عشق محشر سی ادا رکھتا ہے : چوتھی قسط

حمیرا فضا

تین دن بعد حویلی کے نوکر کو حویلی کے باہر پھینک دیا گیا تھا۔اُس کا جسم اتنا کمزور ہو چکا تھا اور زخم اِتنے گہرے کہ وہ چاہ کر بھی اپنے قدموں پر کھڑا نہ ہو سکا۔اُس کے ماتھے اور منہ سے ابھی تک خون رس رہا تھا،مگر درد کہیں تھا تو دل کے اُ ن سیکڑوں ٹکڑوں میں تھا جو اُس کی بقیہ زندگی میں دوبارہ جڑنے والے نہیں تھے۔کچھ دیر بعد حویلی کے دیگر نوکر اور مالی بابا اُسے سہارا دے کر اندر لے گئے۔وہ حویلی اُس کی نہیں تھی ،لیکن اندر داخل ہوتے ہی تحفظ اور زندگی کے احساس نے اُسے گھیر لیا ۔ اپنوں کو دیکھ کر تکلیف کم ہونے لگی تھی۔ اُسے دوا کے ساتھ ہمدردی کی بھی ضرورت تھی۔نجانے وہ کیسے یہ خواہش کر بیٹھا کہ ممانی جان آگے بڑھ کر اُس کے سر پر ہاتھ رکھے گیں اور لمبی زندگی کی دعا دے گیں۔۔۔نجانے اُس نے کیسے سوچ لیا کہ جازم کے چہرے پر پشیمانی ہوگی اور وہ اُسے اِس حال میں دیکھ کر کچھ پل کے لیے مغرور گرد ن جھکا لے گا۔۔۔ نجانے اُسے کیوکر خیال آیا کہ جیون اُسے دیکھتے ہی کچھ قدم پیچھے ہٹ جائے گی اور ندامت سے آنکھیں چُرا لے گی،لیکن یہ صرف ایک بیمار اور لاچار وجود کی خوش فہمی تھی۔دماغ پر لگنے والی چوٹ اور صدمے نے اُسے اِس لمحے حد سے زیادہ حساس کردیا تھا۔وہ اُن سے بھلائی کی توقعات کر رہا تھا جو اُسے اِس حال تک پہنچانے کے ذمہ دار تھے۔ سامنے کھڑے ہوئے لوگوں سے اُس کا خون کا رشتہ تھا ،مگر کسی بھی چہرے پر نہ فکر تھی نہ اُس کا انتظار ۔
"کس قدر بزدل مرد ہو تم کہ دو چار غنڈوں سے بھی نہ نبٹ سکے۔تمھیں اپنے زندہ ہونے پر شرم آنی چاہیے ۔”
ذکیہ بیگم نے اُسے حقارت سے دیکھ کر ملامت کی۔
"مردانگی۔۔۔عزت ۔۔۔غیرت سے تو اِس کا دور دور تک واسطہ نہیں امّی جان۔یہ ایک بزدل انسان ہے۔”
ذکیہ بیگم کے برابر کھڑا جازم اُسے بے عزت کرنے میں کہاں پیچھے رہا تھا۔
"حویلی کی حفاظت کے لیے حویلی کے نگہانوں کو بہادر ہونا چاہیے۔سیف تم تو اِس قابل ہو کہ تم سے چّکی یا مصالحہ جات پیسوانے چاہیے۔”
آہ۔۔۔جیون کے طنز اور مذاق نے اُس کی رہی سہی ہمت بھی ختم کردی۔
کتنی ہی د یر اُس کے اپنے اُسے تضحیک کا نشانہ بناتے رہے۔ اُس کی زخمی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں تو ٹوٹا دل درد سے ،لیکن وہ کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے چپ چاپ کھڑا رہا۔اُن تینوں کی ناگوار نظریں اُسے بار بار جتا رہی تھیں کہ اُس کی زندگی اور موت کسی کے لیے معنی نہیں رکھتی ۔اُن کا بے رحم رویہ اُسے احساس دلا رہا تھا کہ یہ لفظوں کی کاٹ جسمانی زخموں سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے۔ بے بسی ،غصے کی آگ تھوڑی تھوڑی بڑھتی پورے وجود میں پھیل چکی تھی۔اُس کا دل کیا ساری حقیقت کھول کر سامنے رکھ دے، ذکیہ بیگم کو ایک ایک بات سے آگاہ کردے ،مگر اُسے اب تک اُس لڑکی کی عزت پیاری تھی جس نے اُس کے وقار کی دھجیاں اُڑا دی تھیں۔وہ چپ رہا کیونکہ یہاں اُسے سننے اور سمجھنے والا کوئی نہیں تھا۔
"لے جاؤ اِس نکارہ شخص کو اِس کے کمرے میں۔”
جازم کے حکم پر دو نوکر اُسے اُس کے چھوٹے کمرے تک چھوڑ آئے ،لیکن اُس پر ہنستی آوازوں کی بازگشت اُس کے ہمراہ آئی تھی ۔اِس بے عزتی کے بعد وہ پورا دن اپنے کمرے میں بند رہا،مگر شام ڈھلے وہ اُس کے کمرے میں چلی آئی تھی ، زخموں کو اُدھیڑنے اور نمک چھڑکنے میں ابھی بہت سی کسریں جو باقی تھیں ۔
دیکھنے بھی جو وہ جاتے ہیں کسی گھائل کو
اک نمکداں میں نمک پیس کر بھر لیتے ہیں
"اچھا تو یہاں منہ چھپا کر بیٹھے ہو۔ویسے مزاج کیسے ہیں جناب کے؟ عقل تو ٹھکا نے آہی گئی ہو گی کہ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کا کیا انجام ہوتا ہے۔کمی لوگ مالکوں سے الجھیں تو اُنھیں دْھول ہی چاٹنی پڑتی ہے۔”
وہ زور سے دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی اور ایک کے بعد ایک طنز کے نشتر برسانے لگی۔
"میں تمھیں بچانا چاہتا ہوں جیون۔تم نے وہ خط جازم تک پہنچا کر بہت بڑی غلطی کی۔میں سچ کہہ رہا ہوں وہ تمھارے قابل نہیں ہے۔”
سیف نے اپنے زخموں پر مرہم لگاتے ہوئے آزردگی سے کہا۔
"خبردار !جو جازم کے بارے میں اب کوئی بکواس کی۔تم پہلے بھی میری محبت کی شان میں گستاخی کر چکے ہو ، مزید کچھ بولے تو کھال کھینچ لونگی تمھاری۔”
وہ ساری دوائیاں فرش پر گراتے ہوئے بھنّا کر بولی ۔
"میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں جیون۔۔۔تم میری کھال کھینچ لو۔۔۔میرا منہ توڑ دو ۔۔۔یا مجھے جان سے مار دو ، مگر اُس شخص سے کہو کہ و ہ تم سے شادی کر لے۔”
اُس نے جیون کے قدموں میں بیٹھ کر کانپتی آواز میں التجا کی تھی۔
"ایک تم ہی تو خیر خواہ ہو میرے۔تم نے سیدھا راستہ نہ دکھایا تو ، میں تو گم جاؤں گی۔تمھارا یہ احسان ،یہ بھلائیاں کہاں بھول پاؤں گی میں سیف ۔”
وہ سپرٹ کی چھوٹی شیشی اُس کے کھلے زخموں پر انڈیل کر پاگلوں کی طرح ہنسنے لگی۔
"جانتا ہوں یہ ایک پاگل کا خواب ہے کہ وہ تمھیں یونہی ہنستا دیکھتا رہے،مگر وہ تمھاری ہنسی نوچ لے گا۔”
سیف نے درد اور چبھن سے کراہتے ہوئے جیون کو حسرت سے دیکھا۔
"اُس سے پہلے میں تمھاری آنکھیں نکال دونگی۔”
وہ اپنے لمبے ناخن اُس کے گالوں میں گاڑتے ہوئے غصّے سے غرّائی۔
"آنکھیں نکالنا آسان ہے۔۔۔چوٹ پہنچانا آسان ہے ۔۔۔بے عزت کرنا آسان ہے۔۔۔ہمت ہے تو جیون حیات کوئی وعدہ کرو۔۔۔کوئی شرط لگاؤ۔۔۔کوئی قسم اُٹھاؤ۔۔۔مجھے غلط ثابت کر دو بس۔”
سیف کی بے تاثر آنکھوں میں کچھ ایسا تھا کہ جیون دو پل کے لیے خاموش ہوگئی۔وہ اُسے کھلا چیلنج کر رہا تھا ۔اب کی بار اُس نے صحیح پاسہ پھینکا تھا۔
"تم اِس قابل نہیں ہو کہ تمھارے ساتھ سچ اور جھوٹ کا کھیل کھیلا جائے،تم سے شرطیں لگائی جائیں۔”
جیون نے تنّفر سے اُسے دیکھ کر دوائی کی شیشی کو ٹھوکر ماری۔
"تم ڈر رہی ہو۔۔۔ہاں تم ڈر رہی ہو۔۔۔شاید تمھیں بھی اب تک اُس پر ویسا اعتبار نہیں،ورنہ تمھارے اندر یہ چیلنج قبول کرنے کا حوصلہ ہوتا۔”
سیف نے بھڑکتی ہوئی آگ میں مزید تیل ڈالا۔
"بکو مت۔۔۔مجھے اُس پر اپنے آپ سے بھی زیادہ بھروسہ ہے ۔۔۔میں تمھیں چیلنج کرتی ہوں۔۔۔یہ جیون حیات کی زبان ہے ۔۔۔میری محبت کا وعدہ ہے ۔۔۔آج سے ٹھیک ایک ماہ بعد میری اور جازم کی شادی ہوگی۔”
اُس نے انگلی کے اشارے سے سیف کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا اور کمرے کی کئی چیزیں اپنے قہر سے فرش پر پٹختی باہر چلی گئی۔اُس کی جلتی خونخوار آنکھوں کے وعدے نے سیف کو اندر تک مطمئن کردیا تھا۔
*****
عجب یقین سا اُس شخص کے گمان میں تھا
وہ بات کرتے ہوئے بھی نئی اُڑان میں تھا
"نئے نئے پرندوں کو ابھی اِتنا نہیں اُڑنا چاہیے۔ پہلے اپنے پروں کی طاقت کو جانچنا چاہیے ۔پہلے آسما ن کی وسعتوں کو ماپنا چاہیے۔جلد بازی کی اُڑان اُنھیں زمین پر گر دیتی ہے۔”
وہ مغرور چال چلتی جازم کے کمرے کی طرف جارہی تھی کہ رقیہ ناز کی آواز نے اُسے رکنے پر مجبور کیا۔
شام کا وقت تھا ۔دالان کی مدھم روشنی میں رقیہ ناز کا دھندلا چہرہ دیکھ کر وہ یکدم چونکی۔ رقیہ ناز آہستہ آہستہ چلتی ہوئیں اُس کے قریب آگئی تھیں ۔جھریوں سے بھرے ہاتھوں میں چمکتی سونے کی چوڑیاں اور کمزور وجود پر پاؤں تک ڈھلکتی زرق برق روایتی پوشاک ۔ اِس عمر میں بھی اُن کے بناؤ سنگھار میں کوئی کمی نہ تھی۔شاید یہی وہ بہانے تھے جس سے وہ اپنا دل بہلاتی تھیں۔
"آپ یہاں؟”
رقیہ ناز کو اپنے سامنے دیکھ کر جیون کو اچھی خاصی حیرانی ہوئی۔اُس کا حیران ہونا جائز بھی تھا ۔کئی سالوں سے رقیہ ناز اپنے کمرے میں گوشہ نشیں ہو چکی تھیں۔ بہت کم ہوتا کہ وہ باہر نکلتیں اور آج یوں اُن کا اپنے کمرے سے آٹھ کمروں کا فاصلہ طے کرکے جیو ن کے پیچھے چلے آنا کسی معمے سے کم نہ تھا۔
"تم سب نے سیف کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔وہ اِس حویلی کا خون ہے۔تم سب اُس کے زخموں کا مذاق اُڑا رہے تھے کیا تمھارا خون اِس قدر سفید ہو چکا ہے ؟”
رقیہ ناز کا سوال اور انداز اتنا سخت تھا کہ جیون کو پسینے آنے لگے۔
” انسان کو اتنی بے دردی سے دھتکارنا ، رسوا کرنا ، تکلیف پہنچانا انسانیت کی تذلیل ہے ۔ ذکیہ اندھی ہو سکتی ہے ،میں نہیں۔اِس حویلی کے لوگوں کو تو زخم لگانے کی عادت ہے اور میں زخم لگانے والوں کی آنکھیں پڑھ سکتی ہوں۔گناہ کرنے والے چاہے جتنے پردے گرا لیں میرے سالوں کے تجربے نے اُنھیں ڈھونڈ لیا ہے۔”
رقیہ ناز کی جہاندیدہ نگاہیں جیون کے آر پار اُترنے لگیں تو اُس پر گھبراہٹ سی طاری ہوگئی ۔
