” کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ میں سریلیسٹ (Surrealist)…

” کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ میں سریلیسٹ (Surrealist) ہوں جبکہ ایسا نہیں ہے ، میں خواب مصور نہیں کرتی بلکہ حقیقت کی تصویر کشی کرتی ہوں ۔ ”
فریدا کاہلو ۔ ۲
( قیصر نذیر خاور )

فریدا ’ڈییگو‘ سے حاملہ تو ہوئی لیکن چند ماہ بعد ہی یہ حمل ضائع کرانا پڑا کیونکہ فیٹس (fetus) اس مناسب جگہ پر موجود نہ تھا جہاں اسے ہونا چاہئے تھا اور اس کو پروان چڑھانا خود فریدا کی جان کے لئے خطرے سے خالی نہیں تھا ۔ فریدا کو ڈاکٹروں کی وہ بات سچ لگنے لگی جو انہوں نے حادثے کے بعد علاج کرتے ہوئے اسے کہی تھی ۔ جب 1931ء کا موسم بہار آیا تو فریدا ’ڈییگو‘ کے ہمراہ سان فرانسسکو میں تھی ۔ وہ لنکنین کلب آف سان فرانسسکو سٹاک ایکسچینج اور کیلیفورنیا سکول آف فائن آرٹس کے لئے میورل بنا رہا تھا ۔ ایسے میں فریدا نے اپنی پینٹنگ ’ فریدا اور ڈیگوریویرا ‘ (Frida and Diego Rivera) بنائی جو سان فرانسسکو کی مصور خواتین کی سوسائٹی کی منعقدہ چھٹی سالانہ نمائش میں پیش کی گئی ۔ یہ فریدا کی پہلی پینٹنگ تھی جو نمائش کے ذریعے عوام کے سامنے آئی تھی ۔ یہ اس تصویر سے ماخوذ ہے جو اُن کی شادی پر کھینچی گئی تھی البتہ اِس میں مصوری کا میکسیکن لوک سٹائل بھرپور طریقے سے نمایاں ہے ۔ فریدا نے اس میں خود کو مہین و چھوٹی اور روایتی میکسیکن کپڑوں میں ملبوس روایتی بیوی کا روپ دیا ہے جبکہ ریویرا کو دیوزاد جیسا ہونے کے ساتھ ساتھ پینٹر بھی دکھایا ہے ۔
سان فرانسسکو میں قیام کے دوران فریدا فنون لطیفہ کی نامی شخصیات سے ملنے کے علاوہ ڈاکٹر لیو ایلوسر (Dr. Leo Eloesser) سے بھی ملاقات کرتی رہی جو ’ ریویرا‘ کا دوست تھا ۔ بعد میں یہ عمر بھر فریدا کا معالج رہا ۔ وہ مئی میں میکسیکو واپس آ گئی اور اس کی ملاقات ہنگرین نژاد امریکی فوٹوگرافر’ نکولس ُمورے ‘ (Nickolas Muray) سے ہوئی جو چھٹیاں گزارنے وہاں آیا ہوا تھا۔ یہ ملاقات معاشقے میں ایسی بدلی کہ تعلق اگلے نو دس برس تک کبھی ٹوٹتا اور کبھی بنتا رہا ۔ اسی برس نومبر میں وہ ایک بار پھر ’ ڈییگو‘ کے ساتھ امریکہ میں تھی ۔ نیویارک ، فلاڈیلفیا اور پھر ڈیٹرایٹ ، جہاں جولائی کے آغاز میں اسے ایک بار پھر حمل ضائع کرانے کے عمل سے گزرنا پڑا ۔ فیٹس (fetus) پھر غلط جگہ پرورش پا رہا تھا ۔ اسے ہنری فورڈ ہسپتال میں لگ بھگ دو ہفتے رہنا پڑا ۔ اس بار اسے لگا دھچکہ زیادہ تھا جس کا اظہار اس کی پینٹنگ ’ ہنری فورڈ ہسپتال‘ میں نظر آتا ہے ۔ یہ سلیف پورٹریٹ ’ دی فلائنگ بیڈ‘ بھی کہلاتا ہے ۔ یوں تو فریدا نے جتنے بھی ’سیلف پورٹریٹ‘ بنائے ان میں اس کی ذات کا دکھ کسی نہ کسی شکل میں جھلک مارتا ہے لیکن یہ ان سب میں اس لئے منفرد ہے کہ اس میں دکھ ، کرب ، اجنبیت اور بانجھ پن کا جو گہرا اظہار نظر آتا ہے وہ کسی اور ’سیلف پورٹریٹ‘ کم ہی ہے ۔ پینٹنگ میں سکائی لائن پر بنائی گئی فیکٹریوں کی چمنیاں اور اوور ہیڈ واٹر ٹینک اجنبی شہر (ڈیٹرایٹ) کی نشان دہی کرتے ہیں ۔ ہسپتالی بیڈ پر ہنری فورڈ ہسپتال کا لکھا ہونا بھی اس بات سے جڑا ہوا ہے کہ اسے بچہ گرانے کے اس عمل میں سے ایک اجنبی جگہ پر گزرنا پڑا تھا ۔ اس کی آنکھ سے نکلتا ایک آنسو اس کے اس دکھ کا اظہار ہے جس میں فریدا کسی صوفی یا سینٹ کی طرح ڈوبی ہوئی ہے اور عام عورتوں کی طرح دھاڑیں مار مار کر رو نہیں رہی البتہ بستر پر پھیلا خون ظاہر کرتا ہے کہ یہ اس کے تولیدی نظام سے نکلا ہے جو بانجھ ہو رہا ہے ۔ آنول سے جڑی چھ اشکال میں ایک تو اس فیٹس (مُنا یا مُنی ڈییگو) کی ہے جو ضائع ہوا ۔ سنیل (snail) بچے کے ضائع ہونے کے آہستگی سے سرایت کرتے خوف کی علامت ہے ۔ پھول اس تخم کی علامت ہے جو ڈییگو نے فریدا کی بچہ دانی میں پھلنے پھولنے کے لئے چھوڑا تھا ۔ بستر کے پیروں میں پڑی مشین اس طبی پروسیجر (Procedure) کو ظاہر کرتی ہے جو جذبات سے عاری ہوتا ہے ۔ عورت کے پیٹ کے حصے کا سائیڈ ویو (side view) اور کولہے کی ہڈیوں کا ڈھانچہ بس ۔ٹرالی کے اس حادثے کو ظاہر کرتا ہے جس نے اس کے جسم کے ساتھ یہ سب گڑبڑ کی تھی ۔ فریدا نے یہ پینٹنگ سریلیسٹ (surrealist) سٹائل میں میکسیکن ریٹیبلو (Mexican Retablo) کے انداز میں بنائی تھی ۔
ماں کے بستر مرگ پر ہونے کی وجہ سے اسے آغاز ِ ستمبر میں میکسیکو واپس لوٹنا پڑا ۔ اس کی ماں 15 ستمبر کو فوت ہو گئی وہ 56 برس کی تھی ۔ فریدا اکتوبر میں ڈیٹرایٹ واپس چلی گئی ۔ اگلے برس مارچ میں وہ ’ ڈییگو‘ کے ہمراہ نیویارک گئی جہاں ’ ڈییگو‘ نے راک فیلر سنٹر کے لئے میورل بنانا تھا ۔ یہ میورل لینن کی تصویر کو اس میں استعمال کرنے کی وجہ سے متنازع ہوا اور بعد میں راک فیلر نے اسے ضائع کر دیا گیا ۔ اس پر بعد ازاں جنرل موٹرز نے بھی ’ ڈییگو‘ کے ساتھ کیا معاہدہ منسوخ کر دیا ۔ ’ ڈییگو‘ نے البتہ نیویارک کے ’ نیو ورکرز سکول ‘ کے لئے میورل بنایا اور دونوں میاں بیوی دسمبر میں میکسیکو واپس آ کر سان اینجل (San Angel) علاقے میں بنے اس نئے گھر میں شفٹ ہو گئے جس کی تعمیر ایک سال قبل شروع ہوئی تھی ۔
