محدود اوورز کی کرکٹ میں پاکستان ٹیم کی مسلسل خراب کارکردگی کے اسباب

بے ساختہ: ڈاکٹر کاشف رفیق

متحدہ عرب امارات میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد دورہ ء نیوزی لینڈ میں بھی ون ڈے انٹرنیشنل اور ٹی ٹوینٹی میچز میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی خراب کارکردگی کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک طرف جہاں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی کارکردگی غیر معمولی طور پر اچھی ہے تو دوسری طرف محدود اوورز کی کرکٹ میں ٹیم دن بدن مزید تنزلی کا شکار ہو رہی ہے۔ یہ بات بعض کرکٹ شائقین کے لیے تو حیرت کا باعث ہو سکتی ہے مگر کرکٹ ماہرین کے لیے اس فرق کی وجوہات کا تجزیہ کرنا زیادہ مشکل نہیں۔ اگر موازنہ کیا جائے تو پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کو مصباح الحق جیسے سمجھدار اور تجربہ کار کپتان کی خدمات دستیاب ہیں۔نیز یونس خان اور مصباح الحق جیسے ورلڈ کلاس بیٹسمینوں کی موجودگی نے ٹیسٹ ٹیم کی بیٹنگ لائن کو استحکام دیا ہوا ہے جبکہ ایک روزہ ٹیم کے کپتان اظہر علی ابھی نا تجربہ کار ہیں اور ایک روزہ کرکٹ سے مصباح الحق کی ریٹائرمنٹ سے بھی پاکستان ون ڈے ٹیم کی بیٹنگ خاصی کمزور ہو گئی ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے ون ڈے میچز میں مصباح الحق پاکستان کی ٹیم کو ہمیشہ مشکلات سے نکالتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ مصباح الحق کو ٹک ٹک کا خطاب دینے والے اب مصباح الحق کو یاد کرنے پر مجبور ہیں۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو محدود اوورز کی کرکٹ میں پاکستان ٹیم کی خراب کارکردگی کی سب سے اہم وجہ ٹیم سلیکشن میں ذاتی پسند اور نا پسند ہے۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ ٹی ٹوینٹی ٹیم میں کپتان شاہد آفریدی اپنے دوست کھلاڑیوں کو خراب کارکردگی کے باوجود کھلائے جا رہے ہیں۔ جس کی ایک مثال اوپنر احمد شہزاد ہیں۔ اسی طرح ون ڈے ٹیم کی سلیکشن میں بھی دیانتداری سے کام نہیں لیا جا رہا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کپتان اظہر علی کے بجائے ہیڈ کوچ وقار یونس زیادہ من مانی کر رہے ہیں۔ وقار یونس دو ورلڈکپ ٹورنامنٹس میں قومی ٹیم کے کوچ رہ چکے ہیں اور دونوں مرتبہ خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں اس کے باوجود انھیں کوچ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جو سمجھ سے بالا تر ہے اور ٹیم کی خراب کارکردگی کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ ان اسباب کے علاوہ کپتان اظہر علی اور محمد حفیظ کا محمد عامر کی ٹیم میں واپسی پر ہونے والا تنازعہ بھی ٹیم کے مورال کو پست کرنے اور ٹیم یکجہتی کو خراب کرنے کا سبب بنا جس کا براہِ راست اثر ٹیم کی کارکردگی پر بھی پڑا ہے۔اگر پاکستان ٹیم کی خراب کارکردگی کے سلسلے کو روکنا ہے تو اس کے لیے اربابِ اختیار کو چند اہم فیصلے کرنے ہوں گے جن میں ٹیم کی میرٹ پر سلیکشن کو یقینی بنانا بہت اہم ہے۔ اس کے علاوہ کوچ وقار یونس کو تبدیل کرنے پر بھی غور کرنا چاہیے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…