے کھانے وغیرہ تیار کیے ہیں، ان کو تیزی سے اپنے شکم میں اتارنے میں ہماری مدد کرو۔”
لیکن اجنبی آدمی کا جواب صرف نہیں اور نہیں تھا۔ چنانچہ تھک ہار کر فیکٹری مالک نے لوہار استاد کو مخاطب ہوکر کہا:
"ایسا لگتا ہے کہ میرے دوست کیپٹن وان اسٹاہلے نے تمھارے ساتھ یہیں ٹہرنے کا تہیہ کرلیا ہے۔ اس لیے اس کا مناسب طور پر خیال رکھنا۔” یہ کہہ کر وہ بظاہر بوجھل قدموں سے فیکٹری سے رخصت ہوگیا۔
لیکن جاتے وقت وہ دل ہی دل میں ہنس رہا تھا اور یہ بات صرف لوہار استاد ہی جانتا تھا کہ اس کے مالک کے یہ الفاظ آخری نہیں ہوسکتے ہیں، کیونکہ وہ ضد پر آتا ہے تو اس کو پورا کرکے ہی چھوڑتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ابھی مشکل سے آدھا گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ کام کرنے والوں نے بھٹی کے باہر ایک بگھی کے پہیوں کی آواز سنی اور اس میں سے نمودار ہونے والا فیکٹری مالک نہیں تھا بلکہ اس نے اپنی بیٹی کو یہاں بھیجا تھا۔ اس خیال سے کہ شاید وہ مہمان کو اس سے بھی زیادہ مؤثر انداز میں قائل کرکے ان کے گھر لانے میں کامیاب ہوجائے۔
وہ لڑکی جب ان کی طرف بڑھی تو اس کے پیچھے پیچھے اس کا نوکر بھی تھا۔ جو اپنے بازوؤں میں ایک قیمتی فرکوٹ تھامے ہوئے تھا۔ یہ کوئی خوبصورت لڑکی نہیں تھی۔ لیکن نہایت منکسر المزاج اور شرمیلی لگتی تھی۔ بھٹی کے ماحول کا جہاں تک تعلق تھا، وہ شام جیسا ہی تھا، لوہار استاد اور اس کا شاگرد دونوں اپنی بنچوں پر بیٹھے تھے اور فرنینس میں لوہا اور کوئلہ سلگ رہا تھا۔ اجنبی آدمی اپنے سرہانے کچے لوہے کا ایک ٹکڑا رکھے اور اپنی آنکھوں پر ہیٹ گرائے ہوئے فرش پر دراز تھا، لڑکی کی نظریں جیسے ہی اس پر پڑیں تو اس نے آگے بڑھ کر اس کا ہیٹ اٹھا لیا۔ ایسا لگتا تھا کہ آدمی ایک آنکھ کھلی رکھ کر سونے کا عادی تھا۔ اسی لیے وہ خوفزدگی کے عالم میں اچانک کھڑا ہوگیا۔
"میرا نام ایڈلا ولمپنن ہے۔” نوجوان لڑکی نے اپنا تعارف کرایا۔ "میرے والد نے گھر آکے بتایا کہ آپ ان کی کمپنی کے پرانے ساتھی ہیں، لیکن باوجود ان کی درخواست کے یہاں رات بسر کرنے پر مصر ہیں۔ میں نے ان سے اجازت لی کہ میں بھی آپ کو ہمارے گھر لے جانے کی کوشش کرلوں، اسی لیے آپ سے درخواست ہے کہ میرے ساتھ ہمارے غریب خانے چلیں۔ ویسے کیپٹن مجھے افسوس ہے کہ آپ ان دنوں شدید مصائب سے گزر رہے ہیں۔”
لڑکی نے یہ کہتے ہوئے اس کی طرف بڑی گہری لیکن رحمدلانہ جذبات میں ڈوبی ہوئی نظروں سے دیکھا۔ اس کو محسوس ہوا کہ اجنبی کچھ سہما ہوا ہے۔ یہ دیکھ کر اس نے اندازہ لگایا کہ یا تو اس آدمی نے کوئی چوری کی واردات کی ہے یا پھر جیل سے بھاگ نکلا ہے۔ اس لیے اس نے اطمینان دلانے کی نیت سے کہا: "کیپٹن ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ جس طرح آپ آزادی سے یہاں آئے ہیں، اسی طرح اپنی مرضی سے آپ کو کسی وقت بھی اور کہیں بھی جانے کی آزادی ہوگی۔ بس آپ سے گزارش ہے کہ صرف کرسمس کی رات تک ہمارے درمیان رہیں۔”