"کہنا کیا چاہتی ہیں آپ؟”
جیون نے گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے سہمی آواز میں پوچھا ۔وہ ہمیشہ اُن کی شخصیت سے ایک الجھن سی محسوس کرتی تھی۔اور آج تو اُن کا انداز چوری پکڑنے والا تھا۔
"میرے کمرے کا دروازہ چاہے بند ہو،مگر کھڑکیاں کھلی رہتی ہیں۔ جو سیف کے ساتھ ہوا میں نے دیکھا۔۔۔جو وعدے پردے کے پیچھے ہوئے میں سن چکی ہوں ۔۔۔ جو طوفان آنے والا ہے میں وہ محسوس کر سکتی ہوں۔میری آنکھوں اور کانوں سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں لڑکی ۔ ”
اُن کے انکشافات ایسے تھے کہ جیون کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
"تو کیا رقیہ ناز سب جاتی ہیں؟ ۔۔۔نہیں۔۔۔ایسا نہیں ہو سکتا۔”
اُس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنے بولتے دل کو جھوٹی تسلی دی تھی۔
"جیون تم نادان ہو ۔اِس حویلی کے مکینوں کو نا محبت کرنا آتی ہے نا نبھانی۔اِس حویلی کی بنیادیں کھوکھلی ہیں اِس پر محبت کا مینار کبھی نہیں بن سکتا۔”
جیون کا چہرہ دھواں دھواں ہو چکا تھا۔وہ عجیب سے انداز میں اپنے قدم پیچھے ہٹانے لگی۔یہ اُس عورت کی دہشت تھی کہ اُس کے بیان کردہ لفظوں کا خوف وہ سر تا پیر پسینہ پسینہ ہوچکی تھی۔
"قصور تمھارا اور جازم کا بھی نہیں ۔تم دونوں کی تربیت کرنے والی کا ہے۔تمھاری تربیت کرنے والی نے محبت او ر نفرت میں کوئی فرق ہی نہیں رکھا ۔اُس نے تمھیں محبت سے نفرت کرنا سیکھائی ہے۔”
ذکیہ بیگم کے خلاف اُن کا کڑوا بولنا جیون کو طیش دلانے لگا۔
"تائی امی بہت اچھی ہیں۔ماں بن کر پالا ہے اُنھوں نے مجھے ۔وہ میرے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں ہونے دے گیں۔”
اُس نے سنبھلتے ہوئے ترش لہجے میں ذکیہ بیگم کی حمایت کی تھی ۔
"محبت کی سلیٹ پر نفرت کے حروف لکھنے والے۔۔۔نفرت کے آلے سے محبت کی پیمائش کرنے والے ۔۔۔انصاف کریں گے۔۔۔یہ تمھاری بھول ہے۔۔۔تم وہ دیکھتی ہو جو تمھیں سیکھایا گیا ہے۔۔۔میں وہ دیکھتی ہوں جو سچ ہے۔”
رقیہ ناز کا تلخ اور طنزیہ انداز ایسا تھا کہ وہ بے چین ہو اُٹھی ۔
"مجھے یقین نہیں ہو رہا کہ اپنی ہی بیٹی کے لیے آپ کے دل میں اِتنا زہر ہے،شاید اِس لیے کہ وہ آپ کی سگّی بیٹی نہیں۔”
جیون نے بھرپور اعتماد سے اب اُن پر وار کیا تھا۔
"جو محبت ، انسانیت اور خونی رشتوں سے سوتیلا پن کرتے ہیں وہ سگّے ہوکر بھی سگّے نہیں ہو سکتے۔”
رقیہ ناز کے جواب پر وہ ہکا بکّا سی اُنھیں دیکھتی رہ گئی۔
اُس نے سوچا جا کر یہ باتیں من و عن تائی امّی کو بتادے دے ،مگر رقیہ ناز کے خلاف جانا ایک نیا محاذ کھولنے جیسا تھا ۔اُس کا دل کیا اِس عورت سے لڑے ، اُس سے پوچھے کہ آخر کیوں وہ ذکیہ بیگم سے اِتنا بغض رکھتی ہیں ،مگر اُسے مصلحت سے کام لینا تھا ۔یہاں بات ذکیہ بیگم کے وقار سے زیادہ اُس کی اپنی عزت کی تھی۔
"میں آپ کی اُلجھی باتوں کو نہیں سمجھ سکتی۔اُمید کرتی ہوں کہ آپ مجھے بدنام کرنے کی کوشش نہیں کرے گیں۔”
جیون نے کمزور پڑتے ہوئے ملتجیانہ نظروں سے اُنھیں دیکھا۔
"مجھے ایسا کرنا ہوتا تو میرے کمرے کا دروازہ تمھاری طرف نہیں آنگن کی طرف کھلتا۔میرے سینے میں بہت سے راز ہیں،بہت سی بری یادیں ہیں۔میں چاہتی ہوں تم کوئی بری یاد نہ بنو۔”
رقیہ ناز نے اُسے ترحم بھری نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا اور واپس اپنے کمرے کی طرف جانے لگیں۔
"ایک بات سنتی جائیے ،بہت جلد میں آپ کو اور اُس سیف کو غلط ثابت کردونگی۔”
جیون نے اکڑی ہوئی گردن کے ساتھ اُنھیں ویسے ہی چیلنج کیا جیسے وہ ابھی سیف کو کرکے آرہی تھی۔
"مجھے اُسی وقت کا انتظار ہے ۔میں تمھارے لیے دعا کرونگی۔”
رقیہ ناز نے اُسے دیکھے بنا دھیمے لہجے میں کہا تھا۔
"جازم مجھ سے محبت کرتا ہے ۔۔۔تائی امّی میری فکر کرتی ہیں۔۔۔وہ دونوں میرے اپنے ہیں ۔۔۔آپ جیسے سوتیلے رشتے اور سیف جیسے کمتر لوگ جلد ہی محبتوں کی کامیابی کا مظاہرہ دیکھیں گے۔”
وہ تب تک خود کلامی کرتی رہی جب تک رقیہ ناز اُس کی نظروں سے اُوجھل نہ ہو گئیں۔اُسے اب جلد از جلد جازم سے ملنا تھا اُس کے پاس وقت بہت کم تھا۔
*****
"صرف سیف ہی نہیں۔۔۔وہ بھی جانتی ہیں۔۔۔وہ بھی جانتی ہیں۔”
جیون جازم کو دیکھتے ہی بوکھلائے ہوئے انداز میں بولی۔وہ تیار ہو کر کہیں جانے کے لیے کمرے سے نکلا ہی تھا کہ بے ترتیب سانسیں لیتی جیون سے ٹکرا گیا۔
"کون جانتی ہیں؟ کیا جانتی ہیں؟”
جازم اِس ناگہانی تصادم پر چونکے بنا نہ رہ سکا۔
"رقیہ ناز جانتی ہیں۔تمھارے میرے بارے میں سب کچھ۔”
جیون کے ہونٹوں سے لفظ بمشکل ادا ہوئے۔خوف۔۔۔فکر ۔۔۔شرمندگی سے اُس کی کالی آنکھیں لال ہو رہی تھیں۔
"تمھارا مطلب نانی جان۔۔۔”
جازم نے بے پروائی سے کندھے اچکا کر دوبارہ سے اُس کی بات دہرائی۔
رقیہ ناز کے حکم اور خواہش کے مطابق حویلی کا ہر چھوٹا بڑا فرد اُنھیں رقیہ ناز سے مخاطب کرتا ،مگر جازم کو اکثر اُنھیں نانی جان کہہ کر چڑانے کی عادت تھی۔
"ہاں۔۔۔وہی ۔۔۔تمھاری سوتیلی نانی۔۔۔پہلے سیف کی حمایت کی اور پھر تائی امّی اور اُن کی تریت کے خلاف زہر اُگلا ۔وہ مجھے سمجھانے آئی تھیں کہ اِس حویلی کے لوگ محبت کرنا نہیں جانتے۔ وہ مجھے خوفزدہ کرنے آئی تھیں ،ڈرانے آئی تھیں کہ میرے ساتھ نا انصافی ہوگی، کچھ برا ہوگا۔”
وہ جازم کے ٹھنڈے انداز پر بھڑکتے ہوئے اُسے ہر بات سے آگاہ کرنے لگی۔
"تم نے تو اِس حویلی کو میدانِ جنگ سمجھ رکھا ہے اور ڈر بھی کس سے رہی ہو ایک مخالف زخمی سپاہی سے۔مجھے تم سے اتنی بزدلی اور بیوقوفی کی امید نہیں تھی ۔ایک بوڑھی لاچار عورت کچھ نہیں کر سکتی جیون ۔”
جازم اُس کے خوف سے کانپنے پر اب چڑ سا گیا تھا۔
"محاذ ہی تو کھولا جارہا ہے ہمارے خلاف ۔پہلے اُس نوکر نے اور ا ب رقیہ ناز نے۔بظاہر کمزور دکھنے والے یہ دو لوگ کوئی بھی گہری چال چل سکتے ہیں۔حویلی میں میری بڑی عزت ہے۔ میں نہیں چاہتی کوئی مجھ پر انگلی اُٹھائے جازم۔تائی امّی کو خبر ہوگئی تو میرا سر ہمیشہ کے لیے جھک جائے گا۔”
جیون کے چہرے پر تفکّر اور اندیشوں کے کئی رنگ لہرا رہے تھے۔
"یہ تو تمھیں پہلے سوچنا چاہیے تھا احمق لڑکی۔”
وہ اُس کی بدحواسی سے محظوظ ہوتے ہوئے بے ساختہ ہنسا۔
"کیا مطلب ہے تمھارا ؟ ”
جیون اِس انہونی بات پر بری طرح چونکی تھی۔
"ارے مذاق کر رہا ہوں۔ایک گوشہ نشین عورت سے مت گھبراؤ جس کی نا گواہی کی اہمیت ہے اور نا فیصلوں کی وقعت اور رہی بات سیف کی تو اُسے اِتنی بری طرح سے مسلا گیا ہے کہ وہ عمر بھر بغاوت کرنے کا سوچے گا بھی نہیں۔”
جازم نے اب اُسے سنجیدگی سے سمجھا کر پُر سکون کر نا چاہا۔
"ہمیںشادی تو کرنی ہے ناں جازم ! تو اب کیوں نہیں؟جلد ہی مجھ سے شادی کرلو۔”
ـوہ اُس کا ہاتھ تھام کر جذباتی ہوئی تھی۔
"ہوجائے گی شادی بھی ،یہ شادی بس دنیا کو دیکھانے کے لیے ہوتی ہے۔تم ایسے بھی میری ہو جیون اور ویسے بھی۔بھروسہ رکھو! میں تمھیں بے آسرا نہیں چھوڑونگا۔”
جازم نے نرمی سے اُس کے گالوں کو تھپک کر اپنے ساتھ کی امید دلائی۔
"شادی ضروری ہے جازم۔ہم چاہے جتنے طاقتور ہوں یہ بات کھلتے ہی ہزار باتیں بنے گیں۔تم مرد ہو تم سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا،مگر میں ایک عورت ہوں اِس حویلی کے لوگوں اور نوکروں کے سامنے میری عزت سستی ہوجائے گی۔یہ معاشرہ نگل جائے گا مجھے۔مجھے کچھ نہیں پتا ، مجھے جلد ہی تمھارا نام چاہیے۔”
وہ نجانے کیوں کسی ہولناک خیال کے تحت سسک پڑی تھی۔
” silly girl خوبصورت لڑکیوں کو رونا نہیں چاہیے۔ یہ آنسوؤں کی آبشاریں اُن کے حسن کو دھو کر اور نکھار دیتی ہیں۔”
جازم گالوں سے ٹپکتے موتی انگلیوں سے اٹھا کر چومتے ہوئے شریر ہوا۔
"تو پھر مت رلاؤ مجھے ،اِسی مہینے کے اندر اندر مجھ سے نکاح کرلو۔”
جیون محبت کا انداز دیکھ کر اور ضد پر اتر آئی تھی۔
"یقیناً وہ احسان فراموش بڑھیا اور وہ خبیث نوکر اپنی چال میں کامیاب ہو چکے ہیں۔آخر اُنھوں نے تمھارے دماغ میں یہ خرافات ڈال ہی دی ہیں۔”
جازم کا شہد ٹپکاتا لہجہ یکدم کڑوا ہونے لگا۔
"تمھیں کیا لگتا ہے میں اُن کے بہکاوے میں آگئی ہوں۔یہ شادی ضروری ہے جازم۔میرے سکون کے لیے، میری عزت کے لیے ۔اِس رشتے کو خرافات کہہ کر اِس کی بے حرمتی مت کرو۔اِس رشتے سے تو ہر تعلق مضبوط اور مقدس ہو جاتا ہے۔”
جیون نے اُس کی بات کا برا مناتے ہوئے خفگی سے کہا ۔
"اچھا کہہ دیا ناں! تمھاری شادی جلد ہی ہوگی۔کل مجھے تین دن کے لیے شکار پر جانا ہے واپس آکر میں امّی جان سے بات کرونگا۔”
جازم نے اُس پاگل لڑکی سے مزید بحث نہ کرتے ہوئے بات ختم کرنا مناسب سمجھا ۔
"سچ!”
