عورت

عورت اپنا آپ بچائے تب بھی مجرم ہوتی ہے

عورت اپنا آپ گنوائے تب بھی مجرم ہوتی ہے

شادی کی پہلی رات جب ایک لڑکی اپنے گھر اپنے ماں باپ بچپن کی سکھیوں اپنا کمرہ اپنا بستر سب کسی ایک فرد کے لیۓ چھوڑ رہی ہوتی ہے تو اس کی اس مرد سے کچھ توقعات ہوتی ہیں جن کے پورے ہونے پر ہی وہ مرد کو خوشی اور گھر کا سکون دے سکتی ہے.

ابھی روشن ہوا جاتا ہے رستہ

وہ دیکھو ایک عورت آ رہی ہے

چونکہ لڑکی ایک یکسر علیحدہ ماحول سے آئی ہوتی ہے اس نۓ ماحول سے اس کو آشنا کرنےکے لیۓ مرد پر یہ لازم ہوتا ہے کہ وہ اس لڑکی سے نرمی اور محبت کا سلوک کرے ۔ ہمارے معاشرے میں ایک غلط رواج ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ پہلے دن ہی بیوی کو اپنے رعب میں لے لینا چاہیے تاکہ آئندہ عمر بھی وہ آپ سے ڈر کر گزارے.

عورتوں کی آنکھوں پر کالے کالے چشمے تھے سب کی سب برہنہ تھیں

زاہدوں نے جب دیکھا ساحلوں کا یہ منظر لکھ دیا گناہوں میں

بعض مرد عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں اور ان کے لیۓ بیوی صرف جسمانی ضرورت کی تکمیل کا ایک وسیلہ ہوتی ہے ۔ اسی سبب ایسے لوگ شادی کو بیوی سے جسمانی تعلق قائم کرنے کا ایک اجازت نامہ تصور کرتے ہیں اور ان کا پہلا مقصد ہی صرف اور صرف جنسی تعلق قائم کرنا ہوتا ہے ۔

اگر بیوی اس تعلق کے لیۓ فوری طور پڑ ذہنی طور پر تیار نہ ہو تو اس کو اس عورت کی فطری شرم و حیا کے بجاۓ نا فرمانی سے تعبیر کرتے ہوۓ اس کی بے عزتی کر ڈالتے ہیں جب کہ حقیقی معنوں میں کسی بھی عورت کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ مرد کی جانب سے ملنے والی عزت اور احترام ہی کی ہوتی ہے ۔

دیکھ کر شاعر نے اس کو نکتۂ حکمت کہا

اور بے سوچے زمانہ نے اسے عورت کہا

جس طرح شادی کی پہلی رات مرد کو ازدواجی تعلق قائم کرنے کی جلدی ہوتی ہے اسی طرح ایک عورت کو اپنے جیون ساتھی کے ساتھ کچھ ایسے معاملات بھی طے کرنے کی خواہشمند ہوتی ہے جس کا تعلق مستقبل سے ہوتا ہے وہ اس بات کی خواہشمند ہوتی ہے کہ اس کا جیون ساتھی اس کا ہاتھ تھام کر اس کے ساتھ آنے والی زندگی کی پلاننگ کرے

کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو

سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں

شادی کے موقعے پر ہر عورت اپنے شوہر کے لیۓ سجتی اور سنورتی ہے اور اس بات کی متمنی ہوتی ہے کہ اس کا شوہر اس کو دیکھے گا اور اس کی تعریف بھی کرۓ گا اور اس کو کوئی ایسا تحفہ بھی دے گا جو کہ اس کو ساری عمر شادی کی پہلی رات کی یاد دلاتا رہے گا

عورت کی شادی کی پہلی رات کے حوالے سے ترجیحات مردوں سے یکسر مختلف ہوتی ہیں مگر یہ مردوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف عورتوں کی ان خواہشات کا احترام کریں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کو ایسا مضبوط سہارا بھی فراہم کریں جس کی بنیاد پر وہ آئندہ زندگی کا آغاز محبت اور لگن سے کر سکیں

Leave your vote

1 point
Upvote Downvote

Total votes: 1

Upvotes: 1

Upvotes percentage: 100.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…