پاکستان سپر لیگ اور اسلام آباد یونائیٹد کی کامیابی

بے ساختہ : ڈاکٹر کاشف رفیق

پاکستان سپر لیگ کا پہلا ایڈیشن بالآخر اپنے اختتام کو پہنچا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایونٹ توقعات سے زیادہ کامیاب ثابت ہوا۔اس ایونٹ کا انعقاد ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے بہت بڑا چیلنج تھا کیوں کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والی لیگز معیار اور شائقین کی دلچسپی کے حوالے سے کچھ زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہو سکی تھیں۔ سری لنکا میں ہونے والی لیگ ناکامی کے بعد بند کر دی گئی تھی۔ اسی طرح بنگلہ دیش پریمیر لیگ بھی تنازعات کا شکار رہی اور اس کا معیار بھی اتنا اچھا نہیں کہ دنیا بھر کے کرکٹ شائقین اس میں دلچسپی لیں۔انڈین پریمیر لیگ جو کہ واحد بڑی لیگ ہے وہ بھی شائقین میں اپنی دلچسپی کھوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں ایک نئی کرکٹ لیگ کا انعقاد اور وہ بھی اپنے ملک کے میدانوں سے باہر ایک بہت بڑا رسک تھا۔تاہم پی سی بی اور بالخصوص نجم سیٹھی کو کریڈٹ دینا چاہیے کہ نہ صرف انھوں نے یہ رسک لیا، اچھے سپانسرز حاصل کیے اور ٹی ٹوینٹی کے نامور انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو اس لیگ کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔جہاں ویوین رچرڈز، کیون پیٹرسن، کرس گیل، ڈیوین سمتھ، ڈیوین براوو، آندرے رسل،شین واٹسن،روی بوپارا، شان ٹیٹ، لیوک رائٹ، بریڈ ہیڈن، شکیب الحسن، تمیم اقبال، محمد نبی، ڈیرن سیمی،ڈین جونز، اینڈی فلاور جیسے بڑے انٹرنیشنل ناموں کی شمولیت نے اس لیگ کو چار چاند لگا دیے وہیں پاکستانی کھلاڑیوں اور لیگ سے وابستہ اداروں، میڈیا ہائوسز اور شائقین کرکٹ کا جذباتی لگاؤ بھی لیگ کی کامیابی کی ضمانت بنا۔ اگر یہ لیگ پاکستان کے میدانوں میں ہوتی تو یقینی طور پر سٹیڈیم میں زیادہ بڑی تعداد میں شائقین نظر آتے مگر سکیورٹی خدشات کے باعث پاکستان میں لیگ کا انعقاد ممکن نہیں تھا۔ اگر کھیل کے معیار کی بات کی جائے تو بلاشبہ اس لیگ کا معیار دنیا میں ہونے والی مختلف لیگز سے کافی بہتر تھا۔ اس بات کا اظہار کیون پیٹرسن، روی بوپارا ، سر ویوین رچرڈز اور ڈیرن سیمی نے بھی کیا۔اگر ٹورنامنٹ میں مختلف ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو لاہور قلندرز اور کراچی کنگز جو دو بڑی ٹیمیں تھیں ان کی کارکردگی بہت مایوس کن رہی۔ ٹیموں کا انتخاب درست تھا اور نہ وہ اچھا کمبی نیشن بنانے میں کامیاب ہو سکیں۔ پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈیٹرز نے راؤنڈ میچز میں سب سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔ پشاور زلمی شاہدآفریدی کی وجہ سے پاکستانی شائقین میں سب سے زیادہ مقبول ٹیم تھی جبکہ سب سے سستی اور کم ریٹ کیے جانے والی ٹیم کوئٹہ گلیڈئیرز نے اپنی کارکردگی سے دنیا بھر میں شائقین کے دل جیت لیے۔مگر فائنل میں کامیابی کا تاج مصباح الحق کی قیادت میں کھیلنے والی ٹیم اسلام آباد یونائٹڈ کے سر رہا۔ ابتدا میں مشکلات کا شکار نظر آنے والی ٹیم اسلام آباد یونائٹڈ صحیح وقت پر فارم میں آئی اور بہترین کمبی نیشن بنانے میں کامیاب ہوئی۔ اس کی جیت کا کریڈٹ تمام کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ بالخصوص کپتان مصباح الحق اور کوچز وسیم اکرم اور ڈین جونز کو جاتا ہے۔مصباح الحق جنھیں یہ کہہ کر پاکستان کی قومی ٹی ٹوینٹی ٹیم سے ڈراپ کیا گیا تھا کہ ان کی عمر زیادہ ہے اور وہ ٹی ٹوینٹی کرکٹ کے لیے موزوں نہیں ایک بار پھر سرخرو ہوئے۔ وہ نہ صرف پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان ہیں بلکہ سوئی گیس اور فیصل آباد کی ٹیموں کو بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں بحیثیت کپتان متعدد اعزازات دلوا چکے ہیں۔ اور اب پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائٹڈ کی کامیابی نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ مصباح الحق ایک ذہین کپتان اور آئیڈیل لیڈر ہیں۔ اب بات فائنل میچ کی ہو جائے تو ورکنگ ڈے پر سٹیڈیم کا تماشائیوں سے پر ہونا اور ان کا جوش و خروش پاکستان سپر لیگ کی کامیابی پر مہر ثبت کرتا ہے۔ فائنل میچ میں کمارا سنگا کارا، احمد شہزاد، ڈیوین سمتھ اور بریڈ ہیڈن نے شاندار بیٹنگ سے شائقین کو خوب محظوظ کیا ۔ڈیوین سمتھ جو کہ اس سے پہلے چیمپینز لیگ اور آئی پی ایل میں اپنی ٹیموں کو اہم میچز میں فتوحات دلوا چکے ہیں اپنے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان سپر لیگ فائنل میچ کے بھی ہیرو ٹھہرے اور مین آف دی میچ قرار پائے۔ ٹورنامنٹ میں اگر مختلف کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو عمر اکمل، آندرے رسل، روی بوپارا، محمد نواز، وہاب ریاض، محمد اصغر، تمیم اقبال، محمد سمیع، شرجیل خان،احمد شہزاد ،خالد لطیف، بریڈ ہیڈن نمایاں رہے۔ جہاں یہ لیگ کامیاب رہی وہیں اس میں کچھ خامیاں اور کوہتایاں بھی دیکھنے کو ملیں۔ واحد ورلڈ ٹی ٹوینٹی چیمپئین کپتان یونس خان کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔ نہ تو ان کو کسی ٹیم کا حصہ بنایا گیا اور نہ انھیں فائنل میچ دیکھنے کے لیے مدعو کیا گیا۔ اسی طرح دیگر سابق لیجنڈز جن میں جاید میانداد، سلیم ملک، راشد لطیف، حنیف محمد،عبدالقادر،ماجد خان، سعید انور، عامر سہیل،مشتاق محمد ، سرفراز نواز ،ثقلین مشتاق، محمد یوسف اور کئی دیگر کھلاڑی شامل ہیں اگر انھیں فائنل میچ دیکھنے کے لیے مدعو کیا جاتا تو یہ ایک بہترین جیسچر ہوتا۔ امید ہے کہ آنے والے سالوں میں پی سی بی ان خامیوں کو بہتر کرنے کی کوشش کرے گا۔

تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.