لڑکی نے یہ الفاظ کچھ ایسے دوستانہ انداز میں کہے کہ جوتے چٹخا کر چوہے دان بیچنے والے کے لیے اس پر بھروسہ کرنے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔
"میں نے سوچا بھی نہ تھا کہ تم بذاتِ خود میری خاطر یہاں آنے کی زحمت کرو گی۔ چلو مجھے تمھارے ساتھ اسی وقت چلنا منظور ہے۔”
یہ سن کر لڑکی نے اپنے نوکر کی طرف اشارہ کیا، جس نے آگے بڑھ کر اپنے ساتھ لایا ہوا فرکوٹ مؤدبانہ طور پر جُھک کر اجنبی آدمی کو پیش کیا، جس کو اس نے اب بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے بوسیدہ لباس پر ڈال لیا۔
اس کے بعد بھک منگے آدمی نے لڑکی کے پیچھے پیچھے بگھی کی طرف چلنا شروع کیا۔ اس شاہانہ انداز میں کہ متحیر لوہاروں کی طرف بھی مُڑ کر ایک اچٹتی نظر نہیں ڈالی۔
لیکن جب وہ فیکٹری مالک کے محل کی جانب بگھی میں بیٹھا جارہا تھا تو اس کو مستقبل کے بڑے ہولناک اندیشوں نے گھیر لیا تھا۔
"شیطان پر لعنت ہو۔ میں نے اس کے بہکائے میں آکر اس شخص کی رقم چرالی۔ اس کی وجہ سے میں ایک پھندے میں پھنس چکا ہوں، جس سے شاید میں کبھی بھی نہیں نکل سکوں گا۔” وہ سوچ رہا تھا۔
کرسمس سے ایک روز پہلے صبح جب فیکٹری مالک ناشتے پر آیا تو اس کے ذہن میں اپنے اس پرانے ساتھی کی آسائش و آرام کا خیال بسا ہوا تھا، جو قدرت کی مہربانی سے اس کو اتفاقاً مل گیا تھا۔ چنانچہ اس نے میز پر مصروف اپنی لڑکی سے کہنا شروع کیا۔
"سب سے پہلے تو ہمیں چاہیئے کہ اس کے ہڈیوں کے پنجر پر کچھ بوٹی چڑھانے کا بندوبست کریں۔ پھر قصبے بھر میں گھوم کر چوہے دان بیچنے کے عذاب سے اس کو نجات دلانے کی غرض سے اس کے لیے کسی کام کا انتظام کریں۔”
"یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ اس آدمی کے حالات اس درجے بھی خراب ہوسکتے ہیں۔ پچھلی رات کو جب میں نے پہلی بار اس کو دیکھا تو میرے لیے یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ کبھی یہ تعلیم یافتہ شخص بھی رہا ہوگا۔ بلکہ مجھے تو اب بھی اس سلسلے میں یقین نہیں آرہا۔” لڑکی کے لہجے میں گومگو کی کیفیت شامل تھی۔
"میری ننھی لڑکی! ذرا کچھ تامل کرو۔” باپ نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی۔ "جیسے ہی وہ نہا دھوکر اُجلے کپڑے پہنے گا تو تمھیں وہ ایک بالکل مختلف آدمی نظر آئےگا۔ پچھلی رات البتہ وہ فطری طور پر کچھ احساسِ ندامت میں گھرا ہوا تھا۔ یقین جانو کہ اس کے کسی بھکاری کے انداز بھی اس کے لباس کی تبدیلی کے ساتھ یکسر بدل جائیں گے۔ـ
اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ اجنبی آدمی کمرے میں داخل ہوا۔ جی ہاں۔ وہ صاف ستھرے حلیے میں بہترین لباس پہن کرکے آیا تھا۔ نوکر نے اس کو نہلایا دھلایا تھا اور اس کے بالوں کا عرصے کا جمع شدہ میل بھی نکالا تھا۔ جہاں تک اس کے اس لباس کا تعلق ہے تو وہ فیکٹری مالک کا اپنا ایک بہترین سوٹ تھا۔ کلف دار کالروں والی سفید براق قمیص اور آئینے کی طرح چمکدار جوتے بھی اس کے تھے۔