اُس کا یہ کہنا گویا جیون کے اندر نئی روح پھونک گیا ۔وہ جھومتی کھلکھلاتی ہوئی اُ س کے سینے سے لگ گئی تھی۔
*****
"میں نے قسم اُٹھا کر کہا وہ تمھیں دھوکہ دے گا۔۔۔
"میں نے تمھیں آگاہ کیا کہ وہ محبت کے خوبصورت جذبے سے ناواقف ہے۔۔۔
"میں نے تمھاری منت کی تھی اِس راہ کی مسافر مت بنو۔۔۔
"میں نے تمھارے آگے ہاتھ باندھے اپنی آنکھوں کو کھولو۔۔۔
"میں تمھارے آگے جھکا تھا کہ اپنا وقار بلند رکھو۔۔۔
"میں تمھارے سامنے رویا بھی کہ تم مسکراتی رہو۔”
اِس پورے ہفتے میں وہ جتنی بار بھی سیف سے ٹکرائی اُس کی سوجھی ہوئی آنکھوں میں اِنھی باتوں کا بیان تھا۔ شاید وہ اُس کے چہرے پر وہ فتح دیکھنے کا منتظر تھا جس کے دعوے جیون دھڑلے سے کر کے گئی تھی۔۔۔شاید وہ اُس خبر کو سننے کے لیے بے تاب تھا جسے سننے کی اُسے امید تک نہ تھی۔ہر روز لمحہ لمحہ پیچھا کرتیں سیف کی بولتی اداس آنکھیں جیون کے اندر کی بے سکونی مزید بڑھانے لگیں۔ کئی بار اُس کا دل کیا جواب طلب کرتی ،افسوس مناتی ،احسان جتاتی آنکھوں کے سوالوں کو کھری کھری سنادے،مگر وہ اب زباں سے نہیں اپنے عمل سے اُسے نیچا دیکھانا چاہتی تھی۔
بعد مدت مجھے نیند آئی بڑے چین کی نیند
خاک جب اُوڑھ لی اور خاک بچھالی میں نے
وہ ہرے بھرے پودوں کے پاس پڑی خشک مٹی پر سر جھکائے بیٹھا تھا۔خاک سے بنے انسان کو کبھی کبھی خاک سے ہمکلا م ہونا چاہیے۔اپنے وجود کی خاک کو زمین کی خاک سے ملنے دینا چاہیے۔اِس مٹی کو محبت سے دیکھ کر چھو کر بتانا چاہیے کہ یہ جسم اُس کا حصہ ہے اور اپنے وجود کو بار بار یہ باور کرانا چاہیے کہ یہ مٹی اُسی کی سانجھی ہے، مگر ایسا ہر شخص نہیں کر سکتا ،ایسا وہی کر سکتا ہے جس نے زندگی کو ریت کی طرح ہاتھ سے پھسلتے ہوئے دیکھا ہو ۔اُن تین دنوں کی اذیت نے اُس کے دل میں اِس مٹی کی قدر و قیمت بڑھا دی تھی ۔وہ آج اِس مٹی سے کئی باتیں کر نے آیا تھا۔مٹی سے بنے اِنسان کے غرور پر ماتم منانے آیا تھا۔وہ مٹی کے پتلوں کی شیطانی چالوں پر حیران تھا جو عارضی لذت کے لیے سگے رشتوں کا لہو چوس رہے تھے۔وہ جازم کا اپنا ہو کر بھی غیر تھا،مگر جیون؟ جیون تو جازم کی اپنی تھی ،اُس جیسی تھی،اُس کی تھی۔اپنے ہی ہاتھ کے پالے کھلائے پرندوں کا شکار کون کرتا ہے ؟اور لوگ کرتے ہیں وہی لوگ جو بدفطرت اور سفاک ہوتے ہیں۔سیف نے بند آنکھوں کو اور سختی سے بند کیا اور پھر کھول دیا۔اب اُس کی نگاہ آسمان کی طرف اُٹھی ہوئی تھی اور دونوں ہاتھ ہوا میں بلند تھے۔
"میری دعا ہے اِن اداسیوں کی ہوا اپنا رخ بدلے ۔۔۔پچھتاوے کی خزاں اِس آنگن میں نہ اُترے۔۔۔ تم کبھی بھی بے وفائی کی دھوپ میں نہ جلو۔۔۔کبھی آنسوؤں کی بارش میں نہ بھیگو۔۔۔محبت اور مان کا موسم تمھارے آس پاس مستقل ٹھرے۔۔۔میری دعا ہے تم ستاروں سی روشن رہو ۔۔۔گلابوں جیسی شاداب رہو۔۔۔تم کبھی نہ تڑپو ۔۔۔کبھی نہ بکھرو۔”
سیف اُس دیوانی لڑکی کے چہرے کو دیکھ دیکھ کر دعائیں مانگ رہا تھا جو حویلی کے بالائی حصے پر واقع جازم کے کمرے کے سامنے گم سم سی کھڑی تھی جس کے چہرے پر انتظار کی تڑپ تھی جس کی آنکھوں میں اعتبار سلامت تھا۔وہ کچھ دیر اُس کی منتظر آنکھوں کو دیکھتا رہا اور پھر سے سر جھکا کر بیٹھ گیا۔
"اور جو تم ٹوٹ گئی ،بکھر گئی جیون تو کون سمیٹے گا تمھیں ؟ کون سنبھالے گا تمھیں ؟ میرا تو اتنا بھی حق نہیں کہ تمھارے آنسو صاف کر سکوں گا؟ ”
دعا ختم ہوئی تو کئی وہمے سر اُٹھانے لگے۔اُس نے سر جھٹک کر ایک بار پھر اوپر دیکھا۔وہ ابھی تک وہی کھڑی تھی۔وہ جانتا تھا وہ کیوں وہاں کھڑی ہے ،مگر وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ ہمیشہ وہاں کھڑی رہے۔ جازم کو شکار پر گئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا ۔وہ روز صبح دوپہر شام اُس کے کمرے کے سامنے آکر کھڑی ہو جاتی اور سیف چھپ چھپ کر اُسے تکتا رہتا۔وہ اپنے محبوب کی سلامتی کی دعائیں مانگتی تو سیف اپنے محبوب کی خوشی کی دعا کرتا۔وہ وہاں جازم کی خوشبو محسوس کرنے آتی تو سیف وہاں اپنی زندگی کو محسوس کرنے آتا۔وہ دونوں الگ کشتی کے مسافر تھے۔الگ دنیا کے لوگ تھے۔الگ جہاں کے پریمی تھے جو اپنے اپنے حساب سے محبت کو نبھا رہے تھے۔
ٌٌ*****
تمام جسم کو آنکھیں بنا کے راہ تکو
تمام کھیل محبت میں انتظار کا ہے
انتظار ہوتا ہی کیا ہے؟ اضطراب کی کیفیت۔۔۔الجھن کا سلسلہ۔۔۔اندیشوں کی کڑی ۔۔۔بے سکونی کا موسم ۔۔۔کوفت کا معاملہ۔انتظار کے دریا میں اُس نے ایک ایک لمحہ ہی نہیں کئی آنسو بھی بہا دیے۔ ۔۔تین دن کا وعدہ دو ہفتوں کے انتظار کے بعد وعدہ خلافی بن چکا تھا۔۔۔ پہلے وہ اُس کی خیر کی دعائیں مانگتی رہی ،اُس کے انتظار کی لذت کو محسوس کرتی رہی ،مگر اب اُسے اِس بے مروتی اور لاپروائی پر شدید غصہ آرہا تھا۔۔۔جازم نے اُس سے رابطہ کرکے نہ اُس کی خیریت پوچھی ۔۔۔نہ اپنی خیریت سے آگاہ کیا ۔۔۔۔نہ اُس کے کسی پیغام کا جواب د یا۔۔۔ نہ حویلی میں اپنے دیر سے آنے کی اطلاع بھیجی۔
"نجانے تائی امّی کیسی ماں ہیں ؟ جنھیں اپنے بیٹے کی اِن آزاد حرکتوں پر کوئی اعتراض تک نہیں ۔اُنھی کی ڈھیل کی وجہ سے وہ اِس نہج پر چل رہا ہے ۔وہ کیا سمجھتا ہے میں کوئی عام لڑکی ہوں۔ وہ اپنے قول و فعل سے مکرے گا اور میں بیچاری محبوبہ کی طرح ہنس ہنس کر یقین کر لونگی۔آنے دو اُسے اِس بار کوئی محبت کی بات نہ ہو گی۔اِس بار بس جنگ ہوگی۔ شادی کے بعد جناب کے سارے فضول شوق ختم نہ کرا دیے تو میں بھی جیون حیات نہیں۔”
اْس نے تند مزاجی سے جازم کے خالی کمرے کو چار سنائیں اور پھر اپنے کمرے میں آکر بند ہو گئی۔
اگلے روز ہر پھول کلی کی خبر رکھنے والی کو پتا چل ہی گیا کہ چمن کا شہزاد ہ آچکا ہے ۔جازم کو حویلی میں آئے چار گھنٹے گزر چکے تھے ،مگر وہ ضد پکڑے بیٹھی رہی کہ وہ خود آکر اُسے منائے گا۔صبح کی ضد دوپہر تک غصّے میں بدلی شام کو بے بسی میں ڈھلی اور پھر رات کو آنسوؤں میں بہہ گئی، لیکن جازم نے یہ معلوم کرنے کی کوشش تک نہیں کی کہ جیون کہاں ہے۔ وہ اُس کی سنگدلی پر احتجاج کرنا چاہتی تھی ،مگر دلِ ناداں کب سمجھنے والا تھا۔ تڑپ کی آگ پورے کمرے میں پھیل گئی تو اُسے انا کا دریا پار کرنا ہی پڑا۔
"میں اندر آسکتی ہوں ؟”
وہ دروازے پر منہ بسورے اجنبیوں کی طرح پوچھ رہی تھی۔وہ اُس وقت اُس بچے کی طرح ناراض تھی جس کا کھلونا ٹوٹ گیا ہو ۔
"بلکل نہیں جیون ! اِس وقت میں سخت پریشان اور مصروف ہوں۔”
جازم نے مڑ کر دیکھے بنا رکھائی سے جواب دیا۔اِس روکھے اور اجنبی رویے پر جیون کے اندر کی آگ مزید بھڑکی جسے اُس نے کچھ دیر پہلے پرسکون کیا تھا ۔
"تم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو؟ تین دن کا کہہ کر دو ہفتوں بعد آئے ہو۔ ۔۔نہ مجھے کال کی ۔۔۔نہ میرے کسی مسج کا جواب دیا ۔۔۔ اور تو اور واپس آکر یہ پوچھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی کہ میں زندہ ہوں یا مر گئی ۔”
ہ اب کمرے میں داخل ہو کر تیوریاں چڑھاتے ہوئے استفسار کررہی تھی ۔ اُس نے جازم کی گود میں رکھے سارے کاغذ ہوا میں اُچھال دیے ۔اُس کا ہر انداز حق جتانے والا تھا۔
"کیا بدتمیزی ہے یہ ؟ تم میری بیوی نہیں ہو جو یوں بازپرس کرو گی۔میری مرضی میں جب چاہے جہاں جاؤں، جتنے دنوں کے لیے جاؤں۔میں تمھیں یا کسی کو بھی بتانے کا پابند نہیں ہوں۔”
جازم آگ بگولہ ہوتے رعونت اور بے زاری سے چلایا۔
"میں سب پوچھنے کا حق رکھتی ہوں ۔ہماری شادی ہونے والی ہے۔”
جیون نے بے عزتی کے گھونٹ حلق سے نیچے اتارتے ہوئے کمزور لہجے میں مان سے کہا تھا۔
"شادی ۔۔۔ شادی ۔۔۔ابھی وقت ہے اِس شادی میں۔۔۔میں یہاں بہت سے مسائل کا شکار ہوں۔ابّا جان کا کاروبار آگے بڑھانا ہے ۔۔۔اگلے کچھ مہینے الیکشن کے ہیں۔۔۔تمھارے ساتھ وقت گزارنے کے علاوہ بھی میری بہت ساری ذمہ داریاں ہیں۔۔۔ایک سمجھدار اور پریکٹیکل لڑکی بنو۔”
جازم کی آواز کا کھردرا اور بیگانہ پن اُس کے دل میں پھانس کی طرح چبھ گیا۔
"مگر جازم ہماری شادی ؟ تم نے کہا تھا جلد ہماری شادی ہوگی۔”
وہ منہ کھولے حیرانی اور کرب سے وہی باتیں دہراتے ہوئے رو پڑی۔
"پلیز چپ ہو جاؤ! میں یہی عرض کر رہا ہو ں جان ! مجھے کچھ مسائل کو حل کرنے دو ،پھر تمھاری ایسی شاندار شادی ہوگی کہ پوری حویلی دنگ رہ جائے گی۔”
اُس کے آنسو جازم کے لہجے کو نرم اور دل کو موم کر گئے تھے ۔وہ اپنی مجبوریوں کا سہارا لیتے ہوئے مصنوعی محبت سے کام لینے لگا۔ فلوقت اِس جذبا تی لڑکی سے پیچھا چھڑانے کا اُسے یہی راستہ نظر آیا۔
"اِسی ماہ۔۔۔۔”
جیون نے بجھی بجھی آواز میں تصدیق چاہی ۔
"ہاں اِسی ماہ ۔۔۔”
جازم نے سابقہ لہجے میں وثوق سے کہا۔
وہ پھیکے سے انداز میں مسکرائی ۔بے عزتی کی بارش کے بعد پیار کے اِن چند قطروں کی کوئی اہمیت نہ تھی ۔ڈوبتے دل کے ساتھ وہ دروازے کی طرف بڑھی ، مگر اُس کی امید کے باوجود اُسے روکا نہ گیا۔

*****
"جازم تم ایسے تو نہیں تھے۔۔۔
تمھارا رویہ کتنا بدل گیا ہے ۔۔۔
تم نے کبھی مجھ سے اِس لہجے میں بات نہیں کی۔
آج کچھ پل کے لیے ہی سہی تم نے میرا دل دکھا دیا۔۔۔
کہیں تمھارے دل میں کچھ اور تو نہیں ہے ۔۔۔
نہیں۔۔۔نہیں ۔۔۔نہیں جیون۔۔۔یہ اُس معمولی نوکر کی سازش ہے ۔۔۔
وہ ہم دونوں کو لڑوا کر تماشا دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔
وہ اپنی کم حیثیت کا انتقام لینا چاہتا ہے۔۔۔
میں اُسے منہ توڑ جواب دونگی۔۔۔
جازم کے بارے میں غلط نہیں سوچو ں گی۔۔۔
اگر ایسا کچھ ہوتا تو وہ شادی کے لیے حامی نہ بھرتا۔۔۔
ہماری محبت عظیم تھی اور عظیم رہے گی۔۔۔
میں کتنی پاگل ہوں اُس سیف کی فضول اور بے معنی باتوں کو سوچ رہی تھی۔۔۔
وہ نوکر ہے چھوٹی سوچ بونے قد والا نوکر ۔۔۔”
اُس نے سب منفی خیالات جھٹک کر دل ہی دل میں سیف کو برا بھلا کہا ۔ابھی وہ اِن باتوں کے اثر میں تھی کہ دور سے سیف آتا دیکھائی دیا۔اُس نے حقارت سے توڑی ہوئی کلیاں نیچے پھینک کر کھوسے کی نوک سے مسلیں اور اُس کے قریب آنے کا انتظار کرنے لگی۔
