صحافت ، سیاست، ریاست

صحافت ، سیاست، ریاستhttp://faisalpak.blogspot.com/2018/04/blog-post_24.htmlپریس کسی بھی ریاست کا چوتھا ستون ہوتا ہے لیکن اس کا کردار اتنا اہمیت رکھتا ہے کہ باقی تین ستون اس کے گرد گھوم جاتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ نہ صرف صحافت آزاد ہو بلکہ صحافی بھی اسی معیار پر پورا اترتے ہوں۔ وطن عزیز میں اس ستون نے بڑے نشیب و فراز دیکھے۔ مثال کے طور پر سچ لکھنے یا حقائق سامنے لانے پر بعض صحافی مختلف ادوار میں پابند سلاسل ہوئے، کوڑے کھائے، معاشی مشکلات کا شکار ہوئے تو دوسری طرف حکمرانوں کی ہاں میں ہاں ملا کر بعض دوستوں نے لفافہ صحافت ہماری سیاست میں متعارف کروایا۔ مراعات لیں، اثاثے بنائے لیکن نہ تو خدمت کر سکے اور نہ نام و مقام بنا سکے۔بلکہ سوشل میڈیا کی بدولت ایسے لوگ بہت جلد ننگے ہوئے اور ماضی میں اپنی کمائی ہوئی عزت بھی خاک میں ملا بیٹھے،ہم نے دیکھا کہ جن ممالک  میں میڈیا آزاد ہے، آج وہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کہلاتے ہیں۔ اور جن ممالک میں یہ ستون پابند رہا یا حکمرانوں کے محل کے چکر لگاتا رہا۔ وہاں نہ سیاست سیاست رہی اور نہ ہی جمہوریت ارتقائی مراحل سے گزر کر مضبوط ہو سکی۔ نتیجتاً وہ من حیث معاشرہ تباہی کی جانب گامزن ہوئے۔ ہمارا معاشرہ بھی انہی میں سے ہے. وجہ شاید یہی ہے کہ معاشرے اور فیصلہ سازوں کی برائیوں کو منظر عام پر لاتے ہوئے تنقید براۓ اصلاح کرنے والے صاحب راۓ لوگ اور ان لوگوں کی راۓ  آزادنہیں، قلم کار ہی کسی قوم کی تاریخ رقم کرتے ہیں مگر آج کل رقم لے کر تاریخ لکھتے ہیں. امریکہ جس کو دنیا کا طاقتور ترین ملک سمجھا جاتا ہے اور وہاں کا صدر دنیا کا طاقتور ترین شخص کہلاتا ہے. لیکن آج سے چند برس پہلے  ہم نے دیکھا کہ سابق امریکی صدر نکسن کو ایک صحافی نے کہاں سے اٹھا کر کہا پھینک دیا، جو پالیسیاں نکسن کو دنیا کی طاقتور ترین شخص اور امریکہ کو واحد سپر پاور بنانے جا رہی تھیں۔ انہی پالیسیوں کو دنیا کے سامنےلا  کر  ایک اینڈرسن نامی صحافی نے واٹر گیٹ اسکینڈل کے نام سے دنیا کے سامنے پیش کیا اور پھر جو ہوا، وہ پوری دنیا جانتی ہے. پھر پانامہ لیکس کرنے والا صحافی اور دیگر بہت  سے.لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ یہاں میڈیا مختلف سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے. کون کس  کے لئے کام کر رہا ہے؟ کس چینل پر کس کی پگڑی، کیوں اور کس کے فائدے کے لئے اچھالی جا رہی ہے. یہ جاننا اور اس کا تجزیہ کرنا اب مشکل نہیں رہا. کیونکہ دنیا گلوبل ویلج سے سمٹ کر گلوبل ہٹ بن چکی ہے. اس ماحول میں ہمارا صحافتی معیار بڑھنے کی بجائے تنزلی کا شکار ہوا ہے. وجہ کیا ہے؟وجہ یہ ہے کہ ہمارا صحافتی معیار ہماری سیاست ہی کا عکاس ہے. جس ملک میں جیسی سیاست ہو گی وہاں ہمیں ویسی ہی صحافت ملے گی. جو صحافی اس اصول سے ٹکر لیتے ہیں، ان کو یا تو ملک چھوڑنا پڑتا ہے اور یا پھر دنیا. کہتے ہیں نا کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے.  ہمارے ہاں کی گندی سیاست نے گندی صحافت کی ضرورت کو محسوس کیا اور پھر اس کو پروان چڑھایا، جو عام آدمی کو ہمیشہ اپنی لہروں میں بہا کر لے جاتی رہی ہے، میڈیا رائے عامہ بنانے کا سب سے اہم ذریعہ ہےلیکن اب  یہاں مخصوص رائے بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہے. پیسہ لگاؤ اپنی بات لوگوں کو سناؤ، یہاں عام آدمی ہر اس چیز پر یقین کر لیتا ہے جو میڈیا اس کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اس بیچارے کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کے پیچھے کون  سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں، کہاں اور کس طرح سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کا لبادہ  پہننے کی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔سیاست اگر کاروبار بن چکا ہے تو صحافت بھی کاروبار ہی بنے گا۔ سیاست سے نظریات مٹ رہے ہیں تو صحافت کا معیار بھی تو گرے گا،  سیاستدان کرپشن کرے گا تو اسے چھپانے کے لئے صحافت کے میدان میں سرمایہ کاری تو کرنی پڑتی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے،محمّد فیصل

Leave your vote

1 point
Upvote Downvote

Total votes: 1

Upvotes: 1

Upvotes percentage: 100.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…