ادیب، سیاست اور اخلاقی کرپشن

تحریر : انیتا یعقوب

جادوگر، محبوب اور شاعر میں بہت کم فرق ہوتا ہے۔ تینوں ہی اپنے ٹرانس میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لئے بہت احتیاط کے ساتھ ان پر بھروسہ کرنا چاہئے بلکہ بھروسہ تو کرنا ہی نہیں چاہئے بس دور سے فنکار اور اس کے فن پارے کی تعریف کر دینی چاہئے۔ یہ تو سچ ہےکہ شاعروں میں زوق جمال کی حس زیادہ ہوتی ہے اسی لئے ہر نئی شاعرہ میں انہیں اپنی محبوبہ نظر آتی ہے۔ اور جب وہ شاعرہ ان کے بس میں نہیں آتی تو وہ اور طرح کے حربے آزماتے ہیں .اس لئے دنیا میں جو بھی نیک شاعر ہے اس پر ہر بڑے چھوٹے کی طرف سے آفرین ہو۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ان میں آپس میں بھی ایکا نہیں ہوتا۔دلوں میں بغض رکھتے ہیں لیکن مشاعروں پارٹیوں میں سب ایک ہو جاتے ہیں۔ ان تمام عوامل کو تڑکا لگاتا ہے سیاسی رنگ۔ اب ذرا پل بھر کو سوچئے کہ سیاست اور شاعری کا کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ یہ بات تو سچ ہے کہ دل سے شہرت کی طمع ختم تو نہیں ہو سکتی لیکن بہت زیادہ خواہش شاعروں اور ادیبوں کو چالاک اور موقع پرست بنادیتی ہے۔جب کہ سچا شاعر اور ادیب تو اپنے ساتھ دوستوں سے محبت اور صاف دلی سے پیش آتا ہے ۔وہ کبھی کسی کی برائی سامنےنہیں کرتا ہے بلکہ اخلاق، فلسفہ اور حکمت کے ساتھ اپنی بات کو آگے پہنچاتا ہے ۔گو کہ میَں نے بہت مختصر عرصہ شاعری کی دنیا میں گزارا ہے اور میں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ یہاں لوگ ایک دوسرے پہ الزام تراشیو ں سےبھی باز نہیں آتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہر شاعر کسی شاعر سے اپنا کلام لکھواتا ہے یہ مرض اسقدر عام ہو گیا ہے کہ جس سے نئے لکھنے والوں کے حوصلے پست ہوجاتے ہیں اس کی ایک وجہ اُستادوں کی عدم موجودگی ہے اور جو شاعری اور ادب سیکھنےکے لئے ماحول ہونا چاہئے وہ بھی ناقص ہے۔ ویسے ہھی پاکستانی معاشرہ گزشتہ دو دہائوں سے کتاب بینی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ جس کی کئی وجوہات بتائی جاتی ہیں جس میں سے ایک ڈیجیٹل انفارمیشن کی ترویج اور انسانی مصروفیات ہیں لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ یورپی ممالک میں تیز ترین رفتار طرز کی زندگی ہونے کے باوجود معیاری ادبی تخلیق ہوتی رہتی ہے اور کتابیں پڑھنے کا رجحان وہاں بہت ہے۔ ہمارے ملک میں کہیں ایسا تو نہیں کہ جو کرپٹ سسٹم ادبی دنیا میں بن گیا ہے اس وجہ سے نوجوانو ں کی دلچسپی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اِن ادبی سرگرمیوں سے تخریبی ذہن نشوونما پا رہے ہوں؟ اگر تعمیری معاشرہ بنانا ہے تو ادب کی دنیا میں مردوں اور عورتوں دونوں کو یکساں مواقع اور تحفظات فراہم کرنے ہونگے۔ نامور اور اچھے ادیبوں کو چاہئے کہ وہ ادب کے فروغ کے لئے اپنے علم کو اپنی حد تک نہ رکھیں بلکہ مختلف اسکول کھو لیں جیسے کراچی اسکول آف آرٹ ہے۔ اپنی strategy کو وقت کے لحاظ سے ڈھالنے سے آپ کو گلزار کی ایک نظم کی طرح شکایتی انداز اپنانا نہیں پڑے گا جس میں وہ کہتے ہیں

کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے

بڑی حسرت سے تکتی ہیں

مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں!

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…