چیئرنگ کراس کا نوحہ

برسوں پہلے غلام عباس کے افسانے "اوورکوٹ” میں لاہور کی "چیئرنگ کراس” اور مال روڈ کا نام پڑھا تھا ۔ ۔ ۔ تب سے اس جگہ کو دیکھنے کی ایک گمنام سی حسرت دل میں تھی ۔ ۔ ۔ پھر جب خوبئِ قسمت سے لا-ہور میں مستقل سکونت کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ تو کئی بار خاص طور پر یہاں جا کر دیکھا ۔ ۔ ۔ اور چشمِ تصور سے اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ وہ ایکسیڈنٹ کہاں اور کیسے ہوا ہوگا ۔ ۔ ۔ مال روڈ کی جن حسین شاموں کا ذکر کتابوں میں پڑھا تھا ۔ ۔ ۔ ان کو دیکھنے کے لیے بھی کئی چکر لگائے ۔ ۔ ۔ مگر اب وہ شامیں جانے کہاں کھو گئیں ہیں کہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتیں ۔ ۔ ۔

کیونکہ آج اس جگہ کی سب سے بڑی پہچان یہاں آئے روز کے احتجاج ہیں ۔ ۔ ۔ پچھلے کچھ عرصہ سے تو شاید ہی کوئی ہفتہ احتجاج سے خالی گیا ہوگا ۔ ۔ ۔ ورنہ ہر روز کوئی نہ کوئی بدنصیب یہاں "تختِ لا-ہور” کی گڈگورننس کو رو رہا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ایک طرف پنجاب اسمبلی اور واپڈا ہاؤس جیسی اہم قومی عمارتیں اور دوسری طرف یہاں موجود ایک حساس ادارے کا صوبائی دفتر ۔ ۔ ۔ مگر مسئلہ ان طاقت ور لوگوں کا نہیں بلکہ ہم ایسے عام عوام کا ہے ۔ ۔ ۔ اس لیے جب تک کوئی طاقتور پلئیر مداخلت نہ کرے ۔ ۔ ۔ تب تک نہ پولیس راستہ خالی کرواتی ہے اور نہ انتظامیہ حرکت میں آتی ہے ۔ ۔ ۔ ایک تو پچھلے کئی دن سے لا-ہور کو ایک "اپاہج شخص” نے اپاہج کیا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ اور پھر دوسری مصیبت رئیل اسٹیٹ والوں کے فائیو سٹار احتجاج نے پیدا کی ۔ ۔ ۔ اللہ اللہ کر کے لیڈی ہیلتھ ورکرز کا احتجاج ختم ہوا تھا یہاں سے ۔ ۔ ۔ اور پھر یہ لوگ (بقول مقرر) ہزاروں گاڑیوں کا لشکر لے کر تختِ لاہور پر چڑھ دوڑے ۔ ۔ ۔ 

کل شام اجوکا تھیٹر نے الحمراء ہال نمبر ایک میں اپنے تازہ ترین کھیل "چئیرنگ کراس” کی نمائش کا اہتمام کیا تھا ۔ ۔ ۔ بمشکل عین وقت پر پہنچا تو دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ آدھے سے زیادہ ہال خالی تھا ۔ ۔ ۔ ۔ وجہ بعد میں معلوم ہوئی کہ مجاہدینِ اسلام میں پھر سے نفازِ شریعت کا جزبہ جاگ اٹھا ہے ۔ ۔ ۔ جس کا نتیجہ سڑکوں کی بندش کی صورت میں نکل رہا ہے اور بہت سے لوگ جو اس ٹریفک جام میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ وہ فون پر کھیل کو تاخیر سے پیش کرنے کی درخواست کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ بلآخر آدھا گھنٹا انتظار کے بعد کھیل شروع ہوا ۔ ۔ ۔ اور پھر دو گھنٹے کیسے گزر گئے، کچھ پتا ہی نہیں چلا ۔ ۔ ۔ کیونکہ ہماری ستر سال کی تاریخ کو جس طرح سے اس جگہ نے دیکھا ہے ۔ ۔ ۔ وہ شاید ہی کسی اور نے دیکھا ہو ۔ ۔ ۔ پنجاب اسمبلی کے سامنے نصب شدہ ملکہِ وکٹوریہ کے مجسمہ کو عجائب گھر پہنچا کر اس کی جگہ "کتاب” تو ہم نے لگا دی ۔ ۔ ۔ مگر افسوس صد افسوس کہ اس کتاب سے کوئی سبق نہ پڑھا ۔ ۔ ۔ اپنی بربادیوں کی داستان دیکھ کر رنجیدہ ہونا تو بنتا ہی تھا ۔ ۔ ۔ مگر فری میسن لاج المعروف "جادو گھر” میں بھٹکتی ملکہ کی روح نے جو سوالات ناظرین کے سامنے رکھے ۔ ۔ ۔ ان کا جواب شاید ہی کسی کے پاس ہو ۔ ۔ ۔ 

