شہکار کی بات . آج آئی ہے لب ِ سَاز پہ جھنکار کی با…

شہکار کی بات
.
آج آئی ہے لب ِ سَاز پہ جھنکار کی بات
اس میں پیکار کے قصّے ہیں نہ تلوار کی بات
.
صرف اک گمشدہ فردوس کا افسانہ ہے
صرف اک پاس سے گذرے ہوئے کردار کی بات
.
تیری نظروں میں روایات کی سَلمائیں ہیں
جیسے بچوں کی بتائی ہوئی بازار کی بات
.
جیسے پربت کی بلندی سے زمیں کے مینار
جیسے اک حلقہء الحاد میں اوتار کی بات
.
ایک خاموش عبادت کی نوا میں گم ہے
جو تجھے پا نہ سکا اس کے دلِ زار کی بات
.
جیسے دنیا کی نگاہوں میں سماجی رشتے
جیسے مفلس کے لئے عید کے تیوہار کی بات
.
تیرے لہجے کی کھنک تیری نِنداسی آنکھیں
جیسے اِک ناؤ پہ اُس دیس کی اس پار کی بات
.
چونکتی صبح کے چہرے پہ خمارِ یک شب
چاندنی رات میں خیّام کے اشعار کی بات
.
یوں لپکتی ہوئی چہرے پہ حیا کی تنویر !
جیسے اقرار زدہ ہونٹوں پہ انکار کی بات
.
جیسے نکھرے ہوئے اشعار کی تخلیق کے وقت
ذہنِ شاعر میں خیالات کی رفتار کی بات
.
جس کو چُھو بھی نہ سکے کوئی سمجھ بھی نہ سکے
اتنی نازک ہے ترے رُوپ ، ترے پیار کی بات
.
کر سکا کون سا شیلے تری اب تک تفسیر
لکھ سکا کون سا ہومر ترے شہکار کی بات
.
دل کی تسکینِ جنوں ، ذہن کی پاداش بھی تھی
تو مرے واسطے دھرتی بھی تھی آکاش بھی تھی
.
مصطفیٰ زیدی

( روشنی )

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…