Copied صغیر ملال کی وفات Jan 26, 1992 26 جنوری …

Copied

صغیر ملال کی وفات
Jan 26, 1992

26 جنوری 1992ء کو اردو کے معروف ادیب، شاعر اور مترجم صغیر ملال کراچی میں وفات پاگئے۔
صغیر ملال 15 فروری 1951ء کوراولپنڈی کے قریب ایک گائوں میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے بہت مختصر مگر بھرپور ادبی زندگی گزاری۔ ان سے ادبی حلقوں کو بہت سی توقعات وابستہ تھیں جو ان کی ناوقت موت کی وجہ سے ادھوری رہ گئیں۔
صغیر ملال کے افسانوی مجموعے ‘انگلیوں پر گنتی کا زمانہ’، ‘بے کار آمد’،
ناول ‘آفرینش اور نابود’،
شعری مجموعہ ‘اختلاف’
اور دنیا کی منتخب کہانیوں کا مجموعہ ‘بیسویں صدی کے شاہ کار افسانے’ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے تھے۔
ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:

اگر پڑ جائے عادت آپ اپنے ساتھ رہنے کی
یہ ساتھ ایسا ہے کہ انسان کو تنہا نہیں کرتا


بشکریہ

Copied صغیر ملال کی وفاتJan 26, 199226 جنوری 1992ء کو اردو کے معروف ادیب، شاعر اور مترجم صغیر ملال کراچی میں وفات پ…

Posted by Safia Kausar on Friday, January 26, 2018

جواب چھوڑیں