منٹو اور موپساں کی سماجی حقیقت نگاری عبدالحفیظ ظف…

منٹو اور موپساں کی سماجی حقیقت نگاری

عبدالحفیظ ظفر

دونوں افسانہ نگاروں کی بہت سی مشترک خوبیوں کے بارے میں ایک تحقیقی تحریر

یورپ میں جدید افسانہ نگاری کے معماروں میں موپساں کا نام بہت اہم ہے۔ فطرت نگاری اور حقیقت پسندی موپساں کی افسانہ نگاری کا طرہ امتیاز ہے۔ انہوں نے افسانوں کے علاوہ ناول بھی لکھے اور دنیائے ادب میں چھوٹی عمر میں ہی اپنی عظمت کی دھاک جما دی۔ موپساں کا انداز بیان بہت واضح اور غیر مبہم تھا۔ ان کے افسانے براہ راست ابلاغ کے افسانے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ حقیقت کو حقیقت کی سطح پر دیکھا۔ انہوں نے اپنے کئی افسانوں میں انسانی فطرت کے گوشوں کو بے نقاب کیا اور پھر جس مہارت اور مشاہدے کی قوت سے انہوں نے فطرت کی ستم ظریفوں کو قارئین کے سامنے پیش کیا ۔اس کی مثال نہیں۔ ملتی ان کے اسلوب نگارش کی ایک اور بڑی خوبی کلائمیکس ہے۔ اکثر اوقات ان کے افسانوں کا اختتام بہت حیران کن ہوتا ہے اور قاری ششدر رہ جاتا ہے۔ موپساں نے 300 کے قریب افسانے تحریر کیے اور چھ ناول بھی تخلیق کیے۔ ان کا سب سے پہلا افسانہ بال آف فیٹ (Ball of fat) تھا جسے شاہکار کا درجہ حاصل ہے۔ سماجی حقیقت نگاری کے حوالے سے یہ کہنا مناسب ہوگا کہ موپساں نے انسانی دکھوں کے اسباب تلاش کرتے وقت طبقاتی تضادات کو اجاگر نہیں کیا بلکہ اسے فطرت کی ستم کاریوں سے تعبیر کیا جو مکمل طور پر درست نہیں۔ اس کی بہترین مثالیں ان کے افسانے خوشی (Happiness)، معذرت (Regret) زنگ (Rust)، ایک بوڑھا آدمی (An old man)، بزدل (A coward)، شیطان (A.Devil)قبر (Grave)، بہار میں (In the spring) ایک پاگل شخص کی ڈائری (The diary of a mad man) اور کئی دوسرے افسانے شامل ہیں۔ 20 ویں صدی کی شروعات میں انہوں نے جو افسانوی ادب کے رجحانات متعارف کرائے وہ بعد میں سمرسیٹ ماہم اور اوہنری کیلئے مثال بن گئے۔ ان دونوں افسانہ نگاروں نے موپساں کی روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان میں کئی اور مثبت پہلو شامل کیے۔ اور عالمی ادب میں اپنا ایک الگ مقام بنایا۔ موپساں نے اپنے افسانوں میں جس طرح انسان کی بے بسی اور بے کسی کی تصویر کھینچی ہے اسے پڑھ کر قاری حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ یہ ان کی قوت مشاہدہ کا اعجاز ہے کہ
ان کے افسانوں کے کئی فقرے ضرب المثل کادرجہ اختیار کر گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ملاحظہ کیجیے:

-1 بندے کو بعض معاملات میں اتنا بے خوف ہونا چاہیے کہ خوف کو خوف آئے۔
-2 انسان کو کبھی حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے اور اسے یاد رکھنا چاہیے کہ جو حوصلہ ہار جاتا ہے وہ ایک دن زندگی بھی ہار جاتا ہے۔
-3 نفرت کے شعلوں کو بھڑکانے والا اگر کبھی محبت کی بھیک مانگے تو اسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ آگ میں کبھی پھول نہیں کھلتے۔
-4 اگر کوئی عورت کسی مرد کی محبت میں گرفتار ہو جائے اور مرد کو بھی اس کا احساس ہو جائے تو اس کی زندگی کا چلن مکمل طور پر بدل جاتا ہے۔
-5 انسان کی زندگی اس وقت بالکل بیکار ہو جاتی ہے جب اس کے سوچنے کی طاقت ختم ہو جائے۔
-6 بڑھاپے میں موت کا خوف جوانی کی رعنائیاں بار بار یاد دلاتا ہے۔

