نو سال کے بچے کی کمزور سی کمر پر جب پہلا چابک یا پ…

نو سال کے بچے کی کمزور سی کمر پر جب پہلا چابک یا پہلی سونٹی پڑی ہو گی تو درد کے مارے اس کا سار ابدن اینٹھ گیا ہو گا۔ اس نے اپنی ننھی سی مٹھی بھینچ کر دانتوں میں دبا لی ہو گی کہ کہیں چیخ نہ نکل جائے۔ اسے ڈر ہو گا کہ مولوی صاحب مزید غصّے میں نہ آ جائیں۔ بس دو تین چھانٹوں کی ہی تو بات ہے۔ اس نے چہرہ اٹھا کر دوسرے بچوں کی جانب دیکھا ہو گا جو زور زور سے آگے پیچھے ھلتے ہوئے اپنا سبق دہرا رہے ہوں گے۔ ایک دو نے اس کی جانب دیکھا ہو گا لیکن پھر فوراً اپنا چہرہ سپارے کی جانب موڑ لیا ہو گا۔ تیسری چوتھی چوٹ پر اسے اپنی دانتوں میں دبی انگلیوں سے نکلتے ہوئے اپنے خون کا ذائقہ اپنی زبان پر محسوس ہوا ہو گا۔ پانچویں چھٹے چھانٹے پر وہ چیخ اٹھا ہو گا۔ شائد وہ بول اٹھا ہو گا، "مولوی صاحب معافی دے دیں۔ ۔ ۔ پھر سے کبھی چھٹی نہیں کروں گا !” سرکنڈے کی چٹائی پر رگڑتے ہوئے اس کی کہنیاں اور گھٹنے بھی چھل گئے ہوں گے۔ درد اور خوف کے مارے اس کا پیشاب بھی نکل گیا ہو گا۔ لیکن اب اسے ٹوٹے ہوئے وضو اور ناپاک شلوار کی فکر نہیں ہو گی۔ دسویں گیارہویں چابک پر اسے اپنی چھلی ادھڑی کمر کی کٹی پھٹی کھال سے سردی ہڈیوں تک جاتی محسوس ہوئی ہو گی۔ اب ہر ضرب پر اس کا پورا بدن کانپ اٹھتا ہو گا۔ اس نے شائد "اماں” بھی پکارا ہو گا۔ اس نے شائد اپنے بات پو بھی پکارا ہو گا جس نے دو تین دن کی غیر حاضری پر اسے تھپڑ لگا کر مسجد بھیجا تھا۔ اب چابک یا چھانٹے کی ضربوں کا درد کم ہونے لگا ہو گا۔ اسے نیند آنے لگی ہو گی۔ اس کا چڑیا جتنا دل تھک چکا ہو گا۔ اب اسے صرف اپنی کمر میں چبھتی ہوئی سوئیاں اور مولوی صاحب کی ہانپتی ہوئی سانسوں کا احساس ہو رہا ہو گا۔ پھر نجانے کب۔ ۔ ۔ نجانے نو سال کے بچے کی کمزور سی کمر پر کتنی ہی سرخ لکیروں کے بعد اس کا دل تھک ہار کر رک گیا ہو گا۔ ۔ ۔ یہ جانے بغیر کہ اس کے ماں باپ مولوی صاحب کو اللہ واسطے معاف کر دیں گے۔ ۔ ۔
شوکت نیازی، آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے، "یا اللہ میاں یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟”
بشکریہ

نو سال کے بچے کی کمزور سی کمر پر جب پہلا چابک یا پہلی سونٹی پڑی ہو گی تو درد کے مارے اس کا سار ابدن اینٹھ گیا ہو گا۔ اس …

Posted by Shaukat Niazi on Friday, January 26, 2018

جواب چھوڑیں