مہمان تو اب حلیے میں سج دھج گیا تھا لیکن لوہا فیکٹری مالک کے چہرے کی خوشی اب کافور ہوگئی تھی۔ وہ اپنے مہمان کو اس وقت اس طرح دیکھ رہا تھا کہ اس کے ماتھے پر بل پڑے ہوئے تھے اور صاف ظاہر تھا کہ جب رات کو اس نے فرنیس کی روشنی کے جھلملاتے غیر یقینی عکس میں اس کو دیکھا تھا تو اس نے اس شخص کو رات کو پہچاننے میں بھیانک غلطی کی تھی۔ کیونکہ اس وقت وہ کسی زاویے سے بھی اس کا دیرینہ دوست نہیں لگتا تھا۔
"اس دھوکے بازی کا کیا مقصد ہے؟” فیکٹری مالک گرجا۔
اجنبی آدمی نے جواب میں اصلیت چھپانے یا بات بنانے کی کوشش نہیں کی۔ کیونکہ حقیقت اس کے سامنے تھی کہ شاندار موج میلہ جو اس کے لیے سجایا گیا تھا، اب چند لمحوں میں ختم ہونے کو ہے۔
جناب میرا اس میں کوئی قصور نہیں۔ میں نے تو اپنی غریب تاجر کی حیثیت چھپانے کی بالکل کوشش نہیں کی تھی۔ اسی لیے میں درخواست بلکہ منت کرکے آپ کی بھٹی کے پاس رات گزارنا چاہتا تھا۔ لیکن اب بھی آپ کا نقصان تو نہیں ہوا ہے۔ آپ کو کسی مزید مشکل میں ڈالنے کی بجائے میں تیار ہوں کہ اپنے پھٹے پرانے کپڑے واپس پہنوں اور یہاں سے رخصت ہوجاؤں۔”
فیکٹری مالک یہ سن کر کچھ تذبذب میں پڑگیا۔ پھر کہنے لگا۔ "مجھ سے تمھاری شناخت میں غلطی ہوگئی تھی۔ لیکن تم نے بھی تو اپنی اصلیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایتا تھا اور خاموش رہے تھے۔ میں اس سلسلے میں پولیس شیرف کو بھی بلا سکتا ہوں، جو تمھاری اصلیت کے بارے میں تحقیقات کرسکتا ہے۔”
یہ سن کر بھکاری آدمی نے ایک قدم آگے بڑھ کر میز پر زور دار طریقے سے مٹھی مارتے ہوئے کہنا شروع کیا:
"سنیے فیکٹری مالک صاحب! اب میں جو حقیقت آپ کو بتانے جارہا ہوں اور حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیا ایک بہت بڑا چوہے دان ہے۔ آپ کو جتنی اچھی اور لبھانے والی چیزیں یہاں ملتی ہیں۔ وہ دراصل خنزیر کے گوشت کے چھیچڑوں یا اس کے گوشت سے تیار شدہ پنیر کے ٹکڑے ہوتے ہیں۔ جن کو کسی آدمی کے لیے چارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور وہ بے چارہ اس چارے کے لالچ میں آکر چوہے دان میں ہمیشہ کے لیے بند ہوجاتا ہے اور اگر شیرف آتا ہے اور مجھے گرفتار کرتا ہے تو یاد رکھیے مالک صاحب کہ ایک دن آپ کے لیے بھی ایسا آسکتا ہے کہ کسی خنزیر کے بڑے ٹکڑے کے فریب میں آکر آپ بھی چوہے دان کی قید میں چلے جائیں۔”
فیکٹری مالک نے یہ سن کر پُرزور قہقہہ لگایا۔
"بات تو تم بہت پتے کی کہہ رہے ہو اور اس کرسمس کے موقعے پر میں پولیس شیرف کو بھی بلانا مناسب نہیں سمجھ رہا ہوں۔ لیکن اب تمھارے لیے بھی یہی بہتر ہے کہ یہاں سے فوری طور پر رفوچکر ہوجاؤ۔”
لیکن جیسے ہی اجنبی آدمی باہر جانے کے دروازہ کھول رہا تھا تو اس وقت لڑکی جوان دونوں کی باتیں سن رہی تھی۔ بولی:
"کم از کم آج کے دن میری خواہش ہے کہ یہ آدمی ہمارے ہاں ٹہرے اور کہیں دوسری جگہ ٹھوکریں نہ کھائے۔”
یہ کہہ کر لڑکی نے اٹھ کر دروازہ پھر بند کردیا۔
"ارے تم یہ کیا کررہی ہو؟” باپ نے حیرت سے اس کو گھورا۔
لڑکی اپنی جگہ پریشان پریشان سی کھڑی رہ گئی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اپنے باپ کو کیا جواب دے۔ دراصل صبح ہی صبح اس کو دل میں کتنی خوشی ہوئی تھی کہ آج کرسمس کی شام کے لیے اس کو برسوں بعد بہترین کھانوں کی تیاری کا موقع ملے گا اور اس سے زیادہ مسرت کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ اس کے ان بنائے ہوئے لذیذ کھانوں سے ایک نادار و مفلس آدمی بھی لطف اندوز ہوگا۔ جس نے شاید عرصے سے ایسے کھانوں کی خوشبو تک نہ سونگھی ہوگی۔ اس کے یہی دردمندانہ خیالات تھے کہ جن کی وجہ سے اسے غریب و لاچار آدمی کی مدافعت میں باپ کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت ہوئی تھی۔
"میں اس اجنبی آدمی کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔” نوجوان لڑکی نے اپنے غیر متزلزل لہجے میں کہنا شروع کیا۔ "یہ پورے سال مسلسل گھومتا پھرتا ہے اور ملک کے کسی کونے کھدرے میں بھی اس کو کوئی خوشی سےپناہ دینے اور اس کے کھانے پینے کا انتظام کرنے اور اس کو سکون پہنچانے کو تیار نہیں۔ یہ جہاں بھی جاتا ہے اس کو بھگا دیا جاتا ہے۔ ہر وقت اس کو اپنی تفتیش اور گرفتاری کا خوف رہتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے درمیان رہ کر اس کو کم اس کم ایک دن تو راحت کا ملے۔ پوری سال میں صرف ایک دن۔”
فیکٹری مالک جواب میں کچھ اپنی داڑھی تک محدود آواز میں منمنا رہا تھا۔ دراصل اس کو اب اپنی بیٹی کی خواہش کو رد کرنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔
"ظاہر ہے کہ ہم سے نادانستگی میں ایک غلطی ہوگئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ایسے انسان کو یہاں سے دھتکار کر چلے جانے کو کہیں جس کو ہم خود ہی کرسمس کے مزے لینے کے لیے زبردستی گھر میں لے آئے ہیں۔” لڑکی کا بیان جاری تھا۔
"تم کسی مبلغ سے بھی زیادہ خراب اخلاقی درس دے رہی ہو۔ میری بس دعا ہے کہ تمھیں اس نیک عمل کے نتیجے میں پچھتانا نہ پڑجائے۔” باپ نے چڑ کر جواب دیا۔
بہرحال لڑکی نے اجنبی کا ہاتھ تھاما اور اس کو کھانے کی میز کی طرف لے گئی۔
"اب بیٹھ جاؤ اور اطمیٔنان سے ہر چیز کے مزے اُڑاؤ۔” لڑکی نے یہ دیکھ کر کہ اس کے باپ نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ اجنبی کو بڑے اعتماد سے کھانے کی دعوت دی۔
چوہے دان والے آدمی نے جواب میں ایک لفظ بھی نہیں کہا بلکہ وہ کھانے میں جُٹ گیا۔ وقتاً فوقتاً وہ لڑکی کو گھورتا جاتا اور سوچتا جاتا کہ اس لڑکی نے اس کے ساتھ اس طرح ہمدردی کا مظاہرہ کیوں کیا ہے؟ اس کی ہمدردی کا اصلی مقصد کیا ہوسکتا ہے؟