کھیل ختم ہوا اور روشنیاں بحال ہوئیں تو اپنا موبائل فون دیکھنے کا خیال آیا ۔ ۔ ۔ ایک ہم جماعت کے پیغامات پڑھ کر باہر کی صورتحال کا اندازہ ہوا ۔ ۔ ۔ وہ بیچاری یونیورسٹی سے اپنے گھر جانے کے لیے نکلی تھی ۔ ۔ ۔ اور اب پانچ گھنٹے سے ٹھوکر نیاز بیگ پر دیگر ہزاروں لوگوں کی طرح محصور تھی ۔ ۔ ۔ اور اب وہ مجھے بھی جلد سے جلد ہاسٹل واپس جانے کی تلقین کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ کیونکہ خادمِ پنجاب کی بہترین پولیس مٹھی بھر لوگوں کو ہاتھ لگانے سے گریزاں تھی ۔ ۔ ۔ اگرچہ سارے لاہور میں یہ صورتحال نہیں تھی، مگر مجاہدین نے ہاتھ ایسی جگہوں پر ڈالا تھا کہ اثرات سارے لا-ہور تک پہنچ رہے تھے ۔ ۔ ۔ میری آنکھوں کے سامنے ان مجاہدین کی گزشتہ یورش کا منظر نامہ ابھی موجود تھا جب نومبر کی آخری تاریخوں میں داتا دربار کے سامنے ہونے والے احتجاج کا میں عینی شاہد تھا ۔ ۔ ۔ اور کانوں میں وہی نعرہ سنائی دے رہا تھا ۔ ۔ ۔ "بے غیرت ہے بے غیرت ہے، حکومت بڑی بے غیرت ہے” ۔ ۔ ۔ ہاں واقعی یہ حکومت شاید ایسی ہی ہے جو اپنے ٹیکس گزار شہریوں کو احتجاج کرنے والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی ہے ۔ ۔ ۔ جب جس کا دل چاہے، چند سو لوگ لے کر جس مرضی شاہراہ کو بند کردے ۔ ۔ ۔ اور پھر حسبِ توفیق اپنے معاملات "سیٹل” کروالے ۔ ۔ ۔ 

مسئلہ چاہے کسی کو کسی سے ہو ۔ ۔ ۔ شامت سب سے پہلے اسی جگہ کی آتی ہے یا پھر میٹرو ٹریک کی ۔ ۔ ۔ اور مصیبت پڑتی ہے ان راستوں سے گزرنے والوں کو ۔ ۔ ۔ کوئی ان احتجاج کرنے والوں سے یہ نہیں کہتا کہ جناب آپ کو اگر وزیرِ اعلی پنجاب سے کوئی شکایت ہے تو ان کے دفتر یا گھر کے سامنے جا کر احتجاج کریں ۔ ۔ ۔ اگر صوبائی حکومت سے مسئلہ ہے تو سول سیکریٹریٹ کے سامنے جا کر بیٹھیں ۔ ۔ ۔ اور اگر حکمران جماعت سے تکلیف ہے تو اس کے دفتر جائیں ۔ ۔ ۔ مگر یہ مجاہدین بھی بڑے سیانے ہیں ۔ ۔ ۔ پتا ہے نا کہ وہاں گئے تو یہی پولیس مار مار کر دنبہ بنا دے گی ۔ ۔ ۔ اس لیے سارا احتجاج عام لوگوں تک ہی محدود رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ارے احتجاج کرنا آپ کا جمہوری حق ہے تو کیا ہمارے کوئی حقوق نہیں ؟ مگر یاد آیا کہ آپ کے حقوق کا تحفظ تو ان کی زمہ داری ہے جنھوں نے آپ سے یہ کام لینا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ہمارے حقوق کی کسے پرواہ ہے بھلا ؟ ۔ ۔ ۔ ہیں جی

اور مجھے پورا یقین ہے کہ یہ "احتجاج کلچر” جس نے بھی شروع کیا تھا، اور جس نے اسے پروان چڑھایا ۔ ۔ ۔ اس کو بھی ان تمام بدعاؤں میں حصہ تو لازمی ملتا ہوگا جو ٹریفک میں پھنسی ہوئی کسی ایمبولینس میں جاں بلب بیٹے کی ماں ان احتجاجیوں کو دیتی ہوگی ۔ ۔ ۔ خدارا ، شوق سے احتجاج کریں اور کروائیں ۔ ۔ ۔ مگر یہ راستوں کی بندش کسی صورت نہیں ہونی چاہیے۔ ۔ ۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…