سیف نے ابھی تک کئی دنوں کا میلا کرتا پہن رکھا تھا ۔جس پر جابجا لگے خون کے دھّبے خشک ہو چکے تھے ،مگر اُس کے دل اور روح پر لگے زخم ابھی تک تازہ تھے۔اُس کا چہرہ فکر میں ڈوبا ہوا تھا تو پاؤں مٹی سے بھرے ہوئے۔اُس کی حالت کسی مجنوں سے کم نہ تھی ۔ایک ایسا مجنو ں جو لیلی کو پانے کا نہیں ، خوش دیکھنے کا خواہشمند تھا۔
"کس قدر بدبو آرہی ہے تم سے ۔تممھاری سوچ جتنی غلیظ ہے تمھارا حلیہ اُس سے بھی زیادہ۔”
وہ قریب آیا تو جیون غصّے سے کھولتے ہوئے کچھ قدم پیچھے ہٹی۔
"یہ لباس یادگار ہے یہ زخم سچائی کی لڑائی میں لگے ہیں۔یہ دھبّے تب تک نہیں دھلے گے جب تک تم جیت نہیں جاتی۔”
وہ دل گیر انداز میں ایسے بول رہا تھا جیسے ذہنی توازن کھو بیٹھا ہو۔
"مجھے لگتا ہے تمھارے دماغ پر کچھ زیادہ گہری چوٹ لگی ہے ۔”
جیون نے دانت پیستے ہوئے اُس کا تمسخر اُڑایا۔
"صرف دماغ پر نہیں ،دل پر بھی ۔یہ لباس میں اُس دن اُتارو ں گا جب تم سُرخ جوڑا پہنو گی۔بتاؤ وہ مبارک گھڑی کب ہے ؟”
وہ خون کے دھبّوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بے خوف ہو کر بولا۔
"کیوں کر رہے ہو یہ بکواس ؟ کیا مقصد ہے اِس جھوٹی پرواہ کا؟ انسان ہو یا جانور؟ کیوں میری خاطر خود کو اذیت دینے پر تلے ہو؟۔”
جیون نا چاہتے ہوئے بھی اُس کی معنی خیز باتوں کا مفہوم تلاش کر نے لگی تھی۔
"کیوں کہ تم میرے بچپن کی دوست تھی۔پھر تم دونوں نے مجھے اپنی دوستی سے محروم کر دیا۔ یاد کرو! بچپن میں جب تمھاری پونیاں اور کھلونے توڑ دیئے جاتے تو میں جازم کو سمجھاتا تھا ۔پھر تمھار ے دل کا ٹوٹنا کیسے برداشت کروں۔میں اپنی دوستی نبھاتا رہوں گا۔”
اُس نے جیون کے توہین آمیز الفاظ کا جواب نرمی او ر احترام سے دیا تھا۔
"نہیں چاہیے مجھے تمھاری سستی دوستی ۔۔۔میرے معاملات میں ٹانگ اڑانا چھوڑ دو۔۔۔رہی بات اُس مبارک گھڑی کی تو وہ جلد آنے والی ہے۔۔۔جلد ہی میری اور جازم کی شادی ہے ۔۔۔تمھارے منہ پر طمانچہ پڑنے والا ہے۔”
جیون نے اُس کا خلوص روندتے ہوئے زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی شادی کا جیسے اعلان کیا۔
مبارک ہو جیون۔۔۔بہت مبارک ہو۔۔۔بہت مبارک۔”
وہ آسودہ مسکراہٹ کے ساتھ پیچھے قدم ہٹانے لگا۔
جیون نے اُسے عجیب الجھی نظروں سے دیکھا ،کیونکہ اُس نے ایک بار نہیں کئی بار مبارک دی تھی۔
*****
"نفرت ہے مجھے باغی لڑکیوں سے ۔۔۔حد درجہ نفرت ! تم جیسی سرکش لڑکیاں زندگی کو محاذ سمجھتی ہیں اور موقع ملتے ہی رشتوں کے مقابل آکھڑی ہوتی ہیں۔۔۔تم جیسی گستاخ لڑکیاں مردوں کے حواس پر سوار ہوکر اُن کے سر پر ناچتی ہیں اور پھر دائو لگتے ہی اُن کا سر جھکا دیتی ہیں ۔۔۔تم جیسی نا شکری لڑکیاں پہلے عیش و عشرت کی طلبگار ہوتی ہیں اور جب سب کچھ مل جاتا ہے تو ناقدری کرتی ہیں۔۔۔تم جیسی نافرمان لڑکیاں پیار محبت عزت کے لیے ترستی ہیں اور پھر اپنی بری فطرت سے اِن سب جذبوں کو اپنے قدموں تلے روند دیتی ہیں۔”
وہ اُسے اپنے لفظوں اور ہاتھوں سے چوٹ پہنچاتے ہوئے غصّے اور غضب سے دھاڑ رہا تھا۔
"بتاؤ مجھے ! تمھاری ہمت کیسے ہوئی؟ اِس حویلی کی چوکھٹ پھلانگنے کی۔اِس حویلی کی آن سے کھیلنے کی۔تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ تم میری شان و شوکت کا جنازہ نکال کر جنت پا لو گی؟ تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میرا نام ڈبو کر تم نئی پہچان بناؤ گی ؟تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ تم میرے گلے میں ذلت کا پھندا ڈال کر خود عزت سے سانس لو گی ؟”
بھاری بوٹوں سمیت اُسے اتنی زور سے ٹھوکر ماری گئی جیسے وہ کوئی بے جان چیز ہو۔
صاحبہ کے ہونٹوں سے ایک دردناک چیخ بلند ہوئی اور وہ قالین پر گول گول گھومتی ہوئی دور جا گری ۔وہ چند ثانیے اُسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا رہا اور پھر بار بار وہی حرکت دہرا نے لگا ۔اب کی بار کمرے میں کئی چیخیں گونجیں جنھوں نے بند دروازے کی ہر حد کو پار کیا تھا،مگر اُسے شاید کسی کی بھی پرواہ نہیں تھی۔ اُس نے مزید جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صاحبہ کو بالوں سے پکڑ کر بیڈ پر گرایا اور الماری کی طرف بڑھ گیا۔جنونی انداز میں الماری کی ایک ایک چیز فرش پر پٹخ دی گئی تھی۔آخر کچھ دیر بعد اُسے اپنی مطلوبہ چیز مل ہی گئی۔صاحبہ کی آنکھیں خوف سے بند ہونے لگیں ،کیونکہ وہ آج درندگی کی ہر حد پار کرنے والا تھا ۔
"مت مارو مجھے۔۔۔ خدا کے لیے مت مارو مجھے۔۔۔مجھے بہت درد ہورہا ہے۔۔۔بہت درد ہو رہا ہے ۔۔۔خدا کے لیے رک جاؤ ۔۔۔مت مارو مجھے ۔”
صاحبہ روتے اور التجا کرتے ہوئے ہر ضرب کے بعد پاؤں گھسیٹ کر پیچھے ہوجاتی اور وہ اتنی ہی شدت بھری نفرت سے اُس کی طرف بڑھتا۔
"میرے گلے میں بدنامی کا طوق ڈال کر بھاگنے والی تھی تم ،اِس شرمندگی کی تکلیف سمجھتی ہو ؟میرے رتبے کی دھچّیاں اُڑانے والی تھی تم،اِس بے عزتی کا قلق جانتی ہو؟ دل کرتا ہے اِن پیروں کو توڑ دوں، جن کے سہارے چل کر تم نے میرے اعتماد کو توڑا ہے۔”
چمڑے کی بیلٹ سے صاحبہ کے سفید خوبصورت پیروں کو زخمی کر دیا گیا تو وہ تکلیف سے سسکنے لگی تھی۔
"تم بھاگ جا تی تو میری مردانگی پر سوال پیدا ہوتے ،میرے وقار پر انگلیاں اُٹھتیں ،مجھ پر ہر زبان تھو تھو کرتی ،ہر نگاہ لعنت بھیجتی۔”
وہ اُس کا نازک گلہ دباتے ہوئے وحشی پن کی حد کو چھونے لگا تھا۔
"معاف کردو مجھے۔۔۔ پلیز معاف کردو۔۔میں وعدہ کرتی ہوں۔۔۔ میں پھر ایسا نہیں کرونگی۔۔۔چھوڑ دو مجھے۔۔۔رحم کرو۔۔۔چھوڑ دو مجھے۔ ”
وہ دبی دبی آواز میں اُس کے دونوں ہاتھوں میں مچھلی کی طرح تڑپتے ہوئے رحم مانگ رہی تھی ۔
” تم جیسی لڑکیاں کچھ وقت کی محبت اور دو دن کی آزادی کی بھی حقدار نہیں۔سہو !اب یہ درد اور سڑو اِسی کمرے میں۔”
ایک زناٹے دار تھپڑ اُس کی آواز سے بھی زیادہ بلند ہوا تھا۔
وہ صاحبہ کے نیلے پڑتے جسم پر چمڑے کی بیلٹ پھینک کر کمرے سے باہر نکل گیا ۔ اُس کے جسم پر پڑنے والی ضربیں اتنی سخت تھیں کہ وہ اپنے وجود کو سمیٹ کر کئی گھنٹے بلبلاتی ر ہی۔اُس نے بیڈ کی چادر کو مٹھی میں سمیٹ کر آنسوؤں کا ایک سیلاب بہادیا ۔آج اِس شخص کے لیے اُس کے دل میں محبت کا کچّا دھاگہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔آج وہ پوری طرح سے بکھر گئی تھی۔
*****
کانچ کی لڑکیاں
جب آزادی سے سانس لینے کے لیے
کھڑکیوں سے جھانکتی ہیں
دروازوں کو کھول دیتی ہیں
آنگن کو پار کرتی ہیں
دیواروں سے سر ٹکراتی ہیں
تب حقوق کے کاغذوں پر
بغاوت کی مہر لگا کر
اُنھیں اُن کے وجود کے اندر
قید کر دیا جاتا ہے
انسان جب تک حق مانگتا رہتا ہے اُسے بزدل سمجھا جاتا ہے اور جب وہ اپنا حق چھیننے کی کوشش کرتا ہے اُسے باغی قرار دیا جاتا ہے ۔آزادی اور سکون سے سانس لینا صاحبہ کا حق تھا ،لیکن اُسے نافرمانی پر اکسایا گیا ،سرکشی پر مجبور کر دیا گیا تھا۔اب وہ قید کے اندر قید ہو گئی تھی بلکل ایسے جیسے بڑے پنجرے کے اندر چھوٹا پنجرہ بنا دیا جاتا ہے۔اتنا چھوٹا کہ انسان دو قدم بھی نہ چل سکے۔۔۔اتنا تاریک کہ اپنے وجود کا نشاں تک نہ ملے۔۔۔ اتنا تنگ کہ سانس لینا بھی محال ہو۔۔۔اتنا تعفن زدہ کہ زندگی بدصورت نظر آئے ۔یہ قید ایک کمرے کی قید نہیں تھی یہ سوچ کی قید تھی ،ذات کی قید تھی ،یہ جسم کی قید تھی ،یہ روح کی قید تھی ۔پہلی بار وہ اِتنے خوف سے کانپی تھی،پہلی بار اُس نے ایسی سزا بھگتی تھی ،پہلی بار وہ اِتنے درد سے لڑی تھی ۔یہ قید پہلی قید سے زیادہ اذیت ناک تھی۔ اُسے پوری طرح سے زنجیروں میں جکڑ کر ا ندھیرے کے ایک سمندر میں چھوڑ د یا گیا تھا ،جہاں بس خاموش آنسوؤں کا کھارا پانی تھا ،جہاں بس تنہائی کی شوریدہ لہریں تھیں، جہاں بس ایک طوفان کے بعد اگلے طوفان کا سامنا تھا۔وہ اِس قیدی سے لاتعلق ہو کر اپنا کمرہ الگ کر چکا تھا ،مگر وہ پہلے سے زیادہ اُس کی نظر میں تھی۔ وہ نہ اُس کی صورت دیکھنے آتا نہ فریاد سُننے ۔ اُس کا کھانا پینا ،پہننا اُوڑھنا سادہ کر دیا گیا تھا اور کمرے سے آسائش کی بچی کچی چیزیں بھی نکال لی گئی تھیں۔خالی تاریک دل اور خالی تاریک کمرہ اُس کے لیے اندر باہر ایک جیسا منظر تھا۔اب اُسے انسانوں کے تصور پر بس چاچی شگو کا چہرہ دیکھائی دیتا ،جو دن رات اُس کے کمرے کا پہرہ دیتیں،اُس پر کڑی نگاہ رکھتیں۔ارد گرد بس اذیتوں کے کانٹے تھے اور اُس کی حالت ادھ مسلے گلاب سی ہوگئی تھی جس کی جگہ نہ پھول توڑنے والے کے دل میں تھی نہ زندگی کے باغیچے میں۔
سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے
اے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے
مارنے والے نے بس توڑنے کی کسر چھوڑی تھی ہفتہ گزر چکا تھا ،مگر اُس کے پاؤں کی سوجن کم نہ ہوئی ۔آج کتنے دنوں بعد اُس نے اپنے گورے پیروں کو فرصت سے دیکھا تھا، سفید چمڑی پر عیاں ظلم کے سُرخ نشان اور خوبصورت تراشیدہ ناخنوں پر پڑی درد کی کالی لکیریں۔ وہ بیڑیوں میں جکڑے اپنے گورے پیروں کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ناچاہتے ہوئے بھی اُسے وہ دن یاد آگیا جب وہ اُس کے لیے پہلا تحفہ لایا تھا۔
"یہ کیا ہے ؟”
ایک لمبی ڈبیا اُس کے سامنے لہرائی تو اُس نے کافی کا مگ میز پر رکھتے ہوئے تجسس سے پوچھا۔
"کھول کر دیکھو ۔ ”
وہ اُسے محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے رومانوی لہجے میں بولا تھا۔
نفاست سے سُرخ گفٹ پیپر اتارنے کے بعد، ویلویٹ کی لال مخملی ڈبی میں سنہری ننھے موتیوں سے چمکتی سونے کی پائل دیکھ کر وہ یکدم اُچھل پڑی تھی۔
"اُف! یہ کتنی قیمتی اور پیاری ہے ۔”
صاحبہ کی آنکھیں خوشی سے چمک اُٹھیں ۔
"یہ نہ تمھارے پیروں سے زیادہ خوبصورت ہے اور نہ ہی قیمتی ۔”
اُس کے لہجے سے چاہت اور سخاوت ٹپکنے لگی تھی۔
"مگر اتنا قیمتی تحفہ دینے کی کیا ضرورت تھی؟میں تو سستی چیز سے بھی خوش ہوجاتی ۔”
صاحبہ نے سنہری موتیوں کو رشک سے دیکھتے ہوئے ممنونیت سے کہا۔
