کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہم اُلجھے ہُوئے …

کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہم
اُلجھے ہُوئے ہیں آج بھی دُنیا و دِیں سے ہم

یُوں بیٹھتے ہیں بزم میں خلوت گزِیں سے ہم
لے جائیں اپنے اشک بھی چُن کر زمِیں سے ہم

ہر روز اُن کے نام کے سَو پُھول کِھلتے ہیں
چُن کر قَفس میں لائے ہیں کلیاں کہیں سے ہم

جب تک تمھارے قدموں کی آہٹ نہیں سُنیں!
معلُوم اِس مکاں میں ، نہ ہوں گے مکِیں سے ہم

منظر، الگ الگ مِلے یہ اور بات ہے!
ورنہ جہاں سے خضر چلے تھے، وہِیں سے ہم

اِک روز چِھین لے گی ہَمِیں سے زمِیں ہَمَیں
چِھینیں گے کیا ، زمِیں کے خزانے زمِیں سے ہم

سونے دو اب، کہ صُبحِ قیامت قریب ہے !
کل، پِھر کہیں گے قصۂ ہستی، یہیں سے ہم

ہاتھوں میں اپنے، ہاتھ ہمارے لئے رہو
دُنیا کے بعد اُلجھ نہ پڑیں، آج دِیں سے ہم

حُسنِ طَلَب میں خُود کو صَبا کھو چُکے ہیں جب !
اچّھا تو کیوں نہ مانگ لیں خود کو تمھیں سے ہم

اُن کو سلام کرتے ہیں عُذرِ حَسِیں سے ہم
جیسے، پسِینہ پونچھ رہے ہوں جَبِیں سے ہم

مِل جُل کے داستانِ محبّت تمام ہو
یعنی !کہِیں سے آپ کہیں، اور کہِیں سے ہم

جب تک اجَل نہ صُلح کا پیغام لائے گی
رُوٹھی رہے گی ہم سے زمِیں، اور زمِیں سے ہم

ہم بے خبر ہیں اور وہ اِتنے قرِیب ہیں
دِل سے جواب آئے پُکاریں کہِیں سے ہم

خواہش یہ ہے کہ راہِ محبّت پہ ڈال دیں
کوئی شکن چُرا کے کسی کی جَبِیں سے ہم

جب کارواں لُٹا ہے تو رہبر بھی ساتھ تھا
لُوٹا ہے کِس نے،کہہ نہیں سکتے یقیں سے ہم

دِل سے، بیانِ جلوہ ہے ،دیکھو تو سادگی !
ساحِل کا ذکر کرتے ہیں، کِس تہہ نَشِیں سے ہم

دیکھیں خُمارِ عِشق میں ،ہو کیسی خوشی نَصِیب
سرشار ہیں کسی غَمِ کیف آفرِیں سے ہم

اِک آخری سلام ، اُنھیں کرکے سو گئے
یہ کام لے سکے نِگہِ واپسیں سے ہم

کب تک، یقینِ عِشق ہَمَیں خود نہ آئے گا
کب تک، مکاں کا حال کہیں گے مکِیں سے ہم

اِک جبر لالہ زار کا، آنکھوں میں ہے صَباؔ
دیکھا کئے ہیں خُون اُبلتا زمِیں سے ہم

صباؔ اکبر آبادی

جواب چھوڑیں