نطق: ـــــــــــ "نطق” وہ تقریر ہے جو جدید ترکی کے…





نطق:
ـــــــــــ
"نطق” وہ تقریر ہے جو جدید ترکی کے بانی راہنما مصطفٰی کمال اتاترک نے 1927ء میں ترکی کی قومی اسبلی سے خطاب میں کی۔ مسلسل چھ روز تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں مصطفٰی کمال اتاترک نے قریب ساڑھے چھتیس گھنٹے خطاب کیا اور خود اس خطاب کو "نطق” کا نام دیا۔ اپنے چھ روزہ اس خطاب میں انہوں نے ترکی میں بادشاہت کے خاتمے اور ترکی کے زوال سے عروج تک پہنچنے کی ہمت اور کوشش کو بیان کیا اور مستقبل میں ترکی کے لئے کامیابی کے تسلسل کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ مصطفٰی کمال اتاترک کے اس خطاب کی پہلی بار اشاعت 1927ء میں "عثمانی زبان” میں ہوئی جس کا رسم الخط عربی زبان کے مطابق تھا۔ اسکے بعد اسے انگریزی، فرانسیسی، جرمن، روسی، فارسی، ترکمانی اور قزاقی زبان میں بھی شائع کیا گیا۔ فروری 2011ء میں پروفیسر ڈاکٹر احمد بختیار اشرف اور پروفیسر ڈاکٹر جلال صوئیدان نے اسکا اردو ترجمہ کیا اور اسے انقرہ میں قائم سرکاری ادارہ "مرکز مطالعہ اتا ترک” نے شائع کیا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نطق کا اردو ترجمہ :
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ڈاکٹر اے بی اشرف نے جلال سوئیدان کے ساتھ مل کر’’ نطق‘‘ کے نام سے کتاب مرتب کی ہے۔ جسے انقرہ یونیورسٹی نے طبع کیا ہے۔ ڈاکٹر اے بی اشرف 16 کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ1988ء سے انقرہ یونیورسٹی میں شعبہ اُردو اور اُردو چیئر کے ساتھ منسلک ہیں۔
۔
کتاب ” نطق ”کے اردو ترجمہ کی یہ تصاویر فراہم کرنے پر ہم پروفیسر شبیہ حیدر کے مشکور ہیں ۔
۔
بشکریہ

Posted by Naqvi Syed on Tuesday, January 16, 2018

جواب چھوڑیں