"تم خود قیمتی ہو تمھارے لیے کوئی قیمتی چیز ہی ہونی چاہیے ۔”
اِس بات پر صاحبہ نے اپنے محبوب کو فخر اور محبت سے دیکھا ،اور اِس دنیا سے پرے کسی اور ہی دنیا میں کھو گئی ،ایسی دنیا جو بے حد خوبصورت اور مکمل تھی ۔اُس نے کھلی آنکھوں سے اپنی تصوراتی دنیا کو پا لیا تھا۔
"کیا سوچ رہی ہو ؟ جلدی سے یہ پہن کر دیکھاؤ ! ”
وہ اپنا تحفہ اُس کی ہتھیلی پر رکھ کر فرمائش کرنے لگا تو وہ جیسے اُس کی آواز پر خوابوں کی دنیا سے لوٹ آئی۔
"آپ کا حکم سر آنکھوں پر ۔”
صاحبہ ایک ادا سے پلکوں کو جھکاتے ہوئے مسکرا کر بولی۔
"کیسی لگ رہی ہے ؟ ”
وہ چمکتی پائل اپنے دودھیا پاؤں میں پہن کر سرگوشی سے سوال کر رہی تھی۔
"تمھارے پاؤں کے گلے لگ کر اب یہ واقعی قیمتی اور خوبصورت ہو گئی ہے ۔۔۔اب اِس کی چمک دوگنی ہوگئی ہے ۔۔۔ اب اِس کا مول بڑھ گیا ہے ۔ ”
وہ کچھ پل یہ حسین منظر دیکھتا رہا، پھر اُس کے پیروں کے لمبے ناخنو ں پر اپنی انگلیوں سے ساز بجاتے ہوئے دیوانہ ہوا۔
وہ پائل نہیں ،اُسے قید کرنے کے لیے ایک زنجیر تھی۔بس وہ اندھی چاہت میں اُس کی شکل اور ساخت دیکھ نہ پائی تھی۔
صاحبہ نے بیڑیوں میں جکڑے پیروں کو یاسیت سے دیکھتے دیکھتے ایک یاد کا درد سختی سے بند کیا ، جس کا اِس لمحے کھل جانا اِس اُس کے کرب کو دہرا کر گیا تھا۔
*****
پاؤں میں رشتوں کی زنجیریں ہیں دل میں خوف کی
ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں قید ہیں
دروازہ کھلا اور تاریک کمرے میں روشنی کی ایک لکیر داخل ہوگئی۔پورا کمرہ گندگی کی لپیٹ میں تھا ۔وہ اُس کی نفیس اور صفائی پسند طبیعت سے بخوبی واقف تھا ، اِس لیے اُس کے حکم پر اچھے خاصے کمرے کو گرد و غبار اور سناٹوں سے بھرا کھڈر بنا دیا گیا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اُس کے قریب پہنچ کر زمین پر بیٹھ گیا ۔اُس نے تکبرانہ نگاہ سے اُسے دیکھا ۔زنجیروں میں جکڑی وہ صدیوں کی بیمار لگ رہی تھی۔اُس کے ریشمی خوبصورت بال مٹی سے لڑ لڑ کر اکڑ چکے تھے تو ہونٹوں پر پپڑیوں کی سخت تہہ نے گلابی رنگ مٹ دیا تھا ،اور اُس کے گورے رنگ پر جگہ جگہ پڑنے والے سیاہ دھبے ایسے تھے جیسے چاند کو گہنا رہے ہوں،چھپا رہے ہوں ۔
"صاحبہ۔۔۔صاحبہ۔”
وہ لبوں کو اُس کے کان کے قریب لاکر نرمی سے پکارنے لگا۔ وہ یوں بے سدھ پڑی رہی جیسے کئی راتوں کی مسافت کے بعد ابھی ابھی سوئی ہو ۔اُس نے ماتھے پر بکھری دو لٹوں کو آہستہ سے ہٹایا اور اپنا ٹھنڈا ہاتھ اُس کی جلتی ہوئی پیشانی پر رکھ دیا۔
"صاحبہ۔۔۔ملکہ۔۔۔دیکھو میں آگیا ہوں۔۔۔آنکھیں کھولو۔”
اب اُس کی آواز قدرے اونچی تھی ۔رعب دار آواز اور ٹھنڈے ہاتھ کے لمس نے صاحبہ کو آنکھیں کھولنے پر مجبور کر دیا تھا۔اُس نے بامشکل کمزور پلکیں اوپر اُٹھائیں اور اجنبیوں کی طرح حیرت سے اُس شخص کو دیکھنے لگی۔اجنبی دیکھائی دینے والا چہرہ اُس کا شناسا ہی تو تھا ۔وہ اُس شخص کی صورت کیسے بھول سکتی تھی جس نے اُس کی ذات کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا۔وہ تکلیف بھرا دن اُس کی نظروں کے سامنے گھوم گیا تو وہ تڑپ کر پیچھے ہوگئی ۔اُس نے خفگی اور حقارت سے منہ موڑ لیا تھا،مگر وہ غرور سے مسکراتا ہوا اُس کے سامنے آگیا۔عادی ہونے والی تکلیف پھر سے سر اُٹھانے لگی تھی ،بھرنے والے سارے زخم دوبارہ سے اُدھڑ رہے تھے ۔ اُس نے کتنے ہی دنوں بعد اِس کمرے کا رخ کیا تھا ۔وہ آج ایک مہینے بعد اُس سے ملنے آیا تھا۔
چمن کا حُسن سمجھ کر سمیٹ لائے تھے
کسے خبر تھی کہ ہر پھول خار نکلے گا
"دیکھو! میں تمھارے لیے پھول لایا ہوں۔ویسے تو حال پوچھتے وقت پھول مریضوں کو دیے جاتے ہیں ، لیکن قیدی اور مریض میں زیادہ فرق نہیں ہوتا۔دونوں ہی بے بس ، مجبور اور تکلیف میں ہوتے ہیں۔”
وہ تازہ پھولوں کا گلدستہ اُس کے سامنے رکھتے ہوئے فراست سے بولا۔
صاحبہ نے اپنے وجود میں سینکڑوں کانٹے چبھتے ہوئے محسوس کیے۔یہ دوسری بار تھا جب وہ اُسے پھول دے رہا تھا اور پہلی بار کے پھول وہ اب تک کہاں بھولی تھی۔
وہ گاڑی کے اندر بیٹھی تو ڈھیر ساری خوشبوئیں اُس سے لپٹ سی گئیں۔
"او مائی گارڈ اتنے سارے پھول۔”
آگے پیچھے رکھے کئی مہکتے ہوئے پھولوں نے اُسے خوشگوار حیرت سے بے تحاشا چونکا دیا۔
یہ تم کو کیا دیں گے
یہ تم سے خوشبو لینے آئے ہیں
اتنے سارے پھولوں میں
سب سے پیارا پھول ہو تم
وہ متعجب آنکھوں میں دیکھ کر شاعرانہ انداز میں گنگنایا۔
"واہ واہ ۔۔۔اتنے سارے پھول مجھ سے ملنے آئے ہیں ؟ مجھے لگ رہا ہے میں اپنے گھر کی چھت سے کسی باغیچے میں گر گئی ہوں۔”
وہ اپنے ملٹی کلر کے سکارف کو تتلی کے پروں کی طرح لہرا تے ہوئے جوش سے چہکی۔
"میں نے سوچا تم آج کا دن صرف میرے ساتھ ہی نہیں ،اِن پھولوں کے ساتھ بھی گزارو، تاکہ تمھیں معلوم ہوسکے کہ تمھاری اگلی زندگی گلزار ہے۔ اِس خوشبو کی طرح تم تاعمر مہکو گی، تو اِن پتیوں کی ملائمت جیسے سدا بہار جوان رہو گی۔”
وہ آہستہ آہستہ ڈرائیو کرتے اُسے خوبصورت مستقبل کے سپنے دیکھا رہا تھا۔
” ہاہا ہا ! مطلب تم بوڑھے ہوجاؤ گے اور میں ینگ لیڈی کی طرح تمھیں جلایا کرونگی۔”
وہ اُس کی بات پر تالی بجا کر شرارت سے کھلکھلانے لگی۔
"ارے میڈم ! یہ محبت کے پھول ہیں اِنھیں سینت سینت کر اپنے پاس رکھا جائے تو گل سڑ جاتے ہیں۔اِن کی خوشبوئیں تب پھیلتی ہیں جب اِنھیں ایک دوسرے کو سونپا جاتا ہے۔۔۔جب بستر کے تکیوں کے نیچے رکھا جاتا ہے۔۔۔جب کسی کی راہ میں بچھایا جاتا ہے ۔۔۔جب کمرے کے گلدانوں میں سجایا جاتا ہے ۔ ۔۔اِنھیں خود پر اور مجھ پر نچھاور کرکے محبت کی خوشبو کو ہمیشہ زندہ رکھنا ۔۔۔ بلکل ایسے۔”
وہ پھول کی چند پتیاں اُس پر برساتے ہوئے مخمور لہجے میں بولا۔
"یہ جو عام سی باتیں تم شاعری کے پیرائے میں لپیٹ کر کرجاتے ہو یہ مجھ پر محبت کے نئے فلسفے کھولنے لگی ہیں۔میں نے تم جیسا انسان آج تک نہیں دیکھا ،اور اگر نہ دیکھتی تو شاید زندگی بے کار ،بے مقصد کٹ جاتی ۔”
وہ اُس کے جذباتی لہجے کی آنچ سے پگھل کر شکر گزار ہوئی ۔”
"کہاں کھو گئی ہو ملکہ ”
پھولوں پر حسرت سے جمی ہوئی آنکھوں میں چھپی سوچ کو کریدتے ہوئے وہ اشتیاق سے پوچھ رہا تھا۔وہ یکدم چونکی اُسے لگا جیسے خوشیوں سے بھری گاڑی غم کے سٹاپ پر رک گئی ہے اور اُسے ظالمانہ طریقے سے باہر پھینک دیا گیا ہے ۔صاحبہ نے ایک انجان نظر اُس پر ڈالی تھی۔وہ پھولوں کی باتیںکرنے والا کانٹوں کا بیوپاری ہی تو تھا ۔لوگ محبت میں خوش ذائقہ دھوکے دیتے ہیں خوش رنگ جھانسے دیتے ہیں ، بغیر کسی وجہ اور بغیر کسی سبب کے صرف اپنی انا کی تسکین اور اپنی سنپولی فطرت کی خاطر۔ وہ ایسے ہی لوگ ہوتے ہونگے، وہ بھی اُنھی لوگوں میں سے تھا۔اُس کا دل کیا وہ اِس شخص کو کمرے سے باہر نکال دے اور سارے پھول اُٹھا کر مٹی یا آگ پر پھنک دے، مگر وہ اِس ذہنی بیمار انسان سے تب تک کوئی بدلہ نہیں لے سکتی تھی ،جب تک تقدیر کوئی بڑا موقع نہ دیتی۔
*****
چہرے پر سے جب خود پسندی کا نقاب اُترتا ہے تو صرف و صرف ندامت رہ جاتی ہے ۔اُسے اپنے آپ پر حد درجہ ناز تھا ۔ لوگوں اور آئینے نے ہمیشہ اُسے سراہا تھا ،وہ کبھی اپنے پیروں کو فرش سے ملنے نہیں دیتی تھی اور آج اُس کی حالت ایسی تھی کہ اگر وہ خود کو آئینے میں دیکھ لیتی تو صدمے سے کانپ جاتی ۔اُسے یقین تھا کہ اب وہ اِسی حال میں رہے گی اُس کی سزا معاف نہیں ہو سکتی ہے،لیکن معجزاتی طور پر ایک ماہ بعد نا صرف اُس کے پیروں کو بیڑیوں سے آزاد کر دیا گیا بلکہ کمرے میں ضروری سامان بھی پہنچا دیا گیا ،مگر باقی کسی معاملے میں کوئی رعایت نہیں دی گئی تھی۔
جن انسانوں کے لیے دل میں محبت مر جائے تو اُن انسانوں کے آس پاس ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔وہ اب اکثر اُس سے ملنے چلا آتا ۔وہ اُس کی موجودگی میں بھی اُس کا سامنا کرنے سے کتراتی رہتی۔وہ جب بھی اُس کے کمرے میں آتا ،وہ سہم کر ایک کو نے میں بیٹھ جاتی ، خادمہ کی طرح چپ چاپ اُس کے احکامات سنتی،اُس سے نظریں چرا کر اپنی آنکھوں کو حد میں رکھتی، وہ جب تک موجود ر ہتا وہ سر کو جھکائے رکھتی۔اتنی تابعداری کی وجہ صرف اُس شخص کا رعب نہ تھا ، بلکہ وہ نفرت اور حقارت بھی تھی جو اِس محبت نے اُسے سونپی تھی۔آزادی کا خواب اتنی بری طرح سے ٹوٹا تھا کہ وہ اب کھڑکی کھولنے سے بھی ڈرتی تھی۔ باہر کی دنیا سے سارے رابطے ختم چکے تھے۔زندگی کی گاڑی اور موت کے سٹیشن کے بیچ اگر کوئی ٹھرنے کا مقام تھا تو وہ یہی ایک کمرہ تھا۔
آج تو مل کے بھی جیسے نہ ملے ہوں تجھ سے
چونک اُٹھتے تھے کبھی تیری ملاقات سے ہم
باہر بادلوں کے گرجنے کی آواز بند کھڑکی سے مستقل دستک دے رہی تھی ،روشدان سے جھانکنے والی تھوڑی بہت روشنی بھی ختم ہو چکی تھی ۔موسم کی ادا بتا رہی تھی کہ تیز بارش ہونے والی ہے ۔اُس کا دل کیا باہر نکلے اور خوبصورت موسم کی ایک جھلک دیکھے مگر یہ قید اُس کا راستہ روکے کھڑی تھی ۔
"حکم نے آپ کو یاد کیا ہے؟”
"کیا ۔۔۔مجھے ؟ کہاں؟”
وہ دل کو سمجھا ہی رہی تھی کہ چاچی شگو کے پیغام نے اُسے سخت حیرت میں مبتلا کر دیا ۔
"جی آپ کو ۔۔۔لان میں چلی جائیے ۔۔۔چائے پر آپ کا انتظار ہو رہا ہے ۔”
"تو تمھیں خیال آہی گیا کہ میں زندہ ہوں۔۔۔تو تمھیں خیال آہی گیا کہ مجھے بھی دھوپ ،بارش ہوا کی ضرورت ہے۔۔۔تو تمھیں خیال آہی گیا کہ ہمیں پھر سے ایک ساتھ بیٹھنا چاہیے ۔”
چاچی شگو کے جانے کے بعد وہ زیر لب بڑبڑائی ۔۔۔اُس نے جلدی سے اپنا حلیہ درست کیا اور لان کی جانب چل دی۔
کمرے سے باہر نکلتے ہی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اُس سے لپٹ گئے اُسے اپنے اندر ایک تازگی کے اترنے کا احساس ہوا تھا ۔اُس نے زور زور سے سانس لے کر اندر کی گھٹن کو قدرے کم کیا ۔وہ حویلی کے اندرونی حصے سے باہر نکلی تو وہ اُسے دور سے ہی نظر آگیا۔کاٹن کے سفید سوٹ میں ملبوس وہ بہت ہی جاذبِ نظر لگ رہا تھا۔اُسے دیکھ کر صاحبہ کے بجھے دل میں کوئی ہلچل نہ ہوئی ۔وہ ایک روبوٹ کی طرح آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اُس کے سامنے آکر بیٹھ گئی تھی۔
