”آزاد کشمیر کا افسانہ نگار توجہ کاطالب“ ڈاکٹر سید …

”آزاد کشمیر کا افسانہ نگار توجہ کاطالب“
ڈاکٹر سید فہیم کاظمی

ایک ادیب یا قلمکار قوم کے مزاج کا معمار ہوتا ہے کسی قوم کا ادب اس قوم کے مزاج ، فکر اور رحجانات کی تعمیر کرتا ہے بڑے بڑے ادیبوں نے قوموں کی فکر کی کایا پلٹ دی۔ قومی مزاج کا رخ تبدیل کر دیا۔ مثلاً مولانا الطاف حسین حالی اور علامہ محمداقبال۔ علامہ اقبال تو قوم کے مزاج پر اس قدر اثر انداز ہوئے کہ آج کوئی تقریر ان کے شعر کے بغیر پھیکی سی محسو س ہوتی ہے۔ جو ولولہ ہزاروں الفاظ پیدا نہیں کر سکتے ، وہ علامہ اقبال کا ایک شعر پیدا کردیتا ہے
اسی طرح ایک ادیب کی تخلیق قوم کے مزاج پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ایک بڑا ادیب کاقلم قوم کے مزاج میں تبدیلی پیدا کردیتا ہے اس کے فن پارے قوم کے اندر اخذو انتخاب کی ایسی بصیرت پیدا کر دیتے ہیں کہ قوم کی فکرکے دھارے درست خطوط پر بہنے لگتے ہیں ا ور منفی طرز عمل کے مضمرات و نقصانات ایک ادیب کے ناول یا افسانے سے کھل کر سامنے آجاتے ہیں

