( غیــر مطبــوعــہ ) جاتا بھی کہـاں جســــم کے پی…

( غیــر مطبــوعــہ )

جاتا بھی کہـاں جســــم کے پیکر سے نکل کر
منظر میں ہی موجود ہوں’ منظر سے نکل کر

ممکن ہے’ میں آدھا بھی نہ پہنچوں کہ وہاں تک
جانا ہے مجھے ۔۔ اُس کے برابر سے نکل کر

ســاحــل نے کئی بار یہ دیکھا ہے کہ لہـریں
پانی میں اُترتی ہیں مِرے سَـــر سے نکل کر

اکـــــ مچھــلی یہـی دیکھنے آئی سـرِ سـاحـل
کشـــتی کہاں جاتی ہے سَــمُندر سے نکل کر

سب لوگ سمَجھتے ہیں’ میں تنہا ہوں جہاں میں
بـاہَــر کبھـــــی آؤ مِــرے اندر سے نکل کر

خوں خوار اندھیرے کی حکومت ہے گلی میں
اس وقت کہاں جائے کوئی’ گھر سے نکل کر

وہ غیب سے ابھرا ہے ســـرِ عرصــۂ دُنیا
میں ســامنے آیا ہوں میسّـــــر سے نکل کر

اُس چشـــمۂ پُر سُـوز کا اِک ساز ہوں آزرؔ !
جو رزقِ ســــــماعت ہوا پتّھر سے نکل کر

( دِلاورعلی آزرؔ )

جواب چھوڑیں