ژاں پال سارتر اور نوبل پرائز اکتوبر 1964میں فرانس…


ژاں پال سارتر اور نوبل پرائز

اکتوبر 1964میں فرانس کے مشہور قلمکار ژاں پال سارتر نے ’’نوبیل انعام‘‘ لینے سے انکار کردیا تھا۔ 28اکتوبر1964کو ژاں کے اس انکار کی تفصیل پیرس کے روزنامہ ’’لماند‘‘ میں شائع ہوئی۔ آغا افتخار حسین کی یورپ میں تحقیقی مطالعے کے عنوان سے لکھی کتاب میں آپ اس تاریخی حق گوئی سے تمام تر آگاہ ہوسکتے ہیں۔ یہاں اس کا محض کچھ حصہ پیش خدمت ہے:
’’میرا نوبیل پرائز لینے سے انکارکرنا کوئی نئی بات نہیں۔ میں نے ہمیشہ سرکاری اعزازات قبول کرنے سے انکار کیاہے۔ جنگ کے بعد 1945میں جب میرے لئے لژاں دونر (Legion D,Honcur) کا اعزاز تجویز کیا گیا تو میں نے انکار کیا حالانکہ حکومت کے افراد سے مجھےدوستی کاشرف حاصل رہا ہے۔ اسی طرح میں نے کالژو فرانس (College de France) میں شمولیت کی بھی کوشش نہیں کی حالانکہ میرے بعض احباب نے یہ تجویز پیش کی تھی۔‘‘
اور ’’میرے اس رویئے کی بنیاد وہ نظریہ ہے جو میں ایک ادیب کے کام کے بارے میں رکھتا ہوں۔ ایک اہل قلم جس کی حیثیت سیاسی، سماجی اور ادبی ہو ، اس کو اپنے کام کے لئے وہی طریقہ کار استعمال کرنا چاہئے جو اس کا ذاتی ہو۔ یعنی اظہاربذریعہ تحریر۔ جب ایک اہل قلم کو اعزاز دیئے جاتے ہیں تو اس کی تحریریں پڑھنے والے ایک خاص قسم کے دبائو سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ یہ کوئی پسندیدہ بات نہیں۔ اگر میں اپنے دستخط کرتے وقت صرف ’’ژاں پال سارتر‘‘ لکھوں تو اس کی الگ حیثیت ہوگی اور اگر میں ’’ژاںپال سارتر صاحب نوبیل پرائز‘‘ لکھوں تو یہ اور بات ہو جائے گی۔ ایک اہل قلم جب اس قسم کا کوئی امتیاز قبول کرتا ہےتو وہ اس انجمن یا ادارے کو بھی ساتھ الجھا لیتا ہے جس نےاسے یہ اعزاز دیا۔‘‘

محمد سعید اظہر

For Complete reading visit:
http://www.nybooks.com/articles/1964/12/17/sartre-on-the-nobel-prize/

بشکریہ

ژاں پال سارتر اور نوبل پرائزاکتوبر 1964میں فرانس کے مشہور قلمکار ژاں پال سارتر نے ’’نوبیل انعام‘‘ لینے سے انکار کردیا …

Posted by Yasir Habib on Friday, February 16, 2018

جواب چھوڑیں