اگر ادیب کے قلم میں تاثیر کی طاقت اور جوہر ہے تو قوم اس کی بات کو بغیر کسی مزاحمتی عمل کے قبول کر لیتی ہے
یہی وجہ ہے کہ تمام قومیں اپنے دانشوروں، محققین اور ادیبوں کی قدر کرتی ہیں اور ان کی فلاح و بہبود سے غافل نہیں رہتیں
ریاست آزادکشمیر کو جہاں قدرت نے فطرتی حسن سے مالا مال کیا ہے، وہا ںاس ریاست کے باشندوں کو بھی خیالات و فکر اور تصورات و تخیلات کی بیش بہا دولت سے نوازرکھا ہے۔ گو کہ ریاست کشمیر میں نثر لکھنے والے بہت کم ہیں اور ریاست کشمیر کے کسی شخص نے افسانوی نثر کے حوالے سے عالمی سطح پر پذیرائی نہیں پائی ، لیکن آزادکشمیر کے دارالخلافہ مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے افسانہ نگار سید نوشاد کاظمی کا نام اردو ادب کی تاریخ میں ایک معروف حیثیت رکھتا ہے
ڈاکٹر عبدالکریم سربراہ شعبہ اردو کی تحقیق کے مطابق سید نوشاد کاظمی ریاست آزادکشمیر کے محدودے چند افسانہ نگاروں میں شامل ہیں، جن کے افسانوں کی تعداد چالیس سے زائد ہے اور ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ ”مسافرت“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے اوران کا یہ قلمی سفر جاری ہے۔موصوف اردو ادب کی تاریخ میں برصغیر پاک و ہند کے پچاس معروف افسانہ نگاروں میں شامل ہیں۔ اس امتیاز کے باعث انہیں پاکستان کی ایک معروف بین الاقوامی ادبی تنظیم ”جگنو انٹر نیشنل لاہور“ کی طرف سے بہترین ادبی خدمات پر ایوارڈ اور حسن کارکردگی کا سرٹیفکیٹ بھی مل چکا ہے
”جگنو انٹر نیشنل “ میں انگلینڈ ، انڈیا، دوبئی، امریکہ ،بھارت ، جرمنی اوردیگر ملکوں کے ادیب اور شعراءبھی شامل ہیں۔ ریاست کی یہ اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے نابغہ روزگار قلمکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے ، لیکن ہمارا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ سید نوشاد کاظمی جو نظامت اعلیٰ اوقاف میں ملازم بھی ہیں ،کو سیکرٹری اوقاف کی ایماءپر ملازمت سے بغیر کسی مراعات سے فارغ کیا جارہا ہے
ان پر افسانے لکھنے کی پاداش پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ایک افسانہ جو مورخہ 29مئی 2017 کو مظفرآباد آزادکشمیر کے ا ےک اخبار میں شائع ہوا ۔ انہوں نے کیوں لکھا اور اسی افسانہ لکھنے کی پاداش میں ان کے خلاف سپیشل پاور ایکٹ 2001 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے اور انکوائری کا عمل شروع ہے بادی النظر میں یہ انکوائری بھی غیر قانونی ہے۔ افسانہ محض فن پارہ ہوتا ہے، جس کے لکھنے کی سروس قواعدمیں بھی اجازت حاصل ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ محکمہ انہیں ایک نامورقلمکار کی حیثیت سے عزت دیتا، مراعات دیتا اور انہیں حسب لیاقت گریڈ میں تعینات کرتا ۔ بجائے اس کے انہیں الٹا سیکرٹری اوقاف کی ایماءپر ہراساں و پریشان کیا جا رہا ہے۔
ہم زیر نظر سطور کے ذریعے وزیراعظم آزادکشمیر سے ملتمس ہیں کہ وہ اس معاملہ پر خصوصی توجہ دیں کیونکہ محکمہ اوقاف آزادکشمیر براہ راست ان کے پاس ہے اور ریاست کا سربراہ اگر ایسے نامو رقلمکار کو،جوعالمی سطح پر پہچان رکھتاہے اور ریاست کے لیے افتخار کا باعث ہے۔
اگر ان کے ماتحت ایک سیکرٹری کی وجہ سے ایسا قلمکار معاشی عدم تحفظ کا شکار ہوتا ہے تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا۔ ایک معروف افسانہ نگار وزیراعظم آزادکشمیر کی خصوصی توجہ کاطالب ہے کہ وہ اپنے ماتحت سیکرٹری کو پابند کریں کہ وہ ایک قلمکار کا معاشی قتل نہ کریں، جس کی اپ گریڈیشن کے معاملہ میں بھی سیکرٹری موصوف نے رکاﺅٹ کھڑی کر رکھی ہے، جس پر مجبوراً برصغیر پاک و ہند کے اس معروف افسانہ نگار کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنا پڑا اور اب سیکرٹری اوقاف نہیں معلوم کیوں اس قلمکار کے خلاف بلاجواز اور قانون کے مغائر کارروائی کے لیے اپنے ماتحت ڈائریکٹوریٹ پر دباﺅ ڈال رہے ہیں۔
اگر ریاست کے وزیراعظم اپنے ماتحت سیکرٹری کو ان عزائم سے باز نہیں رکھ پاتے تو مسقبل میں جب ریاست آزادکشمیر کی ادبی تاریخ مرتب کی جائے گی تو ان کا نام ایک قلمکار کش وزیراعظم کے طور پر سامنے آئے گا…….کسی بھی شخص کی فطرت تبدیل نہیں کی جا سکتی اور ایک ادیب اپنی دھن میں مگن رہتا ہے، خواہ اس کا ذریعہ روزگار چھین لیا جائے یا اور کسی طریقہ سے اسے ہراساں کیا جائے، لیکن ایک سچے قلمکار کے قلم کو کوئی لالچ ، ڈر ، دھمکی زیر نہیں کر سکتی۔ایسے ہی قلمکار اپنی زندگیاں ”تیاگ“ کر قوموں کی فکری ، عقلی، نظریاتی آبیاری اپنے خون جگر سے کرتے ہیں

جواب چھوڑیں