اس کے بعد کرسمس سے پہلے کی رات معمول کی طرح بالکل خوشگوار طریقے سے گزر گئی۔ اجنبی آدمی نے کسی قسم کی بھی مصیبت کھڑی نہیں کی بلکہ وہ آرام سے سوتا رہا۔ کرسمس کے دن وہ دوپہر تک مہمانوں کے ایک کمرے کے صوفے پر مستقل ایک انداز میں ہی دراز ہوکر نیند کے مزے لیتا رہا۔ سہ پہر بہر حال اس کو بیدار کیا گیا تاکہ وہ کرسمس سے پہلے کی رات کے بعد عین کرسمس کے دن کھانوں کی لذت سے بھی محروم نہ رہ سکے۔ لیکن اس وقت بھی وہ کھانے کے فوراً بعد نیند کی وادی میں لڑھک گیا۔ ایسا لگتا تھا کہ برسوں سے اس کو اس طرح سکون اور بے خوفی سے کہیں بھی سونے کا موقع نہیں ملا تھا۔ پھر رات آگئی اور کرسمس ٹری کو روشن کرتے وقت اس اجنبی کو اٹھایا گیا۔ وہ ڈرائنگ روم میں آکر کھڑا ہوگیا۔ اس طرح کہ اس کی آنکھیں موم بتیوں میں چمچما رہی تھیں۔ کچھ دیر وہ اسی طرح کھڑا رہا لیکن اس کے بعد اس کا رخ پھر سونے کی جگہ کی طرف ہوگیا۔ دو گھنٹے بعد اس کو پھر زبردستی جگایا گیا اور اب کے اس کی باری کھانے کے کمرے میں جانے کی تھی۔ یہاں اس نے کرسمس کی خصوصی مچھلی اور دلیے سے اپنا پیٹ بھرا۔
کھانے کے بعد جیسے ہی لوگ میز چھوڑ کر کھڑے ہوئے تو اس نے فرداً فرداً ہر ایک کا شکریہ ادا کیا اور ان کو شب بخیر کہا۔ لیکن اس دوران جب وہ نوجوان لڑکی کے پاس پہنچا تو اس نے اس کو بتایا کہ اس کے والد نے یہ سوٹ جو وہ پہنے ہوئے ہے، اس کو کرسمس کے تحفے کے طور پر عطا کردیا ہے اور اس کو یہ سوٹ انھیں واپس کرنے کی ضرورت نہیں۔ لڑکی نے اس کو یہ بھی دعوت دی کہ اگلے سال کرسمس کی رات بھی جب اس کے پاس کہیں جگہ نہ ہو وہ پھر یہاں آکر ان کے ساتھ ان کی خوشیوں میں شریک ہوجائے۔
اجنبی چوہےدان بیچنے والے آدمی نے اس پیشکش کو کوئی جواب نہیں دیا بلکہ انتہائی حیرت سے لڑکی کو تکتا رہا۔
دوسری دن صبح ہی صبح لوہا فیکٹری کا مالک اور اس کی بیٹی چرچ میں ہونے والی سروس میں شرکت کے لیے جلد بیدار ہوگئے۔ اس کا مہمان اب تک سویا ہوا تھا اور انھوں نے اس کو خواہ مخواہ اٹھا کر پریشان کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ جب دونوں دس بجے کے قریب چرچ سے گھر واپس آرہے تھے تو نوجوان لڑکی اپنا سر جھکائے غم اور مایوسی کی تصویر بنی بگھی کی نشست پر بیٹھی تھی۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ چرچ میں ان کو اطلاع ملی تھی کہ ایک بوڑھے ٹھیکے پر کام کرنے والے چھوٹے کاشت کار کی جمع شدہ پونجی کو ایک شخص نے لوٹ لیا تھا ، جو محلے محلے سڑکوں سڑکوں چوہے دان فروخت کرتا پھرتا تھا اور بدقسمتی سے لٹنے والا شخص ماضی میں خود ان لوگوں کی فیکٹری کی زمینوں پر کام کرتا رہا تھا۔
"جی ہاں۔ لوٹنے والے یہ وہی نیک شریف بزرگ ہیں۔ جن کی تم نے اپنے گھر میں ٹہرا کر بڑی آؤ بھگت کی ہے۔ مجھے فکر ہوگئی ہے کہ ہماری برتن کی الماری سےکہیں ڈھیر سارے چاندی کے چمچے نہ غائب ہوگئے ہوں۔” لڑکی کے باپ کا لہجہ طنز کے زہر میں گھلا ہوا تھا۔