سماجی حقیقت نگاری کے حوالے سے برصغیر کے اردو افسانہ نگاروں میں سعادت حسن منٹو کا نام سرفہرست ہے۔ منٹو کے فن افسانہ نگاری کا تجزیہ کرتے ہوئے بہت سے ایسے عوامل ملتے ہیں جن کی وجہ سے موپساں کے ساتھ ان کی مماثلت کی کئی دلیلیں مل جاتی ہیں۔ انسانی نفسیات کا گہرا مشاہدہ منٹو کے ہاں بھی قاری کو ملتا ہے۔انسان اور انسانی صورتحال اور فطرت نگاری کے علاوہ ان کے ہاں جو ایک اور اہم موضوع ملتا ہے وہ ہے سماجی اور معاشی ناہمواری کی کوکھ سے جنم لینے والے مسائل۔ یہ مسائل انسانوں کے دکھوں اور آشوب کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ اس کے علاوہ جنسی ناآسودگی بھی منٹو کا من پسند موضوع ہے۔ تقسیم ہند کے بعد جو ہولناک فسادات کی کہانیاں منظرعام پر آئیں وہ بھی منٹو کے انسانوں میں جا بجا ملتی ہیں۔ منٹو بھی براہ راست ابلاغ میں یقین رکھتے تھے اور حقیقت پسندانہ اسلوب نگارش ان کے افسانوں کا طرہ امتیاز ہے۔لیکن وہ موپساں کی طرح انسانوں کی بے بسی اور بے کسی پر خاموشی سے ماتم کناں نہیں ہوتے بلکہ مروجہ سماجی اور معاشی نظام کے جسم پر بڑی سفاکی سے تنقید اور طنز کے کوڑے برساتے نظر آتے ہیں ۔ان کے اکثر افسانوں کا کلائمکس بھی بہت حیران کن ہوتا ہے اور قاری کوبہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ان کے بہترین افسانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جن میں ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ، لائسنس، دو قومیں ، سوراج کیلئے، 1919ء کی ایک بات، سڑک کے کنارے، سرکنڈوں کے پیچھے، موزیل، ٹھنڈا گوشت، نیا قانون، دھواں، بُو، دودا پہلوان، مسٹر معین الدین‘‘ اور کئی اور افسانے ہیں۔ ان کے دو علامتی افسانے ’’پھندے‘‘ اور ’’فرشتہ‘‘ بھی کلاسک کا درجہ رکھتے ہیں۔ سعادت حسن منٹو نے ڈرامے بھی لکھے اور مختلف شخصیات پر ان کے لکھے گئے خاکوں کے مجموعے ’’گنجے فرشتے‘‘ کو بھی اردو ادب میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ترقی پسند مصنفین سعادت حسن منٹو کو ترقی پسند ادیب تسلیم کرتے ہیں، لیکن منٹو نے اپنے آپ کو کبھی ترقی پسند نہیں کہا۔ ترقی پسندوںکے نزدیک سعادت حسن منٹو کے افسانوں کے موضوعات کو مدنظر رکھ کر یہ بات بلاچون و چرا کہی جا سکتی ہے کہ وہ ایک ترقی پسند ادیب تھے۔ سعادت حسن منٹو کے افسانچوںکی ایک بڑی مشہور کتاب ہے جس کا عنوان ہے ’’سیاہ حاشیے‘‘ چونکہ اس زمانے میں ان کے ترقی پسندوں سے اختلافات تھے اس لئے انہوں نے اپنی اس کتاب کا دیباچہ معروف نقاد حسن عسکری سے لکھوایا جس پر ترقی پسند مصنفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کے نزدیک رجعت پسندی کے خلاف مزاحمت کرنے والے ادیب نے ایک رجعت پسند نقاد کے سائے تلے پناہ لے لی۔ احمدندیم قاسمی نے بھی ایک خط لکھ کر منٹو کو کھری کھری سنائیں۔ موپساں اور سعادت حسن منٹو میں ایک اور چونکا دینے والی مماثلت ہے۔ دونوں بڑے صاف گو اور جرأتمند تھے۔ ضدی اور ہٹ دھرم بھی تھے۔ دونوں بہت انا پرست تھے۔ بعض اوقات اپنے افسانوں میں اپنے آپ کا تمسخر اڑاتے تھے ،جسے خود استہزائی (Self-Mocking) کہا جاتا ہے۔ شاعری میں یہ خود استہزائی ہمیں جدید غزل کے نامور شاعر ظفر اقبال کے ہاں جا بجا ملتی ہے اور انہوں نے اپنے جداگانہ اسلوب سے اسے باقاعدہ ایک آرٹ کا درجہ دیا ہے۔ موپساں اور سعادت حسن منٹو کی بہت سی عادتیں مشترک تھیں۔ دونوں بلانوش تھے اور اپنے وضع کردہ اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ دونوں نے 42 سال کی عمر پائی۔ دونوں نے 20 ویں صدی کے تقاضوں کو خوب سمجھا، بہت سی روایات سے بغاوت کی اور نئی روایات کو جنم دیا۔ دونوں نے لفظ ’’کلیشا‘‘ کا روایتی مفہوم ہی تبدیل کردیا۔ اور ہر نئے مکتب فکر کواس لفظ کی وسعتوں میں شامل کردیا۔ دونوں کف ِبرشگال پر رکھی ہوئی برف کی ڈلی نہیں تھے، جو خودبخود ہی پگھل جاتی ہے بلکہ دونوں نے اپنے فن کی گرمی سے بے حسی کی چٹانیں پگھلا کر رکھ دیں ۔دونوں اس دنیا میں آئے، لیکن زندگی اپنی شرائط پر بسر کی۔ پوری دنیا کے افسانوی ادب میں کسی دو افسانہ نگاروں میں ایسے مشترکہ اوصاف کا ملنا ناممکن ہے۔

نوٹ: یہ مضمون روزنامہ "دنیا” کی 10 نومبر 2013ء کی اشاعت میں شائع ہوا۔


بشکریہ

منٹو اور موپساں کی سماجی حقیقت نگاریعبدالحفیظ ظفردونوں افسانہ نگاروں کی بہت سی مشترک خوبیوں کے بارے میں ایک تحقیقی ت…

Posted by Yasir Habib on Tuesday, April 18, 2017

جواب چھوڑیں