اقتصادی راہداری اور ہماری ذمہ داری :ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

اقتصادی راہداری اور ہماری ذمہ داری

تنقید ہماری قوم کا مزاج بن چکی ہے۔ ہماری عادت بن گئی ہے کہ ہر اچھے کام میں بھی کیڑے نکالنا ہماری عادت بن گئی ہے۔ خواہ وہ کیڑے ابریشم ہی کیوں ہی تیار کرتے ہوں۔ مگر ہماری بینائی میں ایک ایسا عیب پوشیدہ ہے جو ہمیں خود نظر نہیں آتا لیکن اس کو ہم دوسروں میں نہ صرف دیکھتے ہیں بلکہ عینک لگا کر تلاش کرنے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ گزشتہ روز ایک مقامی ہوٹل میں "پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی مختلف جہتیں” کے حوالے سے شاندار، کامیاب اور موثر قومی سیمینار ہوا جس میں وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کا کلیدی خطبہ تھا۔ انہوں نے اس منصوبے کے ہر پہلو پر سیر حاصل گفتگو کی اور پرنٹ اور برقی ذرائع ابلاغ کے نمائیندوں کو بتایا کہ یہ منصوبہ پاک چین دوستی میں مزید پائیداری لائے گا۔ ویسے تو ہم نصف صدی سے سنتے چلے آ رہے ہیں کہ پاک چین دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے۔ مگر حقیقی دوستی کے فیض کے اسباب اب پیدا ہوئے ہیں۔ اور چاروں صوبوں کے عوام کے لئے خوشحالی اور تعمیر و ترقی کے کئی دروازے واء ہوئے ہیں۔  بعض حلقوں کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری پر تحفظات تھے جو وزیر اعظم نواز شریف دور کر چکے ہیں یہ تاثربے بنیاد ہے کہ اس منصوبے سے پنجاب سب سے زیادہ فائدہ لے رہا ہے،پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ترقی کا روڈ میپ ہے اسے متنازعہ بنانے سے روکا جائے ،  موجودہ حکومت کے اس فلیگ شپ پراجیکٹ سے ملک کی تمام اکائیاں مستفیدہوں گی،  اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ اڑھائی سال کی مدت کیساتھ ترجیحی بنیادوں پر2018ء میں تعمیر کیا جائیگا،اگر ضرورت پڑی تو اس الائنمنٹ کیلئے مختص کی گئی 40 ارب روپے کی رقم (سی ایف وائی) میں اضافہ کردیا جائیگا،صنعتی زون اورانڈسٹریل زون بنانے سے پہلے توانائی کے بحران پر قابو پانا بہت ضروری ہے، صنعتی زون بنانے کا وقت آیا تو تمام صوبوں کی مشاورت سے معاملات کو حل کیا جائیگا۔ ہمیں اس منصوبے کی تکمیل تک ہی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے اتحاد اور اتفاق کا ثبوت دینا ہو گا۔ پائینا اور یو ایم ٹی کے اشتراک سے یہ قومی سیمینار وقت کی اذان ثابت ہوا ، پائینا کے سیکریٹری جنرل الطاف حسن قریشی نے سیمینار کی غرض و غایت بیان کی۔ ان کے ابتدائیہ میں قوم کا درد اور اس عظیم منصوبے کی افادیت کے کئی ابواب موجود تھے۔سلطنتِ عمان کے سابق اعزازی کونسلر برائے سرمایہ کاری جاوید نواز نے گوادر کی تاریخی حیثیت اور اہمیت کو جس انداز میں بیان کیا وہ معلومات کا ایک خزانہ تھا، چینی کونسلر جنرل جناب یو بورن کی تقریر جو چینی زبان میں تھی، اس میں انھوں نے چین کی ترجیحات کا کھل کر اظہار کیا اور پاک چین دوستی کی اہمیت اور گہرے تعلقات کا اظہار کیا اور کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت ہماری ترقی اور کامرانی کے سامنے رکاوٹیں کھڑی نہیں کر سکتی۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے بلوچستان میں ترقی کی شاہراہ اسی اقتصادی راہداری سے مشروط کی اور بلوچستان کے عوام کے نیک جذبات کی ترجمانی کی۔ خطبہ صدارت میں جسٹس (ر)اعجاز احمد چودھری نے اقتصادی راہداری کے حوالے سے قومی سیمینار انعقاد پذیر کرنے والے دونوں اداروں، پائینا اور یو ایم ٹی کی اس کوشش کو سراہا اور مدیر اُردو ڈائجسٹ الطاف حسن قریشی کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ اُردو ڈائجسٹ نے ہمیشہ ملتِ پاکستانیہ کی درست راہنمائی کا فرض ادا کیا ہے۔