اگلا برس فریدا کے لئے ایک اور مشکل سال تھا ۔ اس کی اپنڈکس کا آپریشن ہوا ، ایک اور حمل گِرا ، دائیں پاﺅں کی ایڑی کٹی اور سب سے بڑھ کر یہ دھچکہ لگا کہ ’ ڈییگو ریویرا‘ اس کی چھوٹی بہن ’کرسٹینا‘ سے عشق لڑا رہا تھا ۔ وہ ’ ریویرا‘ سے الگ ہو کر وسطی میکسیکو شہر میں اپارٹمنٹ لے کر رہنے لگی ۔ اس نے اپنی سہیلیوں انیتا اور میری کے ہمراہ نیویارک کا چکر بھی لگایا اور دسمبر 1935ء میں واپس آ کر ’ ریویرا‘ سے اس بات پر سمجھوتہ کیا کہ وہ دونوں اپنی اپنی زندگی آزاد بسر کریں گے ۔ ایسے میں جاپانی نژاد امریکی آرٹسٹ ، معمار (Architact) اور مجسمہ ساز’ اسامو نوگوچی‘ (Isamu Noguchi) اس کی زندگی میں آیا ۔ اُدھر فروری 1936 ء میں یورپ کے ملک سپین میں’ پاپولر فرنٹ‘ نے قومی انتخاب جیت کر جب حکومت بنائی تو فریدا اور ’ ریویرا‘ بھی اس’ فرنٹ ‘ کے حامیوں میں شامل تھے ۔ جب جنرل فرانکو اور اس کی فوجی جُنتا (Junta) نے نام نہاد قوم پرستوں کی آڑ میں ری پبلکن پاپولر فرنٹ کے خلاف جرمنی اور اٹلی کی مدد سے خانہ جنگی کا آغاز کیا اور ری پبلکن ’پاپولر فرنٹ ‘ کی مدد کے لئے سوویت یونین کی آشیر باد رکھنے والی ’پہلی بین الاقوامی بریگیڈ ‘ بنی تو یہ دونوں بھی اس میں شامل ہو کر میکسیکو میں ان میکسیکنز کی مدد کے لئے چندہ اکھٹا کرنے کی مہم میں پیش پیش رہے جو بریگیڈ کا حصہ تھے ۔ اس دوران فریدا کے پیر کی تیسری بار سرجری ہوئی اور اگلے دو برس ’ڈییگو ریویر ا ‘ بھی صحت کے مسائل میں پھنسا رہا اور اس کا زیادہ وقت آرام میں ہی گزرا ۔ ایسے میں ’ڈییگو ‘ نے ٹراٹسکی کی انٹرنیشنل کمیونسٹ لیگ میں بھی شمولیت اختیار کی ۔
لیون ٹراٹسکی کے سٹالن سے اختلافات لینن کی وفات کے ساتھ ہی شروع ہو گئے تھے اور سٹالن اسے 1927ء میں اقتدار اور پارٹی سے نکال چکا تھا اور فروری 1929 ء میں ملک بدرکر دیا تھا ۔ لیون ٹراٹسکی کی جلاوطنی کا سفر ترکی سے شروع ہوا ، فرانس ، ناروے سے ہوتے ہوئے اسے بالآخر میکسیکو آنا پڑا کیونکہ سٹالن کا دباﺅ ہرجگہ اس کے آڑے آیا اور اس کے ایجنٹ اس کو قتل کرنے کے درپے رہے ۔ ’ڈییگو ‘ کی کوشش سے میکسیکو کی حکومت نے اسے اپنے ملک میں سیاسی پناہ دی تھی ۔ ’نیلا گھر ‘ تقریباً غیر آباد تھا ۔ ’ڈییگو ریویر ا ‘ کے کہنے پر فریدا نے ٹراٹسکی اور اس کی بیوی کو اس گھر میں مہمان ٹہرایا ۔ ٹراٹسکی اور اس کی بیوی اس گھر میں جنوری 1937 ء سے لے کر مئی 1939ء تک رہے ۔ اس دوران فریدا کی پینٹنگز میکسیکو میں نمائش کے لئے پیش ہوتی رہیں ۔ فرانسیسی شاعر اور سرئیلسٹ (surrealist) آندرے بریٹن، اس کی بیوی اور مصور جیکولین لامبا نے اس کے کام کو سراہا اور اسے پیرس میں نمائش کی دعوت بھی دی ۔ برینٹن اس کی پینٹنگ ’ پانی نے مجھے کیا دیا ‘ (What the water gave me) سے خاص طور پر متاثر ہوا تھا اور اس نے فریدا کو سرئیلسٹ مصورہ بھی ٹہرا دیا تھا ۔ امریکی فلم ایکٹر ایڈورڈ ،جی ، روبنسن جو آرٹ کے نمونے بھی اکھٹے کرتا تھا ، نے فریدا کی چار پینٹنگز آٹھ سو ڈالرز میں خریدیں ، یہ اس کی پینٹنگز کی پہلی بکِری تھی ۔
اکتوبر 1938 ء میں فریدا اپنی پچیس تصاویر لے کر نیویارک گئی جہاں اس کی سولو (solo) نمائش میں اس کی آدھی سے زائد پینٹنگز بک گئیں ۔ نیویارک میں اس کا میزبان اس کی عاشق نکولس مُورے تھا ۔ ’ پانی نے مجھے کیا دیا ‘ نامی پینٹنگ کا موضوع کسی ایک پر فوکس نہیں ہے اس میں فریدا نے اپنی زندگی کے کئی واقعات کو علامتی طور پر رنگوں کے سپرد کیا ہے ۔ اس کے اپنے الفاظ میں :
” یہ گزرتے وقت کے بارے میں ہے ۔جیسے بچپن میں نہاتے سمے بچے بہت سے کھلونے ٹب میں اکھٹے کر لیتے ہیں ، میں نے بھی اپنی اداسی کے لمحات کو ٹب میں اکھٹا کیا ہے ۔ “
وہ برینٹن کے اس خیال سے متفق نہیں تھی کہ وہ ایک سریلسٹ مصورہ ہے ۔ اس پینٹنگ پر فریدا کے دستخطوں کے ساتھ 1939ء لکھا ہے جو درست نہیں یہ اس نے 1938 ء میں پینٹ کی تھی اور برینٹن نے اسے جنوری 1939ء میں پیرس میں نمائش کے لئے پیش کیا تھا ۔ نمائش کے بعد فریدا نے اس پر 1939ء لکھ کر اسے نکولس مُورے کو اس لئے دی کہ اس سے لیا 400 ڈالر کا ادھار چکا سکے ۔
جنوری 1939 ء میں فریدا اپنی پینٹنگز لے کر پیرس گئی جہاں ’ Mexique ‘ نامی نمائش میں یہ پیش کی گئیں ۔ان میں’ پانی نے مجھے کیا دیا ‘ کے علاوہ اس کا سیلف پورٹریٹ ’ دی فریم‘ بھی شامل تھا جو نمائش کے بعد مشہور میوزیم ’The Louvre ‘ نے خرید لیا تھا ۔ یوں فریدا وہ پہلی میکسیکن آرٹسٹ ٹہری تھی جس کا کام اس میوزیم نے خریدا تھا ۔ آرٹ کے نقاد اس پورٹریٹ کو اپنے اپنے حساب سے دیکھتے ہیں مجھے البتہ فریدا اس میں رنگوں کو معانی پہناتی دکھائی دیتی ہے ۔ نیلے رنگ کا استعمال وسعت اور حلیمی کے معانی رکھتا ہے ۔ پینٹنگ میں رنگ برنگے پھولوں کی موجودگی ایک طرح کا خراج ہے جو فریدا اپنی شناخت کے حوالے سے میکسیکو کو پیش کر رہی ہے، اس کے چہرے کی لالی اور ہونٹوں پر گلال اس بات کی غمازی کرتا دکھائی دیتا ہے کہ وہ اس پر نازاں بھی ہے جبکہ پیلا رنگ جو تصویر میں جا بجا پھیلا ہے خوشی اور مسرت کی نمائندگی کے علاوہ سورج اور اس کی تمازت کی بھی علامت ہے ۔ فریدا نے اس پورٹریٹ میں شیشے اور ایلومینیم کی چادر استعمال کرتے ہوئے’ مکس میڈیم ‘ کا تجربہ بھی کیا ہے ۔ پیرس میں وہ اپنے جگر میں انفیکشن کی وجہ سے صاحب فراش بھی رہی ، وہاں سے وہ مُورے کے پاس نیویارک گئی لیکن یہ جان کر کہ مُورے دوسری عورتوں میں دلچسپی لے رہا ہے وہ میکسیکو واپس لوٹ آئی اور’ڈییگو‘ کے سان اینجل والے گھر میں جا کر رہنے کی بجائے اپنے آبائی گھر میں ڈیرہ کیا ۔ ایک طرف اس کی کمر کے درد، ہاتھوں میں فنگس نے اسے بے حال کیا اور ڈاکٹروں نے اسے سٹیل کی پٹیوں میں جکڑ کر پابند بستر کیا تو دوسری طرف ’ ڈییگو‘ کے ساتھ تعلق کی نوبت طلاق کی کاروائی کی طرف بڑھی ۔ اس سب نے فریدا کی مے نوشی میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا ۔ نومبر 1939 ء میں فریدا اور ریویرا کی طلاق پر سرکاری مہر لگ گئی ۔ مُورے سے اس کا رابطہ خط و کتابت تک محدود رہ گیا تھا ، وہ بھی اس نے 1941ء میں ختم کر دیا ۔
’نیلے گھر ‘میں ٹراٹسکی کے قیام کے دوران اس کا فریدا کے ساتھ رومانس بھی چلا اور وہ ہم بستر بھی رہے ۔ یہ بات ٹراٹسکی اور ’ڈییگو ریویرا ‘ کے درمیان اختلاف کا باعث بنی اور ٹراٹسکی کو اپنی بیوی کے ہمراہ یہ گھر چھوڑنا پڑا اور اس نے نیلے گھر سے چند بلاک دور ایک گھر میں اپنی رہائش منتقل کی جو ٹراٹسکی کی قتل گاہ بھی ثابت ہوئی ( ٹراٹسکی کو سٹالن کے ایجنٹوں نے 21 اگست 1940 ء کو قتل کر دیا تھا ۔ ٹراٹسکی اس وقت ساٹھ سال کا تھا) ۔ کچھ مورخوں کا خیال ہے کہ ٹراٹسکی نے نیلا گھر اس لئے چھوڑا تھا کہ اس پر پہلا قاتلانہ حملہ جو 24 مئی کو ہوا تھا وہ اسی گھر میں ہوا تھا جس کے بعد ’ڈییگو‘ پہلے روپوش ہو گیا تھا اور پھر سان فرانسسکو چلا گیا تھا ۔ ان مورخوں کا خیال ہے کہ’ڈییگو‘ ٹراٹسکی کے خیالات سے ہٹ کر سٹالن کا حامی ہو رہا تھا ( جیسا کہ بعد میں ہوا بھی کہ ریویرا اور فریدا دونوں سٹالنسٹ ہو گئے تھے ) ۔ ٹراٹسکی کے قتل کے بعد فریدا کو کچھ دیر پویس کی تفتیش کا بھی سامنا کرنا پڑا جس کے بعد وہ علاج کی غرض سے ڈاکٹر ایلوسر کے پاس سان فرانسسکو چلی گئی جو فریدا کے میکسیکن معالج کی اس بات سے متفق نہیں تھا کہ فریدا کو سرجری کی ضرورت ہے ۔ اس کا موقف تھا کہ فریدا کے جگر کی انفیکشن اور جسم میں خون کی کمی کے باعث یہ ممکن نہیں ہے اور اسے اس وقت تک آرام کی ضرورت ہے جب تک اِن پر قابو نہ پا لیا جائے ۔ اسی کی مداخلت پر فریدا اور ریویرا میں صلح ہوئی اور وہ 8 دسمبر 1940 ء کو پھر سے شادی کے بندھن میں بندھ گئے ۔ اس روز ریویرا کی 54ویں سالگرہ بھی تھی ۔ اس برس فریدا کا کام میکسیکو اور امریکہ میں نمائش کے لئے پیش ہوتا رہا جن میں ’ دو فریدائیں ‘ (The Two Fridas) اور ’ زخمی میز‘ (The Wounded Table) نے خاصی پذیرائی حاصل کی ۔ ’ دو فریدائیں ‘بھی فریدا کی زندگی کے المیے کی ایک عمدہ چتِرن ہے ۔ طوفانی موسم میں ایک ہی بنچ پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے دو فریداﺅں میں ایک فریدا وہ ہے جو شہری (Urban or cosmopolitan) ، مضبوط ادارے کی مالک اور آزاد ہے ۔ اس نے دوسری فریدا کا دایاںہاتھ تھام رکھا ہے جو کمزور اور روایتی میکسیکن عورت ہے ۔ اس روایتی اور کمزور فریدا کا دل کٹا پھٹا ہوا ہے جب کہ سفید لباس میں ملبوس فریدا کا دل سالم اور صحت مند ہے جو حالات کا مقابلہ کرتی زندہ ہے ۔ وہ ہیموسٹیٹ (Hemostat) کے ساتھ اس خون کو بند کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو کمزور فریدا کے کٹے پھٹے دل سے نکل رہا ہے اور روکے نہیں رک رہا ۔ روایتی اور کمزور فریدا نے ایک ہاتھ میں ڈییگو ریویرا کا منِی ایچر تھام رکھا ہے ۔ یہ سب ڈییگو ریویرا سے طلاق اور اس سے جنم لیتے دکھ کی نشان دہی کرتا ہے ۔ ’زخمی میز ‘ بھی اس کی طلاق سے جڑی ہوئی پینٹنگ ہے جس میں اس نے ’ دی لاسٹ سپَر‘ (The Last Super) کی روایت کو اپنے معانی پہنائے ہیں ۔ اس میں مصلوب ہونے والی وہ خود ہے جبکہ بقیہ کردار اس نے اپنی 1938 ء میں بنائی پینٹنگ ’ The Four Inhabitants of Mexico City ‘ سے اٹھائے ہیں ۔اس میں’ یہوداہ‘ ،جس نے یسوع مسیح سے غداری کی تھی ،ڈییگو ریویرا کو ظاہر کرتا ہے ۔ ماسکو میں نمائش کے دوران یہ پینٹنگ دیگر دو کے ساتھ گم ہو گئی تھی اور تاحال اس کا کچھ پتہ نہیں ہے ۔ ( جاری ہے )

نوٹ: تیسرا اور آخری حصہ پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔


بشکریہ

" کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ میں سریلیسٹ (Surrealist) ہوں جبکہ ایسا نہیں ہے ، میں خواب مصور نہیں کرتی بلکہ حقیقت کی تصویر…

Posted by Yasir Habib on Sunday, March 18, 2018

جواب چھوڑیں