( غیــر مطبــوعــہ ) مجھے دیکھو کہ میں چاہوں فقَط…

( غیــر مطبــوعــہ )

مجھے دیکھو کہ میں چاہوں فقَط اُس کا ہونا
جس کو مرغُـــوب ہے محبوب ِ زمانہ ہونا

اب ذرا میرا چمـَکنا بھی گــوارا کر لے
تو نے ہی اِذن دیا تھــا کہ سِــــــــتارہ ہونا

میں بُرا ہونے کو اب کیسے بُرائی سمجھوں
اُس کو اچّھــا نہیں لگتا ‘ مِرا اچّھـــا ہونا

کثرتِ دیــد خـــد و خـــال چُھپا دیتی ہے
چند لمحــوں کے لیے تم پسِ پردہ ہونا

یہ بھی اِس عہد_عجائب کا کرِشــمہ دیکھا
دوســـتوں کا کبھی دریا ‘ کبھی صَــحرا ہونا

ایسا سَــیّال بنایا تھا مَحبّت نے مجھے
اُس کا جیسـا مجھے کہنا ‘ مِرا ویسـا ہونا

جنگلوں جنگلوں آواز لگاتا ہے کُوئی
جـال ہونے سے تو بہتر ہے’ پرندہ ہونا

بَوجھ ۔۔ چَھت کا میں اٹھاتا ہوں اُور اِس پر خوش ہوں
میری تعمیـر میں لکّھــا ہے ســـہارا ہونا

پُھل جَھڑی بن کے جو کرتا ہے اُجالا’ نیّــرؔ !
ہوتے ہوتے اسے آئے گا ســویـرا ہونا

( شـــہزاد نیّــرؔ )

جواب چھوڑیں