اور صحافت میں راہنما اصول مرتب کئے ہیں۔ ڈاکٹر حسن صہیب مراد، ریکٹر یو ایم ٹی کے حرفِ تشکر میں بھی پوری تقریر پنہاں تھی۔ انھوں نے اس قومی منصوبے کی افادیت اور اہمیت پر بات کی اور اردو ڈائجسٹ کی اصلاحی تحریروں پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ابتدائی زندگی میں بھی اور اردو ڈائجسٹ کے قاری تھے اور آج بھی ان کی میز پر اردو ڈائجسٹ موجود ہے۔ اور میَں اس سے راہنمائی حاصل کرتا ہوں۔ یہ ا یک ایسے مدرسے کی مانند ہے جس میں تعلیم و تربیت کے اعلیٰ اصول ِ حرف اول ہوں۔ آخر میں پرنٹ میڈیا، کالم نگاروں اور برقی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے سوالات کے انبار لگا دیئے جن کا بڑی حوصلہ مندی اور خندہ دلی سے احسن اقبال نے جوا ب دیئے۔ہر ایک سوال کا انھوںنےاطمینان افروز جواب دیا اور کہا کہ اقتصادی راہداری نہ صرف ایک سڑک ہوگی بلکہ یہ پاک چین دوستی اور تجارت کے فروغ کی کتاب کا دیباچہ ہو گی۔ چھیالیس ارب ڈالر کے ابتدائی اخراجات کے تخمینہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ پاک چین تعلقات میں پائیداری بھی لائے گا اور خوشحالی و تعمیر و ترقی کےنئے نئے منصوبے بھی سامنے آئیں گے۔ پائینا کے سیکریٹری جنرل الطاف حسن قریشی کی یہ کاوش اپنے وطنِ عزیز کی خوشحالی کا سنگِ میل ثابت ہو گی۔اب ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ اس کے روشن پہلوؤں کو سامنے رکھ کے اس کی افادیت اجاگر کریں نہ کہ ہم تاریکی کو ہی کوستے رہیں۔ نقطہ چینی بہت آسان ہے اور چینیوں پر تو ویسے ہی نقطہ چینی کا لفظ دوسری مطالب و معنی دیتا ہے۔ چینی ہماری منزل ہیں اور ہم نے اس نقطہ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس قومی سیمینار میں مجیب الرحمٰن شامی، منو بھائی، قیوم نظامی، حفیظ اللہ نیازی، سجاد میر، فرحت سہیل گوندی، عطا الرحمٰن، ارشاد عارف، کامران الطاف، نواز کھرل، احمد سہیل نصراللہ، فاطمہ احمد، طیب قریشی، اسد اللہ غالب، غلام حسین، ڈاکٹر امجد طفیل سمیت دیگر سینئر صحافیوں اور کالم نگاروں نے شرکت کی۔میری اپنے قبیلے کے قلم کاروں سے بھی استدعا ہےکہ ملکی معاملات میں بین الاقوامی حوالے سے بہت احتیاط کریں۔ ملک کا نام روشن رکھنے میں اپنے اعلیٰ اخلاقی کردار کا ثبوت دیں۔ تنقید برائے تنقید مثبت سوچ کو تخلیق نہیں کرتی۔ اس لئے ہماری سوچوں کے دھارے مثبت ماحول کی تخلیق میں سنگِ میل ثابت ہونگے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ منصوبہ بھی کالا باغ ڈیم جیسا منصوبہ ثابت ہو۔ اگر ہم اپنے ہی ملک کے بارے میں مثبت سوچ کو فروغ نہیں دیں گے تو عالمی رائے عامہ بھی ہمارے بارے میں اچھی رائے قائم نہیں کرے گی۔اب تو وزیرِ اعظم پاکستان نے اعتراف کیا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی نیک نامی میں اضافہ ہوا ہے اور یہ مثبت رائے ہموار کرنے میں ہمارے کالم نگاروں کا بھی کردار ہے۔ خاص طور پہ اقتصادی راہداری پاک چین دوستی کے لئے بہت بڑا امتحان ہے۔ یہ امتحان کئی بڑی طاقتیں ہمیں آسانی سے پاس نہیں کرنے دیں گی۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس منصوبے کی تکمیل تک پوری یکسوئی کے ساتھ اجتماعی سوچ کو فروغ دے کر اتحاد و یگانگت کا ثبوت دیں۔ اقتصادی راہداری کے حوالے سے ہماری یہی بڑی ذمہ داری ہے۔

دل کی بات :ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.