داستان ایک پتّے کی

بہار کا موسم تھا۔ ہر طرف سر سبز دکھائی دے رہا تھا، پھول کھل رہے تھے، پرندے چہچہا رہے تھے، بُلبُلیں گانا گا رہیں تھیں، ٹھنڈی ٹھنڈی تازہ ہوا چل رہی تھی، چڑیاں چوں چوں کررہیں تھیں، مور ناچ رہے تھے۔ تتلیاں اپنے پروں کو سجا رہیں تھیں، چشمے بہہ رہے تھے، جنگل میں پھول جا بجا کھِل رہے تھے، جانور سبزہ چرنے میں مگن تھے، کوئل درخت کی ٹہنیوں پر جھولے جھول رہی تھی، درختوں کے پتے لہلہاہ رہے تھے، میں بھی درخت کی ایک ٹہنی پر لہلہاہ رہا تھا، کیڑے مکوڑے موسم بہار کی نعمتوں سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ غرض یہ کہ ہر طرف سے محبت کی خوشبو آرہی تھی، اس منظر کو دیکھ کر میں بہت خوش تھا کیونکہ میں ابھی تک جوانی کے جوش میں تھا، میرا بدن بہت نازک تھا، میں تتلیوں کے پروں پر اپنا چہرہ دیکھتا رہتا تھا۔ جب بھی ہوا چلتی تو میں جھولا جولنے میں مصروف ہوجاتا اور لہلہاتا رہتا۔ درختوں پر بہت سے پتّے ہوا کرتے تھے ہر ایک اپنی جگہ پر خوش اور لہلہاہ رہا تھا۔ میں خوشیوں میں اتنا محو تھا کہ دُنیا سے بے خبر تھا۔ میرے اردگرد کچھ بھی ہوتا مگر میں کسی کے کام میں دخل اندازی نہیں کرتا تھا۔ مجھے کسی کے کام سے کچھ غرض بھی نہیں تھی۔ صرف موسم بہار کا مزہ لے رہا تھا۔ دن گذرتے گئے وقت نے کسی کا انتظار نہیں کیا مگر مجھے وقت کے ساتھ چلنا پڑا۔اچانک موسم خزاں نے حملہ کردیا۔ سرد اور تیز ہوائیں چلنے لگیں۔ درختوں کے پتے زرد ہونے لگے ہرطرف پیلا پیلا نظر آنے لگا۔ پھول مرجھانے لگے پرندوں نے چہچہانا چھوڑ دیا۔ بلبلوں نے گانا گانے بند کردئیے۔ موروں نے ناچنے چھوڑ دئیے۔ تتلیاں علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔ جانوروں کو سبز گھاس لینا مشکل ہوگیا۔ میری جوانی بھی دم توڑنے لگی۔ خوشیاں غم میں تبدیل ہونے لگیں۔ ہرایک اپنے آپ کو بچانے کے چکر میں لگا ہوا تھا۔ درختوں کے پتے گرنے لگے۔ میرا بدن بھی اب زرد ہونے لگا۔ میں نے درخت کی ٹہنی پر اپنے پاؤں جمانے کی بہت کوشش کی۔ مگر میں اتنا کمزور ہوگیا تھا کہ ہوا کے ایک جھونکے نے مجھے ٹہنی سے جدا کردیا۔ اور میں ہوا میں اُڑنے لگا۔ زمین مجھے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ ہوا مجھے تیزی سے دھکیل رہی تھی۔ میں ہوا میں اُڑتے ہوئے قلابازیاں کھا رہا تھا۔ آخر کارمیں زمین پر گرگیا۔ میرے ارد گرد بہت سے پتے پہلے ہی گرے ہوئے تھے۔ زمین پر گرنے کے بعد میں اپنی جوانی مکمل کھو بیٹھا۔ میری ساری طاقت ختم ہوگئی۔ میری خوشیاں غم میں تبدیل ہوگئیں۔ اب میں زمین پر گرا ہُوا، ہوا کے رحم وکرم پر تھا کہ کب تیز ہوا چلے گی اور مجھے ایک جگہ سے دوسری جگہ دھکیل دے گی۔ میں اتنا کمزور ہو گیا تھا کہ اپنے آپ کو دوسری طرف حرکت نہیں دے سکتا تھا۔آخر کار میرا سارا بدن خشک ہوکر سوکھ گیا اور جب بھی جانور میرے اوپر اپنے پاؤں رکھتے تو میرا بدن چرچرا جاتا اورٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ اب تک میرے بدن کے سو سے زیادہ ٹکڑے ہوچکے ہیں اور میں خشک گھاس پھونس میں تبدیل چکاہوں۔ اب میں کسی کام کا نہیں رہ گیا۔ میرا سارا زور ختم ہوگیا۔ پتوں سے میرا اتحاد ٹوٹ گیا۔ ہم ایک ہی درخت کے پتے ہزاروں ٹکڑوں میں بکھر گئے۔ اب ہمارا یکجا ہونا ناممکن ہوگیا ہے۔ کیونکہ ہماری ساری صلاحیتیں ختم ہوگئی ہیں۔ اب میں خشک گھاس پھونس بن چکا ہوں۔ لیکن پھر بھی ایک اُمید باقی ہے اور اُس وقت کا انتظار ہے کہ کون ہمیں یکجا کرنے کی کوشش کرے گا۔ کون ہمارے بدن پر آگ لگانے کی کوشش کرے گا۔ مگر تم پھر بھی خوف میں مبتلا ہو کہ میں آگ کا ایک شعلہ بن سکتا ہوں۔ اگر میں آگ کا شعلہ بن گیا تو میری چنگاریاں دور دور تک پھیل جائیں گی اور میرا دھواں ہوا میں شامل ہو جائے گا۔ تمھیں خوف ہے کہ کہیں میرا دھواں تمھیں اندھا نہ کردے۔تمھیں خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری ایک چنگاری تمھارے گھر کو راکھ نہ کردے۔تمھیں خوف ہے کہ میرا دھواں ہوا میں اُڑ کر کہیں بادلوں سے نہ ملے اور بارش کی بوند بن کر سیلاب کی شکل اختیار نہ کرلے۔ میری وجہ سے تم پر نیند حرام ہوگئی ہے۔تمھیں خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو تمھارے کارخانوں پر میری ایک چنگاری گِر کر اُنھیں راکھ نہ کردے۔ اب تم مجھے ختم کرنے کیلئے ہر حربے استعمال کروگے کبھی مجھے زمین میں گاڑھ دیتے ہو تو کبھی پہاڑوں میں پھینک دیتے ہو تو کبھی سمندر میں گِرا دیتے ہو تو کبھی جانوروں کی خوراک بنا دیتے ہو۔ یادرکھو!میں کبھی ختم نہیں ہوسکتا بلکہ میں وقت و حالات کے مطابق اپنی شکل تبدیل کرتا رہتا ہوں۔ مجھے آگ لگانے کی کوشش مت کرو ورنہ بہت پچھتاؤ گے۔

جواب چھوڑیں