شام شاعری، مقالہ بعنوان سید صداقت علی ترمذی

ہمدم دیرینہ سید صداقت علی ترمذی کے اعزاز میں خالد سجاد صاحب کی طرف سے سجائی گئی "شام شاعری” میں پڑھا گیا مقالہ،

یہ سنہ 2010 کی بات ہے جب محترم خالد سجاد صاحب کی ہی بزم میں پہلی بار صداقت علی ترمذی صاحب کی شاعری انہی کی زبانی سنی تو خواہش پیدا ہوئی کہ صداقت سے ملاقات کی جاۓ، ملاقات ، واقفیت اور دوستی چند ہی لمحات میں ہوئی، پتہ چلا کہ سادات گھرانے کا یہ مہتاب گوجرانوالہ کے ایک قصبے قلعہ دیدار سنگھ سے تعلق رکھتا ہے، عظیم نسبت اور بہترین تربیت ان کے اخلاق و کردار سے عیاں ہے.شاعر ، ادیب، کالم نگار اور بے شمار خصوصیات کے باوجود عجز و انکسار کا پیکر، صداقت کے ہاں شاعری کا وہ آہنگ موجود ہے جو اپنے سچ کو خود ظاہر کرتا ہے اپنی معصوم طبیعت کو خود اپنے ہی ایک شعر میں بیان کرتے ہیں کہ

ہم جیسے تری چال میں آ جاتے ہیں اکثر ایسے تو پرندے بھی نہیں جال میں آتے

پھر اپنے منصب کے مطابق سچ بھی محدود نہیں بولتے بلکہ سچ کہنے میں بھی لا محدودیت کے قائل ہیں اور اس سے اگلے شعر میں ہی یہ لامحدود سچ بھی کہہ دیا کہ

یہ نیک عمل تیرے جو اخبار میں آئے اچھا تھا اگر نامہء اعمال میں آتے

وطن کی محبت بھی صداقت کے جذبوں میں اک عظیم جذبہ ہے اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ وطن نے ہمیں کیا دیا لیکن صداقت بڑے فخر کے ساتھ وطن کی عنایات کا تذکرہ بھی اپنے مخصوص انداز میں کرتے ہیں کہ جلال، طاقت،عزت، وقار تجھ سے ہے، غرور تجھ سے ہے سب افتخار تجھ سے ہےیہ پھول کلیاں، عنادل، فضا تر و تازہ، مرے وطن یہ تو ساری بہار تجھ سے ہے ان کی شاعری میں وہ عشق یقینی طور پر پایا جاتا ہے جسے واقعی عشق کہتے ہیں ، لیکن ان کی تیز رفتاربھی گمراہی نہیں یقین نہیں آتا تو ان کی شادی کے بعد ان کا پہلا شعر ملاحظہ فرمائیں۔

اُس طرف ہاتھ چھڑاتا ہے کوئی ہاتھ سے اور،اِس طرف آنکھ سے سب خواب چھلک جاتے ہیں

وہ جس راستے پر چلتے ہیں وہاں پگڈنڈیاں بنتی چلی جاتی ہیں جن پر ان کے شاگردوں کا چلنا بہت آسان ہوتا ہے اقبال سے محبت اور اقبال کے فلسفہ خودی اور خودداری کا دامن کبھی نہیں چھوڑتے یہی وجہ ہے کہ کبھی اس انداز میں بھی اظہار خیال کرتے ہیں کہ

ہر بار ہم ہی بارِ ندامت اٹھائیں کیا ہر بار ان کو جا کے منانا بھی کیا ہوا

اور کبھی یوں کہ

روکے گا کوئی مجھ کو کیا میں ہوں سپاہی عشق کا اک ولولہ ، تازہ جنوں ، آیا ہوں میں طوفاں لئے میں ہوں مریدِ عشق اور اقبال میرا پیر ہے خدمت گزارِ پیر میں حاضر رخِ خنداں لئے

صداقت علی ترمذی عناصر اور ان کی ہم آہنگی کو سمجھتے ہیں اسی لیے ان کا لا شعور ان کی شاعری کی خوبصورت شعوری کیفیت تخلیق کرنے میں کافی توانا ہے۔ جب جب ان کا کلام سنا معلوم ہوا کہ آسمان سے مضامین و تخیلات کا اُترنا بند نہیں ہوا۔ وہ شاعری سے محبت کرتے ہیں اور شاعری ان سے محبت کرتی ہے لیکن یہ محبت انہیں کبھی دین سے غافل نہیں ہونے دیتی، اپنے اشعار میں اپنا عقیدہ بھی بہت خوبصورت اور سادہ الفاظ میں کہہ دیتے ہیں کہ،

عقیدہ ختمِ نبوتؐ ہماری نقدِ حیات رسول پاکؐ کی حرمت ہماری نقدِ حیات نبیؐ کی آل کی ہجرت بنامِ دینِ خدا خدا کا دین وشریعت ہماری نقدِ حیات

صداقت علی ترمذی خود آگہی کا مظاہرہ کرتے جا بجا نظر آتے ہیں، خالق اور اس کی مخلوق سے محبت کرنا ان کی عادت اور تربیت ہے لیکن وہ عشق کے مغلوب نہیں بلکہ عشق سے وابستگی کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیتے ہیں کہ

جب ظلم سر اٹھاتا ہے اکثر جہان میں آقا حسینؑ ملتے ہیں رہبر کے روپ میں پھر لشکرِ یزید پہ اک خوف چھا گیا زینبؑ جو بولی فاتحِ خیبر کے روپ میں تاثیر میرے خوں میں صداقت وفا کی ہے مقتل کو جا رہا ہوں بہّتر کے روپ میں

محبوب اور محبوبیت کے معیار کی پاسداری کرنا ان کی گھٹی میں ہے، حق بیان کرنا اور حق کا ساتھ دینا ان کا مزاج ہے اور اپنے مزاج اور عادت کے مطابق کیا خوب کہا ہے کہ

میری نسبت ہے اس قبیلے سے ، موت سے جس کو ڈر نہیں آیا نوک نیزہ پے چڑھ کے آیا ہے، جھک کے مقتل سے سر نہیں آیا

صداقت کا تخیل سمٹتا نہیں ہے بلکہ سماعتوں میں وسعتیں پیدا کرتا ہے ۔وہ عامیانہ پن سے بہت دور ہیں اور الفاظ کی آبرو کا خیال رکھتے ہیں،لفظ کی حرمت کے پاسبان ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انقلاب صرف شمشیر سے نہیں قلم سے بھی جنم لیتے ہیں اور قلم کی اس طاقت کو ان الفاظ میں لکھتے ہیں کہ،

قلم کی طاقت سے ہی بدلوں گا تجھے اے حاکم وقتمیں اپنے الفاظ سے ترے ظلم کو پھانسی دوں گا

صداقت ترمذی کے ہاں بہت کچھ نیا ہے اور یہ نیا پن ان کا اپنا ہے۔ زندگی کی شناخت ان کے جریدے کی تازہ خبر ہے ،وہ فرار کی راہیں تلاش نہیں کرتے بلکہ راہبر بن کر راستہ دکھاتے ہیں، وہ زمانے میں بکھرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ زمانے کو اپنے اندر سمیٹ رکھا ہے۔وہ بقراطیت کے قائل نہیں اور نہ روایت سے غیر ضروری چھیڑ کرتے ہیں، وہ اپنے دور میں موجود ہیں اور اپنی موجودگی کے جواز فراہم کرتے رہتے ہیں۔

محمّد فیصل

جواب چھوڑیں