"موسم بڑا خوشگوار ہے ۔میں نے سوچا تمھارے ساتھ چائے پی لی جائے اور تمھارا حال بھی پوچھ لیا جائے۔”
وہ کچھ دیر اُسے گھورنے کے بعد اپنی عطا کردہ عنایت پر ہنستے ہوئے کہنے لگا۔
"بتاؤ کیسے گزر رہے ہیں شب و روز ؟”
"کسی کو زندہ دفن کر نا ہو تو اُسے قید کر دیا جائے۔۔۔میں دن رات ایک قبر میں سانس لے رہی ہوں۔۔۔کاش تم مجھے مار ہی دیتے۔”
وہ اُس کے استہزائیہ انداز میں پوچھے گئے سوال پر دل ہی دل میں دکھ سے سوچ کر رہ گئی ،مگر کچھ بولی نہیں۔
"تمھیں یاد تو آتے ہونگے وہ پرانے دن۔جب ہم ساتھ گھومتے پھرتے تھے۔”
صاحبہ کی خاموشی کے باوجود اُس نے اپنی بات جاری رکھی۔
"نفرت ہے مجھے اُن لمحوں سے جو میں نے تمھارے ساتھ گزارے۔”
وہ اب بھی خاموش تھی ،لیکن اُس کی آنکھوں نے جواب دے دیا تھا۔
"ابھی تک میں نے تمھاری زبان نہیں کاٹی ، اِس اداکاری کی کیا وجہ ہے صاحبہ؟”
اُس نے بگڑتے ہوئے موڈ کے ساتھ چائے کی پیالی اُٹھا لی۔
"میں ٹھیک ہوں اور تمھاری شکر گزار ہوں کہ تم نے مجھے باہر کی زندگی دیکھنے کا پھر سے موقع دیا۔”
دل سے نا سہی ،مگر وہ اُس کا غصہ کم کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
"اگر تم اچھے بچو کی طرح میری فرمانبرداری کرو تو یہ موقعے بار بار مل سکتے ہیں۔”
وہ اُس کے جھکنے پر فوراً سے سابقہ موڈ میں لوٹ آیا تھا۔
"میں کوشش کر رہی ہوں۔”
صاحبہ بے دلی سے جواب دے کر چائے پینے لگی۔
"آج میں خوش ہوں تمھاری کوئی ایک خواہش پوری کر سکتا ہوں۔مانگو ! کیا مانگتی ہو؟”
اِس دریا دلی پر صاحبہ نے اُسے اچنبھے سے دیکھا۔وہ گہری سوچ میں ڈوب گئی کہ اُسے ایک آخری کوشش کرنی چاہیے یا نہیں۔
"چپ کیوں ہو ۔۔۔ڈرو مت۔۔۔کچھ بھی مانگ لو۔”
وہ اُس کی خاموشی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کھیل کھیلنے لگا تھا۔
"جو میں چاہتی ہوں وہ تم نہیں دے سکتے۔”
صاحبہ نے ہچکچاتے ہوئے صاف انکار کیا۔
"آز ما کر تو دیکھو۔۔۔ایسا نادر موقع تمھیں پھر نہیں نصیب ہوگا۔”
اب اُسے بھی کُرید لگ گئی کہ وہ کیا مانگنا چاہتی ہے۔
"ہماری محبت کی شادی تھی ، مگر مجھے دکھ ہے کہ اِس رشتے میں اب محبت نہیں رہی۔میں تمھاری محبت سمجھ نہیں پائی اور تم میری محبت کی ویسے قدر نہیں کرتے۔میں سچ کہہ رہی ہو ں میرے دل میں اب تمھارے لیے ویسے جذبات نہیں رہے۔یہ زبردستی کا تعلق کسی بوجھ سے کم نہیں۔میں تھکنے لگی ہوں۔مجھے آزادی چاہیے ،مجھے طلاق چاہیے۔”
وہ ڈرتے ڈرتے ایک آخری کوشش کر گئی تھی۔
"ہا ہا ہا۔۔۔بس یہی دیکھنا چاہتا تھا میں ۔ایک مہینے کی سزا بھی تمھارے سر سے آزادی کا بھوت نہیں اُتار سکی ۔تم اب بھی ویسی ہی ہو ضدی ۔۔۔نافرمان۔”
وہ اپنی چال میں کامیاب ہونے پر طنزیہ ہنستا چلا گیا ۔
"اچھا مذاق تھا ۔۔۔”
صاحبہ نے افسوس بھرے لہجے میں کہا ۔
"مذاق نہیں ٹیسٹ ،ہمیشہ تم سے آسان ٹیسٹ لیتا ہوں،مگر تم ہمیشہ فیل ہو جاتی ہو۔”
وہ اپنی بڑائی بیان کرتے ہوئے اُسے نیچا دیکھانے لگا۔
"میں تمھارے لیے امتحانوں میں ناکام ہوئی ہوں اور تم محبت کے۔”
وہ بھی بغیر پاس داری کے کڑوا سچ بول گئی تھی۔
"کیا مطلب ہے اِس بات کا؟”
اُس نے وضاحت طلب نظروں سے صاحبہ کو گھورا۔”
تم نے کئی بار مجھ سے کہا تھا تمھیں مجھ سے محبت ہے ۔جن سے محبت ہوتی ہے اُنھیں تکلیف نہیں دی جاتی۔”
کتنے دنوں بعد آج وہ پھر اعتماد سے بولی تھی ۔
"محبت۔۔۔جن سے محبت ہوتی ہے اُنھیں ہی سنبھال کر رکھا جاتا ہے ۔یہ میری محبت ہے اور یہ ایسی ہی ہے۔اِسے پنجرہ سمجھو یا کھلا آسمان یہ تمھاری سوچ پر چھوڑ رکھا تھا میں نے،اگر یہ پنجرہ ہے تو مت پھڑپھڑاؤ۔میں تمھیں کبھی آزاد نہیں کرونگا۔”
صاحبہ کی بات کی تردید کرتے ہوئے اُس نے سنجیدگی سے آج کی ملاقات کو یہی ختم کردیا ۔وہ نم آنکھوں کے ساتھ اُسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی ، کیونکہ اُس کی آخری امید بھی دم توڑ چکی تھی۔
*****
اکثر وہی لوگ مدد کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہیں جن سے اچھائی کی توقع تک نہ ہو ۔۔۔اکثر وہی لوگ اپنائیت ظاہر کرنے لگتے ہیں جن سے بس بیگانگی کا رشتہ ہو ۔۔۔اکثر اُنھی لوگوں کا ساتھ غنیمت معلوم ہوتا ہے جن سے کراہت محسوس ہوتی ہو۔وقت سب دیکھا دیتا ہے اور اُسے بھی وقت نے دیکھا دیا کہ معمولی صورت والوں کے دل میں بھی انسانیت کے خاص جذبے پنپتے ہیں۔ اچانک سے اُسے چاچی شگو کے برتاؤ میں ایک تبدیلی محسوس ہوئی ۔چند دنوں سے اُن کا رویہ بدلا بدلا سا تھا۔وہ یہ دیکھ کر حیران ہوئی کہ سخت گیر نظر آنے والی اِس عورت کے دل میں بھی ایک نرم گوشہ ہے۔ وہ جب بھی حویلی سے باہر ہوتا تو چاچی شگو اُسے چند پل کے لیے کھلی فضا میں آنے کا موقع دیتیں۔۔۔اُس کے کھانے میں اچھے پکوان شامل کرتیں۔۔۔خالی گلدانوں میں تازہ پھول سجا جاتیں۔ شاید اُنھیں اِس معصوم سی لڑکی پر ترس آگیا تھا۔
"آپ بہت خوبصورت ہیں، پڑھی لکھی ہیں ،پھر کیوں اپنے لیے یہ دوزخ چُن لی آپ نے ؟ ”
صاحبہ نے تعجب سے چاچی شگو کو دیکھا ،جنھوں نے پہلی بار اُس کے سامنے چند جملے ادا کیے تھے۔
"تو آپ مانتی ہیں یہ دوزخ ہے۔”
اُس نے مطلوبہ سوال کا جواب دیے بنا کھوئے کھوئے انداز میں پوچھا۔
"ہم نوکر غلط کو ٹھیک نہیں کر سکتے ،مگر غلط کو غلط مان تو سکتے ہیں۔”
چاچی شگو کے الفاظ ایسے تھے کہ وہ دوبارہ چونکی۔
"کیا اِس سنجیدہ نظر آنے والی عورت کے سینے میں بھی دل ہے؟ کیا یہ بھی درد کی گہرائی محسوس کر سکتی ہیں؟کیا اِنھیں بھی میرے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ادراک ہے؟کیا یہ مانتی ہیں ،جانتی ہیں کہ وہ ظالم ہے اور میں مظلوم؟”
چاچی شگو کی شخصیت کے نئے پہلو نے صاحبہ کو اچھا خاصا اُلجھا دیا تھا۔
"اب تو بری طرح سے پھنس گئی ہیں آپ۔”
بیڈ کی چادر ٹھیک کرتے ہوئے اُنھوں نے پھر سے اظہارِ افسوس کیا ۔
"محبت کی کتاب کے پہلے صفحے پر کسی دوزخ کا ذکر نہیں ہوتا۔۔۔کسی سزا کی تنبیہ نہیں ہوتی۔۔۔بس خوش گمانیاں لکھی ہوتی ہیں۔۔۔جنت جیسی زندگی کا پتا درج ہوتا ہے۔۔۔میرا قصور یہی ہے کہ میں اُس پہلے صفحے کو پوری زندگی کا نچوڑ سمجھ بیٹھی۔”
حیرانی سمٹی تو وہ سانس خارج کرتے ہوئے ملال سے کہنے لگی۔
"تو کیا آپ اب بھی محبت کرتی ہیں حْکم سے ؟ ”
چاچی شگو نے خلافِ توقع اُس کا ناپسندیدہ سوال پوچھ لیا تھا۔
"نہیں! بلکل بھی نہیں۔ایسے سفاک شخص سے کون مستقل محبت کر سکتا ہے۔”
صاحبہ کے چہرے پر ناگواری سی در آئی ۔
"پھر تو آپ کو محبت ہوئی ہی نہیں۔جو آپ کو ہوئی تھی محبت ویسی نہیں ہوتی۔”
اُنھوں نے کھڑکی کا پردہ ہٹاتے ہوئے دھوپ کی کرنوں کو راستہ دیتے ہوئے اطمینان سے کہا۔
"کیا مطلب ہے آپ کا؟”
صاحبہ اُ ن کے قریب آتے ہوئے آنکھیں سکیڑ کر بولی۔
"یہ محبت تو اُس جھولی جیسی ہے بی بی ، جس میں کبھی سختیاں، پابندیاں اور شرطیں ڈالی جاتی ہیں، تو کبھی قربانیاں ، ناانصافیاں اور دھوکے۔پیار کرنے والے پھر بھی کرتے ہیں۔۔۔نام جپھنے والے کبھی چپ نہیں ہوتے۔۔۔روگ پالنے والے کہا ں سمجھتے ہیں۔۔۔محبت کا آسیب قابو کرنے کے لیے لوگ صدیوں تک چلّہ کاٹتے ہیں۔۔۔آپ تو مہینوں میں ہی تھک گئیں۔”
نہ بولنے والی عورت بولنے پر آئی تو بولتی ہی چلی گئی۔
"یہ کیا بات ہوئی ایک انسان دھتکارے ، ظلم ڈھائے اور اگلا محبت محبت کرتا رہے۔انسان اتنا پاگل اور بیوقوف ہے کیا کہ اپنا نفع اور خسارہ ہی نہ سمجھے۔”
صاحبہ نے سختی سے اُن کی سوچ کی نفی کردی تھی ۔اُسے چاچی شگو کی باتیں ذرہ بھی ا چھی نہ لگیں۔
"محبت کا نہ ہونا اور ہو کر جلد دم توڑ دینا ایک برابر ہے بی بی۔ابھی ہوئی نہیں ہے، ہوگی تو آپ سمجھ جائیں گی کہ محبت کی طویل بے اختیاری، بے خودی کیا چیز ہے۔”
چاچی شگو کے لہجے میں اُن کا تجربہ بول رہا تھا،صاحبہ ہونقوں کی طرح اُنھیں دیکھنے لگی ۔آج وہ واقعی غلط ثابت ہو گئی تھی کہ عقل و دانش اُس جیسے پڑھے لکھے اور اپر کلاس لوگوں کی میراث ہے۔
"یہ چاچی شگو کیا کہہ ر ہی ہیں ؟ کیا یہ سچ کہتی ہیں ؟کیا مجھے واقعی محبت کی پرکھ نہیں ؟ کیا مجھے حقیقتاً محبت نہیں ہوئی۔”
وہ اکیلے میں کتنی ہی دیر چاچی شگو کی باتوں کے مفہوم کھوجتی رہی ۔
” تم نادان ہو ،محبت کو سمجھنے کے لیے ابھی چھوٹی ہو۔ایک غلط قدم زندگی کے کئی رستوں کو بند کر دیتا ہے۔ اِس خیالاتی دنیا سے نکل آؤ۔ تم بس اُس شخص سے متاثر ہو اور متاثر ہو کر زندگی نہیں گزاری جاتی۔”
دور کہیں سے ممتا بھری آواز ایک بار پھر سنائی دی تو اُس نے نئے سرے سے اپنے دل کو ٹٹولنا شروع کر دیا۔
*****
ہم کسی در پہ نہ ٹھٹکے نہ کہیں دستک دی
سیکڑوں در تھے میری جاں تیرے در سے پہلے
عشق کا جادو ا نا کو بس میں کرلے تو اکثر انسان اُسی در سے ٹھکرایا جاتا ہے جس در سے ٹھکرائے جانے کی امید تک نہ ہو۔وہ بھی خودداری پر چوٹ لگنے کے باوجود بار بار اُس کے کمرے کے چکر لگاتی رہی ۔کبھی کسی وقت وہ غائب ہوتا ، جو موجود ہوتا بھی تو پریشان ملتا یا مصروف نظر آتا۔
"میں بھی کیسی بچوں جیسی حرکتیں کر رہی ہوں۔شاید وہ واقعی اِتنا مصروف ہے کہ مجھے و قت نہیں دے پا رہا۔وہ میرا ہی تو ہے، پھر مجھے کیا ڈر ہے ؟ کیا خوف ہے ؟ مجھے یوں بار بار اُس کے کاموں میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے ، بلکہ اُس کی فرصت کا انتظار کرنا چاہیے۔وقت پاتے ہی وہ ضرور میری طرف دوڑے گا۔ ”
محبوب کے در پر روز حاضری دینا اور ناکام لوٹنا یہ حوصلہ جیون جیسی دیوانی ہی کر سکتی تھی۔
سیڑھیاں چڑھتے اُترے تین ہفتے گزر گئے ،مگر جازم کی مصروفیت اور سرد رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ شرط ،امید اور وعدے کے مطابق شادی میں ایک ہفتہ رہ گیا تھا، لیکن یہ کیسی شادی تھی جس میں نہ حویلی کو سجایا گیا نہ حویلی کی مالکن نے د ن اور تاریخ کا اعلان کیا۔۔۔نہ جازم نے کوئی شریر وعدے کیے نہ سکھیوں نے شادی کے گیت گائے ۔ہر گزرتے پل نے جیون کی فکر اور بے چینی بڑھا دی تھی ۔سوچ سوچ کر اُس کا دماغ ماؤف ہو چکا تھا۔ خطرے کی ایک گھنٹی مسلسل دل میں بج رہی تھی۔وہ چاہ کر بھی اور انتظار نہیں کر سکتی تھی۔