ویگن گھر کے دروازے پر بمشکل رکی ہی تھی کہ لوہا فیکٹری کے مالک نے اپنے نوکر سے دریافت کیا کہ کیا وہ اجنبی آدمی اب تک گھر میں موجود ہے؟ اس نے نوکر کو یہ بھی جلدی میں بتایا کہ چرچ میں ان کو اطلاع ملی ہے کہ یہ آدمی چور ہے۔ نوکر نے جواب میں کہا کہ اجنبی آدمی گھر سے تو چلا گیا ہے۔ لیکن وہ یقین دلاتا ہے کہ وہ گھر کی کوئی بھی چیز اڑا کر نہیں لے گیا ہے۔ اس کے برعکس وہ ایک چھوٹا سا پیکٹ بھی یہاں چھوڑ گیا ہے۔
لڑکی نے فوراً اس پیکٹ کو کھولا جو اس بے تکے انداز میں بند کیا گیا تھا کہ ہاتھ چھوتے ہی اس کے اندر کی تمام چیزیں سب کی نظروں کے سامنے فوراً نکل پڑیں۔ لڑکی کے منہ سے خوشی کی ایک زبردست چیخ بلند ہوگئی کیونکہ ان کے تحفے میں دیے ہوئے کپڑوں کے علاوہ اس کو اس پیکٹ میں ایک چھوٹا سا چوہے دان بھی نظر آیا جس کے اندر تین مڑے تڑے دس کرونز کے نوٹ پھنسے ہوئے تھے لیکن چوہے دان میں اس کے علاوہ ایک خط بھی پھنسا ہوا تھا۔ اس میں آڑے ترچھے حروف میں عبارت لکھی ہوئی تھی۔ جس کا مفہوم یہ تھا:

"بہت ہی قابلِ احترام اور عالی وقار محترمہ!

آپ تمام وقت میرے ساتھ اس قدر محبت اور عزت سے پیش آتی رہیں کہ گویا میں واقعی کوئی فوجی کیپٹن ہوں۔ اس کے جواب میں میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں اس طرح کا طرزِ عمل آپ کے ساتھ اختیار کروں۔ جس طرح کہ کسی اصلی کیپٹن سے امید کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ میرا فیصلہ ہے کہ میں اپنے اصلی روپ یعنی چور کی شکل میں کوئی ایسی حرکت نہ کروں۔ جس سے آپ کو پشیمانی ہو۔ چنانچہ چوہے دان کے اندر میں نے اس سڑک کے کنارے رہنے والے بوڑھے آدمی کی وہ لوٹی ہوئی رقم بھی آپ کے ہاتھ سے اس کو لوٹانے کو رکھ دی ہے، جو اس نے کھڑکی کے فریم پہ لٹکی ہوئی پوٹلی میں رکھی ہوئی تھی اور جو مجھ جیسے غریب، سڑک ناپنے والے کو لالچ میں مبتلا کرنے کے لیے بہترین چارے کا کام کررہی تھی۔
یہ جو چوہےدان ہے، وہ ایک چوہے کی طرف سے آپ کے لیے کرسمس کا تحفہ ہے، جس کو اگر آپ کیپٹن کا درجہ دیتیں تو شاید دنیا کے چوہےدان میں کبھی نہ کبھی پھنس ہی جاتا۔ آپ نے میرا درجہ بلند کرکے مجھے اس چوہےدان سے خود کو ہمیشہ بچائے رکھنے کی ہمت عطا کی ہے۔ جس کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔

مخلصانہ اور دوستانہ جذبات کے ساتھ میں آپ کو دل کی گہرائیوں سے تعظیم و تکریم کا ہدیہ پیش کرتا ہوں۔

کیپٹن وان اسٹاہلے”

*************
English Title: The rattrap
Written by:
Selma Lagerlöf (20 November 1858 – 16 March 1940) was a Swedish author and teacher. She was the first female writer to win the Nobel Prize in Literature (1909).


بشکریہ

عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ )افسانہ نمبر 92 : چوہے دانتحریر: سیلمہ لاغرلوف (سوئیڈن)مترجم: سلیم صدیقی (کرا…

Posted by Yasir Habib on Saturday, October 14, 2017

جواب چھوڑیں