غزل (ساغر نظامی) آیا وہ مرا جانِ بہاراں نظر آیا ہ…

غزل
(ساغر نظامی)

آیا وہ مرا جانِ بہاراں نظر آیا
ہر سمت گلستاں ہی گلستاں نظر آیا

پھر چھیڑ دیا روح کو مضرابِ نظر نے
پھر تیر سا پیوستِ رگِ جاں نظر آیا

پھر کاکل شب رنگ میں جھلکا رُخِ روشن
پھر کفر کے آغوش میں ایماں نظر آیا

کافر ہوں،میں کافر ہوں مرا کفر محبت
یہ کفر مجھے حاصلِ ایماں نظر آیا

تشکیل بھی محدود تھی، تصویر بھی محدود
لیکن وہ تصور میں نمایاں نظر آیا

گلشن میں ترے دستِ حنائی کے اثر سے
ہر برگ و شجر شعلہ بداماں نظر آیا

وہ سلسلہء لغزشِ مستانہء پیہم
میخانہ سا گلشن میں خراماں نظر آیا

یہ بھی کسی گاتی ہوئی ہستی کی کشش ہے!
ساغر جو مسوری پہ غزل خواں نظر آیا ​

جواب چھوڑیں