"کچھ تو گڑ بڑ ہے ۔۔۔کچھ تو ایسا ہے جو مجھے معلوم نہیں۔۔۔کچھ تو انہونی ہو نے والی ہے ۔۔۔مجھے آج ہی جازم سے بات کرنی ہو گی ۔۔۔آج نہیں بلکہ ابھی۔۔۔”
وہ دل ہی دل میں فیصلہ کرتی ہوئی اپنے کمرے سے نکلی ۔اُسے جلد از جلد جازم سے ملنا تھا ۔راہداری عبور کر کے وہ سیڑھیوں کی طرف بڑ ھ ہی رہی تھی کہ دو مانوس آوازوں نے اُس کے قدم وہی روک دیے ۔یہ آوازیں سیڑھیوں کے بائیں طرف واقع ذکیہ بیگم کے کمرے سے آرہی تھیں ۔وہ دبے قدموں آگے بڑھی اور پوری تو جہ سے ذکیہ بیگم او ر جازم کی گفتگو سننے لگی۔
"جیون پیاری بچی ہے ۔سب سے بڑھ کر وہ اِس حویلی کے رسم و رواج سے بخوبی واقف ہے ۔کوئی بھی باہر کی لڑکی حویلی کی شان کو ویسے برقرار نہیں رکھ سکتی جیسے جیون رکھے گی۔مجھے خوشی ہے ہم دونوں کی خواہش اور پسند ایک ہے۔”
ذکیہ بیگم نے اطمینان سے سانس لیتے ہوئے کھل کر انبساط کا اظہار کیا تھا۔
"بالکل امّی جان! صرف جیون ہی حویلی کی ملکہ بننے کے قابل ہے ۔میں اُسے آپ کی نظروں سے کبھی دور نہیں ہونے دونگا۔حویلی کا قیمتی ہیرا حویلی میں ہی رہے گا ۔”
جازم کے منہ سے اپنے لیے یہ الفاظ سن کر دروازے کی اوٹ میں کھڑی جیون کے گال سُرخ ہوگئے ۔
"میں آج ہی تم دونوں کے رشتے کی مٹھائی بانٹتی ہوں۔خوشی کا موقع ہے ہر کسی کو اِس خبر کا علم ہونا چاہیے۔”
ذکیہ بیگم اُس کے سر پر دستِ شفقت پھیرتے ہوئے گرم جوشی سے بولیں۔
"رشتے کی خبر کے ساتھ یہ اعلان بھی کر دیجیے کہ یہ نکاح اِس جمعے کو ہو گا۔”
جازم نے مسکراتے ہوئے تقریبا ً دھماکہ کیا۔منہ پر ہاتھ رکھ کر کھڑی جیون کا دل اچھل کر قدموں میں آگیا تھا ۔
یہ کیا کہہ رہے ہو جازم؟ اتنی جلدی یہ ممکن نہیں۔”
ذکیہ بیگم کی خوشی کچھ پل کے لیے فکرمندی میں بدل گئی۔
"اِس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں امّی جان۔بہت سار ی چیزیں جو ممکن نہیں ہیں میں اُنھیں ممکن بنا دوں گا۔”
جازم نے اُن کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے کر پختہ یقین سے کہا۔
"تم میرے اکلوتے بیٹے ہو۔اِس حویلی کے اکلوتے وارث ۔تمھاری شادی دھوم دھام سے کی جائے گی۔حویلی کو دلہن کی طرح سجایا جائے گا۔سب رشتے داروں کو پیغام بھیجا جائے گا۔جیون کے لیے خوبصورت لباس تیار کروائے جائیں گے۔بہت سارے انتظامات ہیں اور یہ سارے انتظامات کچھ وقت مانگتے ہیں۔”
ذکیہ بیگم پریشان کن انداز میں اُسے سمجھانے لگیں۔
"کل تک یہ حویلی سج جائے گی۔۔۔ہر طرف پیغام پہنچا دئیے جائیں گے۔۔۔اور جیون کے لیے خاص جوڑا میں خود خرید کر لاؤں گا۔”
جازم نے چٹکیوں میں ہر مسئلے کا حل بیان کیا تھا۔
"لیکن میرے بچے ! اِتنی جلد بازی ٹھیک نہیں ہے ۔تم یہ سارے معاملات اکیلے نہیں سنبھال سکتے۔”
ذکیہ بیگم کے چہرے پر فکر ہنوز برقرار تھی۔
"نیک کاموں میں دیر کی گنجائش نہیں رکھنی چاہیے امّی جان ۔آپ مجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے سارے معاملات سے بے فکر ہوجائیں۔”
وہ اپنی ضد سے کسی طو ر پیچھے ہٹنے کو تیار نہ ہوا۔
"لیکن جیون !کیا جیون اتنی جلدی شادی کے لیے مان جائے گی ۔لڑکیوں کے شادی کو لیکر بہت ارمان ہوتے ہیں۔”
ذکیہ بیگم نے اپنی پریشانی کی اب سب سے بڑی وجہ بیان کی۔
"ہر لڑکی چاہتی ہے کہ اُس کا خواب جلدی پورا ہو۔یہ خواب اور یہ موسم اُس کی پسند کا ہے اُسے کوئی بھی اعتراض نہیں ہوگا۔”
جازم کے اِن لفظوں پر جیون نے اُسے تشکر بھری نگاہ سے دیکھا ۔
"ٹھیک ہے میری جان جیسے تمھاری خوشی ۔میں آج ہی تیاریاں شروع کر دیتی ہوں۔”
جازم نے ذکیہ بیگم کی ہر الجھن کا جواب محبت اور سمجھداری سے دیا تووہ قائل ہوئے بنا نہ رہ سکیں۔
چھپ کر ہر بات سنتی جیون مراد پا جانے کی خوشی میں جیسے سُن ہی ہوگئی تھی۔اُس کا دل کیا وہ بھاگ کر اپنے کمرے میں جائے اور جھوم کر گا کر اپنی خوشی کا اظہار کرے ۔وہ خود میں سمٹتے ہوئے آہستہ آہستہ پیچھے کی طرف قدم بڑھا رہی تھی کہ کچھ فاصلے پر رکھے بڑے گلدان کے ساتھ ٹکرا گئی ۔یکدم بلند آواز سے ذکیہ بیگم اور جازم دروازے کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔جیون ہڑ بڑا کر اُٹھی اور فورا ً وہاں سے بھاگ گئی ۔ذکیہ بیگم اور جازم نے اُسے بھاگتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ا ب وہ دونوں مطمئن ہو چکے تھے کہ جیون سے کچھ بھی پوچھنے یا اُسے بتانے کی ضرورت نہیں۔
*****
"جازم لالہ نے شادی کے لیے حامی بھر لی۔۔۔کیسے ۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔وہ سفاک شیطا ن اتنی جلد روپ کیسے بدل سکتا ہے۔۔۔کیا اِس کے پیچھے کوئی چال ہے۔۔۔کیا وہ ایک بار پھر چالاکی سے جیون کا استعمال کر رہا ہے ۔۔۔کہیں یہ اُس کا نیا کھیل تو نہیں۔۔۔کہیں وہ مجھے غلط ثابت کرنے کے لیے جیون کو جھوٹی آس دے کر بہلا تو نہیں رہا۔۔۔میں اُس کے وہ الفاظ کیسے بھول سکتا ہوں جو اُس نے جیون کو برباد کرنے کے لیے کہے تھے ۔۔۔۔جو جیون نے کہا وہ سچ ہے یا وہ ، جو میرے رستے ہوئے زخم کہتے ہیں۔۔۔کونسا اصلی چہرہ ہے اُس کا یہ جو وہ دیکھا رہا ہے یا وہ جو میں نے دیکھا۔۔۔”
اُن دونوں کی شادی کی خبر جیون کے منہ سے سن کر بھی اُسے قرار نہیں مل رہا تھا ۔دن رات وہ اپنے آپ میں اُلجھا رہتا ، سچ جھوٹ کو دل کی کسوٹی پر اُتارتا، یقین اور بے یقینی کے راستوں پر سفر کرتا اور پھر اُس نے وہ خبر سنی جس سے اُس کو اُس کے سوالوں کے جواب مل گئے ، سارے ڈر مٹ گئے ، تمام خدشے دور ہوگئے ۔حویلی کے ہر نوکر اور ہر فرد کی زبان پر جازم اور جیون کے رشتے کی باتیں تھی تو ہر طرف اُن کے نکاح کے چرچے ۔اِس خبر نے اُسے روح تک پرسکون کردیا تھا۔آخر اُس کی دعائیں قبول ہو گئی تھیں،آخر اُس کا مقصد کامیاب ہوچکا تھا۔
"تمھاری خوشیوں کا سن کر ہی میں بہت خوش ہوں۔۔۔نجانے دیکھ کر کتنا خوش ہونگا۔۔۔تم سے اُن باتوں کی معافی مانگنا چاہتا ہوں جس کے لیے میں نے تمھیں پریشان کیا۔۔۔اُن گستاخیوں کی سزا پا چکا ہوں جو میں نے تمھاری محبت کی شا ن میں کیں۔۔۔شاید میں جازم لالہ کو سمجھ نہیں پایا۔۔۔شاید میں تمھیں خوش دیکھنے کے لیے جلد باز ثابت ہوا تھا۔۔۔لیکن میری سزاؤں اور تکلیفوں کا مجھے اچھا صلہ ملا ہے۔۔۔وہ صلہ جو میں چاہتا تھا۔۔۔میرا وجود ہر آنکھ کو کھٹکتا ہے ۔۔۔۔تمھیں تمھاری منزل ملتے ہی میں بھی اِس حویلی سے چلا جاؤں گا ۔۔۔ایک نیا سفر میرے سامنے ہے ۔۔۔ایک نئی زندگی تمھاری منتظر ہے۔۔۔۔اِس حویلی کا تاج جو تمھارے نام تھا تمھارے ماتھے پر سجنے والا ہے۔۔۔میرا بھی دل کرتا ہے خوشیوں کی آمد پر تمھیں کوئی تحفہ دوں۔۔۔مگر میں ایک نوکر ہوں۔۔۔ایک مفلس ،لاچار ،بے بس نوکر۔۔۔چاہ کر بھی کچھ قیمتی نہیں خرید سکتا۔۔۔پر ہاں میرے لیے جو قیمتی ہے وہ دے سکتا ہوں تمھیں۔۔۔میں تمھیں اپنے دل کی سچائی اور روح کی پاکی کے ساتھ سدا سہاگن رہنے کی دعا دیتا ہوں۔۔۔
تمھارا مخلص دوست !
سیف۔۔۔۔”
اُس نے جیون کے نام ایک خط لکھا اور اُسے لپیٹ کر الماری میں رکھ دیا۔وہ یہ خط اُس کے نکاح کے بعد اور اپنے جانے سے پہلے اُسے دینا چاہتا تھا ،تاکہ کچھ کہنے اور سننے کی گنجائش نہ رہے۔
*****
جازم نے جو کہا تھا کر بھی دیکھایا ۔۔۔دو دن کے اندر پوری حویلی روشنیوں سے جگمگا اُٹھی ۔۔۔ سارے داخلی راستے پھولوں سے سجا دیے گئے۔۔۔خاص خاص مہمانوں کو دعوت نامے پہنچ چکے تھے ۔۔۔ وہ تمام انتظامات کو باریک بینی اور دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اُس نے تمام ملازمین میں مختلف کام یکساں بانٹ دئیے تاکہ اِس شاندار تقریب میں کوئی بھی کمی پیشی نہ رہ جائے۔۔۔اپنے بیٹے کو اتنی ذمہ داری کا ثبوت دیتا دیکھ کر ذکیہ بیگم خوش ہونے کے ساتھ ساتھ حیران بھی تھیں۔۔۔وہ دل ہی دل میں جیون کی خوبیوں کی معترف ہوئیں کہ جس کی چاہت نے لاپراہ جازم کو اتنا سمجھدار بنا دیا تھا۔
اگلے دو دن کے لیے وہ شہر روانہ ہو چکا تھا۔اُس کی واپسی پر جیون کا کمرہ ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت چیز سے سج گیا۔ہر شئے پر پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا تھا ۔تمام خریداری جیون کی پسند اور خواہش کے مطابق کی گئی تھی۔ایک ایک چیز پر محبت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے اُس کا دل کیا بھاگ کر جائے اور اتنی شاندار چوائس پر جازم کو داد دے،لیکن وہ چاہ کر بھی ایسا نہ کر پائی ۔جب سے رشتے کی بات کھلی تھی وہ دونوں سب کی نگاہ کا مرکز بن چکے تھے اور ا ب اِس ہمیشہ کے ساتھ کے لیے اُسے کچھ دن کی جدائی تو برداشت کرنا تھی۔اگلی صبح سے شام تک وہ اُسے دیکھنے کے بہانے ڈھونڈتی رہی اور بالآخر تھک ہار کر آنگن میں لگے سفید پھولوں کے پاس آکر بیٹھ گئی جہاں سے جازم کے کمرے کی کھڑی صاف دیکھائی دیتی تھی۔پھولوں سے کھیلتی نازک تتلی کی نگاہ اوپر اٹھی تو آوارہ بھورے کی نظر سے جا ملی ،جازم کھڑی میں کھڑا اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔
"بہت ہی خوبصورت جوڑا خریدا ہے تم نے ۔۔۔
وہ لال چوڑیاں دل چاہتا ہے ابھی سے پہن لوں۔۔۔
کل تمھاری لائی سُرخ مہندی سے میں تمھارا نام اپنی ہتھیلی پر سجاؤں گی۔۔۔
تم بہت اچھے ہو جازم ۔۔۔میں نے جو چاہا۔۔۔جو مانگا۔۔۔تم نے دیا۔۔۔
کاش میں اُڑ کر تمھارے پاس آسکتی۔۔۔
تمھاری محبت میرے لیے اِس دنیا کا سب سے بڑا انعام ہے۔۔۔
میں بہت خوش ہوں۔۔۔بہت خوش ہوں۔۔۔
اِس محبت ،اِس مان ،ہر عنایت کے لیے بہت شکریہ جازم۔۔۔”
جیون نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اُسے دل کی ساری باتیں کہہ ڈالیں۔
"وہ جوڑا تم سے زیادہ خوبصورت نہیں ہے جیون۔۔۔
یہ لال چوڑیاں اب تاعمر تمھارا مقدر ہیں۔۔۔
اِس ہتھیلی پر لکھا نام دھل بھی جائے تو تمھارے دل پر لکھا اپنا نام مٹنے نہیں دونگا۔۔۔
تم مجھ سے زیادہ اچھی ہو۔۔۔چاہے جانے ۔۔۔اور مانگنے کے قال!
کچھ وقت کی دوری ہے پھر تم ہمیشہ کے لیے میرے پاس آجاؤگی۔۔۔
تمھاری محبت بھی میرے لیے کسی انمو ل تحفے سے کم نہیں۔۔۔
میں خوش قسمت ہوں ۔۔۔بہت ہی خوش قسمت۔۔۔
تمھارے اعتبار۔۔۔وفا اور حسین ساتھ کے لیے بہت شکریہ جیون۔۔۔”
جازم نے بھی اُسے آنکھوں کی زبان میں جواب دیا تھا۔اُن دونوں کی آنکھوں میں بے پناہ محبت تھی، دیوانگی تھی، آنے والے کل کے لیے ڈھیروں سپنے تھے۔جیون کی آنکھوں سے انبساط کی لو پھوٹ رہی تھی تو جازم کی آنکھوں سے جذبات کی۔کسی کی خاموش اداس آنکھوں نے ایک بار پھر اُن کے لیے دل سے دعائیں کی تھیں۔
*****
آخر وہ دن آ ہی گیا جو جیون کی زندگی کا سب سے یادگار دن بننے والا تھا۔نکاح کی تقریب کا انتظام حویلی کے بڑے آنگن میں کیا گیا تھا۔حویلی کے باہر حویلی کی رونق چاروں طرف پھیل چکی تھی تو حویلی کے اندر ہر طرف ملن کے گیت گونج رہے تھے۔خادمائیں اُس کی نظر اُتارنے میں لگی ہوئی تھیں تو سکھی سہیلیاں جازم کا نام لے لے کر چھیڑنے میں۔اُس نے گھڑی کی سوئیوں کے سنگ گرتے ہر لمحے کو ہزار بار گنا اور اُن لمحوں میں ملن کے سینکڑوں خواب آنکھوں میں سجا بیٹھی۔ایک ہلچل سے بھرپور دن اُس کے لیے سرک سرک کر گزر رہا تھا۔شام ہوتے ہی اُس کی سہیلیوں نے اُسے تیار کرنا شروع کردیا۔قہقہوں، گیتوں اور شوخ جملوں کے بیچ گھری وہ اُس گھڑی کے بارے میں سوچنے لگی جب اُس کا نام جازم کے نام کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑ جائے گا۔
"ارے ہماری دلہن تو ابھی سے سپنوں میں کھو گئی۔”
اُس کی بڑی بڑی آنکھوں کو اپنے ماہرانہ ہاتھوں سے سجاتی غزالہ نے آنکھ مار کر کہا۔
"یہ شرمیلی مسکراہٹ بتا رہی ہے کہ تخیل کے پردے پر دلہا میاں نظر آرہے ہیں۔”
جھرنا اُس کے گلابی ہونٹوں پر سرخ لپ سٹک بکھیرتے ہوئے کھلکھلا کر بولی۔
"تم دونوں تو پاگل ہو بالکل ۔۔۔ داستان شروع نہیں ہوئی ختم ہونے والی ہے رانی صاحبہ تو راجا کا ہاتھ پکڑ کر کسی اور ہی جہاں پہنچ چکی ہیں۔”
اُس کے لمبے سیاہ بالوں کا سٹائلش جوڑا بناتے ہوئے ستارا نے بلند آواز میں اعلان کیا تھا ۔
"بس کردو تم تینوں۔۔۔ تم لوگوں کا دماغ اور زبان کتنی چلتی ہے توبہ۔”
جیون نے آنکھیں کھولے بغیر محبت بھرے انداز میں اُنھیں جھڑکا۔
"دلہن تم چپ رہو آج ہمیں موقع ملا ہے ہم تو چھیڑیں گے۔اور جب تک میں نہ کہوں آنکھیں نہ کھولنا ورنہ کوئی روپ چرا لے گا۔”
غزالہ نے اُس کے چہرے کا میک اپ مکمل کرکے اُسے آئینے کے سامنے بیٹھاتے ہوئے شرارت سے کہا تھا۔
کچھ دیر بعد اُن تینوں کے حکم پر اُس نے آنکھیں کھولیں تو خود کو پہچان نہ سکی۔ سرخ بھاری کامدار لباس میں اُس کا نازک وجود پھول میں خوشبو کی طرح قید تھا۔اُس کی چوڑی پیشانی کو روایتی جھومر ٹیکے نے ڈھانپ رکھا تھا تو گردن کو خاندانی کٹھ مالا نے ۔اُس کے دو نوں ہاتھوں میں کانچ کی لال چوڑیوں کے ساتھ سونے کے وہ موٹے موٹے کنگن بھی تھے جو ذکیہ بیگم کو اپنی شادی پر پہنائے گئے تھے ۔اُس کا سنگھار بڑی نفاست سے کیا گیا تھا۔وہ رشک سے اپنا مہارانیوں جیسا روپ آئینے میں دیکھ رہی تھی۔ اُن تینوں کی محنت نے اُس کے حُسن کو چار چاند لگا دیے تھے۔اپنے نین نقش کی خوبصورت اور منفرد ساخت دیکھ کر وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنی سکھیوں کو سراہنے لگی۔
"اب اپنے آپ کو خود نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا؟ کسی اور کو یہ موقع دے دو۔”
غزالہ اُسے کندھا مارتے ہوئے آئینے کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔
"تم نظر کی بات کرتی ہو کچھ لوگوں پر تو بجلی گرنے والی ہے۔”
ٖغزالہ کا ساتھ دینے کے لیے جھرنا نے بھی آنکھوں سے اشارے کیے۔
"ہٹو پرے تم دونوں ! دلہن کو مت ستاؤ۔جیون تم بہت سندر لگ رہی ہو،بس اب اِس موقعے پر ایک شئے کی کمی ہے۔”
ستارا اُن دونوں کو پیچھے کرتے ہوئے آئینے میں دیکھ کر بولی۔
"وہ کیا؟”
غزالہ اور جھرنا کے ساتھ جیون نے بھی استعجاب سے پوچھا۔
"اِس حویلی میں تمھاری سریلی آواز ہمیشہ گونجتی رہتی ہے ۔دوسروں کی شادیوں پر تم رنگ جما دیتی ہو۔آج اِس عشق کے لیے کچھ نہیں گاؤ گی۔”
ستارہ نے اُسے نظر کا ٹیکہ لگاتے ہوئے پرزور فرمائش کی تھی۔
"عشق کے لیے۔۔۔”
جیون اُس کے الفاظ دہراتے ہوئے شرما سی گئی۔
"ہاں عشق اور عشق والے کے لیے ۔۔۔۔”
اب کی بار اُن تینوں نے ہم آواز ہوکر کہا تھا۔
"نہیں مجھے شرم آتی ہے۔”
جیون نے آنکھیں جھکاتے ہوئے انکار کیا۔
"پلیز جیون۔۔۔پلیز جیون ۔۔۔ہمارے لیے نا سہی ۔۔۔کسی کی خاطر ہی سہی۔”
وہ تینوں بچوں کی طرح ضد کرنے لگی تھی۔
"اچھا بابا۔۔۔اچھا۔۔۔”
جیون نے ہنستے ہوئے ہتھیار پھینکے۔
"ذکیہ بیگم کا حکم ہے کہ دلہن کو باہر لایا جائے۔”
اچانک سے خادمہ نے بلند آواز میں آکر کہا تو وہ سب چونک گئیں۔ جیون کا د ل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔
"کیا وہ مجھ سے پہلے موجود ہوگا یا میرے بعد وہاں آئے گا؟”
ملازمہ کے جانے کے بعد وہ گھبرائے ہوئے انداز میں بولی تھی۔
"تمھاری آواز سن کر تو وہ تم سے پہلے وہاں آئے گا۔”
شوخ سی جھرنا نے فٹ سے جواب دیا تھا۔
"آج ایسے گاؤ جیون جیسے تمھیں صرف وہی سن رہا ہو۔”
ستارہ نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتے ہوئے اُس کا اعتماد بحال کیا۔
"بالکل آج بس اُسی کے لیے گاؤ۔”
غزالہ اُس کا زمین سے ٹکراتا بھاری لہنگا اٹھا کر چلتے ہوئے محبت سے کہنے لگی۔
تیرے عشق میں۔۔۔ ہائے۔۔۔ تیرے عشق میں
راکھ سے روکھی ۔۔۔کوئل سے کالی ۔۔۔
رات کٹے نہ ۔۔۔ ہجراں والی ۔۔۔
تیرے عشق میں ۔۔۔ہائے ۔۔۔ تیرے عشق میں
اپنے کمرے کی دہلیز پار کرتے ہی اُس نے اپنی آواز اور جذبات کو آزاد چھوڑ دیا۔
تیری جستجو کرتے رہے
مرتے رہے ۔۔۔ تیرے عشق میں
تیرے روبرو بیٹھے ہوئے
مرتے رہے ۔۔۔ تیرے عشق میں
تیرے روبرو۔۔۔تیری جستجو ۔۔۔
تیرے عشق میں۔۔۔ ہائے ۔۔۔تیرے عشق میں
بادل دُھنے۔۔۔موسم بُنے
صدیاں گنی۔۔۔لمحے چُنے
لمحے چُنے ۔۔۔موسم بُنے
کچھ گرم تھے۔۔۔کچھ گُنگُنے
تیرے عشق میں۔۔۔ بادل دُھنے۔۔۔موسم بُنے۔۔۔
تیرے عشق میں۔۔۔ ہائے ۔۔۔تیرے عشق میں
وہ سہج سہج کر قدم اُٹھاتی اپنی ہی دھن میں گاتی جاری تھی کہ اُس کی آواز سیف کی سماعتوں کو چھو گئی ۔وہ جانتا تھا جیون کس کے لیے گا رہی ہے ،مگر یہی الفاظ اُس کا دل بس جیون کے لیے گاتا تھا ۔وہ کئی بار خیالوں میں جیون کے روبرو بیٹھا تھا ۔۔۔وہ کئی بار خواب اور حقیقت میں اُس کے لیے مرا تھا۔۔۔اُس نے بادلوں سے اُس مورنی کے لیے بارشیں مانگی تھیں۔۔۔اُس نے کئی موسموں سے بس اُسی کے لیے ہی دوستی کی تھی ۔۔۔وہ کئی بار جیون کے پیچھے دوڑتے ہوئے لمحوں سے صدیوں میں داخل ہوا تھا۔ وہ بے قرار ہو کر اُٹھا اور اپنی زندگی کی آواز سے دور دوڑ پڑا ۔
تیرے عشق میں۔۔۔ تنہائیاں۔۔۔۔تنہائیاں ۔۔۔تیرے عشق میں
ہم نے بہت بہلائیاں۔۔۔تنہائیاں۔۔۔تیرے عشق میں۔۔۔
روح سے کبھی منوائیاں۔۔۔تنہائیاں۔۔۔تیرے عشق میں۔۔۔
مجھے ٹہو کر کوئی دن گیا
مجھے چھیڑ کر کوئی شب گئی
میں نے رکھ لی ساری آہٹیں
کب آئی تھی شب کب گئی
تیرے عشق میں۔۔۔کب دن گیا۔۔۔ شب کب گئی۔۔۔ تیرے عشق میں
تیرے عشق میں۔۔۔ ہائے ۔۔۔تیرے عشق میں
تیرے عشق میں۔۔۔
تیرے عشق میں۔۔۔
اُس نے گاتے ہوئے حویلی کے اندرونی حصے سے باہر قدم رکھا تو اُس کی آواز ذکیہ بیگم رقیہ ناز سمیت دیگر مہمانوں کے کانوں سے جا ٹکرائی۔ذکیہ بیگم نے بغیر کچھ کہے رقیہ ناز کی طرف دیکھا جن کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔
"دیکھا ذکیہ ! آخر اِس حویلی میں کسی کی محبت جیت گئی۔۔۔دیکھا ! تم نے جس بیٹے کو نفرت سیکھائی تھی اُس نے ایک کامیاب محبت کی بنیاد رکھ دی۔تمھارا بیٹا تمھاری طرح نہیں ہے اُس نے جیون کا دل نہیں توڑا۔تمھارے بیٹے نے اپنے عشق کا سر نہیں جھکنے دیا وہی عشق جو جیون کے سُروں میں غرور سے جھوم رہا ہے۔”
رقیہ ناز نے بن بولے اپنے تاثرات سے بہت کچھ کہہ دیا تھا۔ذکیہ بیگم نے دوسری طرف منہ پھیر لیا جیسے وہ رقیہ ناز کی ساری باتیں سمجھ گئی ہوں۔
راکھ سے روکھی ۔۔۔کوئل سے کالی
رات کٹے نہ ۔۔۔ ہجراں والی
دل صوفی یہ تھا
ہم چل دیے جہاں لے چلا
تیرے عشق میں ہم چل دیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے عشق میں۔۔۔۔ہائے ۔۔۔تیرے عشق میں
وہ سٹیج تک پہنچ چکی تھی مگر اُس کا استقبال کرنے کے لیے جازم وہاں نہیں تھا ۔اگر جازم وہاں نہیں تھا تو وہ کہاں تھا۔
"گھٹیا آدمی تو یہاں چھپ کر سوگ منا رہا ہے ۔آج تیرے چھپنے کا دن نہیں ہے آج تیری زندگی کا سب سے بڑا دن ہے ۔”
اُس نے نفرت سے غرّا کر سیف کا گریبان پکڑا۔پوری حویلی میں ڈھونڈنے کے بعد وہ اُسے باغ کے ایک تاریک کونے میں بیٹھا ہوا نظر آگیا تھا۔
"اُٹھ ۔۔۔اور چل کر دیکھ۔۔۔وہ آگ جو تو نے لگائی ہے ۔۔۔اُس سنہری آگ کا نظارہ کتنا دلکش ہے۔”
وہ اُسے گریبان سے پکڑ کر وہاں لے جا رہا تھا جہاں سب اُس کے منتظر تھے۔
"چھوڑ دو مجھے ۔۔۔چھوڑ دو۔۔۔میں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔نہیں دیکھ سکتا۔”
سیف نے تڑپتے ہوئے بار بار التجا کی ،مگر جازم پر کوئی اثر نہ ہوا۔
وہ بے رحمی سے سیف کو گھسیٹتا ہوا باغ سے حویلی کے پچھلے حصے کا راستہ طے کرنے کے بعد روشنیوں اور پھولوں سے سجے حویلی کے بڑے صحن میں داخل ہوگیا ۔اب اُس کے پاؤں کے نیچے زمین کی جگہ قالین نے لے لی تھی۔ اُس کی عجیب حرکت دیکھ کر نا صرف مہمان بلکہ جیون بھی حیران و پریشان ہوگئی ۔ سب کو نظر انداز کرتا۔۔۔کرسیوں کو پیچھے دھکیلتا ۔۔۔مخملی قالین پر رعونت سے چلتے ہوئے وہ سٹیج کے قریب پہنچ گیا ۔
"بند کرو یہ گیت گانے۔”
وہ بارعب آواز میں چّلا یا تو ہر طرف خاموشی چھا گئی۔
اُس نے اپنی نگاہیں جیون کے چہرے پر گاڑ دیں۔جیون کی آنکھوں میں سوال تھے ،بے چینی تھی تو اُس کی آنکھوں میں بیگانگی اور جنون۔
"جبّار ۔۔۔جبّار۔۔۔ ”
اُس نے اپنے خاص خادم کو بلند آواز میں چیخ کر پکارا۔
"جی ۔۔۔چھوٹے صاحب!”
خادم فوراً حاضر ہو گیا تھا۔
"قاضی صاحب کو بلاؤ۔۔۔سیف اور جیون کے نکاح میں اب اور دیر نہیں کی جاسکتی۔”
اُس کے الفاظ ایسے تھے جیسے کوئی آتش فشاں پھٹتا ہے ۔۔۔۔پوری محفل میں ہلچل مچ گئی۔۔۔رقیہ ناز اور ذکیہ بیگم سناٹے میں آگئی تھیں تو سیف اور جیون کے چہرے دھواں دھواں ہو چکے تھے۔۔۔۔
ختم شد

حمیرا فضا

 

 

 

 

 

 

جواب چھوڑیں